بات کرنے کا سلیقہ نہیں نادانوں کو

بات کرنے کا سلیقہ نہیں نادانوں کو

پاکستانی تاریخ دان ڈاکٹر مبارک علی کی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی ہے جس میں موصوف ’’اقبال کے تضادات‘‘ عنوان سے اظہار خیال فرما رہے ہیں اقبال کے ارتقائی سفر کو تضادات فکر اقبال گردان رہے ہیں فرماتے ہیں کہ اقبال، لینن اور مارکس کی تعریف بھی کرتے ہیں اور’’کیا ڈرائیں گے مجھے یہ اشتراکی کوچہ گرد‘‘ بھی اُنہی کا مصرعہ ہے گویا یہ فکری تضاد ہے مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ علامہ محمد اقبال نے کب دعویٰ کیا کہ وہ اشتراکی تھے علامہ اقبال بنیادی طور پر جاگیر داری اور سرمایہ داری کو قرآنی فکر کے خلاف سمجھتے تھے۔ وہ ’’قُل العفو‘‘کے قرآنی نظام اقتصادیات کے قائل تھے انہوں نے ہر اُس تحریک اور انقلاب کی حمایت کی جس نے روایتی جمود اور استعماری نظام کی مخالفت کی ڈاکٹر اقبال انقلابی تھے وہ اشتراکی نہیں تھے،۔ ڈاکٹر مبارک علی کو علامہ اقبال کی اُردو شاعری پر بھی اعتراض ہے فرماتے ہیں اقبال کی مادری زبان پنجابی تھی اُنہوں نے پنجابی زبان میں شاعری کیوں نہ کی؟ مجھے ڈاکٹر مبارک علی کی معلومات پرحیرت ہوتی ہے کہ ہندوستان میں علمی و ادبی زبان فارسی تھی اور پھر عوامی سطح پر اردو زبان کا طوطی بولتا تھا اور اس حقیقت سے ہمارے تاریخ دان صاحب بے خبر ہیں۔ ڈاکٹر علامہ اقبال سیاسی اور صوبائی تعصب کا شکار نہ تھے انہیں اپنے پیغام کو دنیائے اسلام تک براہ راست پہنچانے کیلئے فارسی زبان کا سہارا لینا پڑا۔ ڈاکٹر مبارک صاحب کو امیر خسرو، میر تقی میر، بیدل، غنی کاشمیری اور غالب دہلوی کے فارسی زبان میں شاعری کرنے پر اعتراض نہیں بلکہ ان حضرات میں سے کسی ایک کی بھی’’مادری‘‘ زبان فارسی نہ تھی تو پھر اُنھیں علامہ اقبال کے اُردو اور فارسی زبانوں میں شاعری کرنے پر کیوں اعتراض ہے۔ چند سال قبل ایک عالمی کانفرنس میں مجھے ڈاکٹر جاوید اقبال کے ساتھ ایران جانے کا اتفاق ہوا‘ ایرانی عوام اور دانشوروں نے ڈاکٹر جاوید اقبال کی جو پذیرائی کی وہ الفاظ میں بیان نہیں کی جا سکتی، یہ محبت اور عقیدت فرزند اقبال سے صرف اور صرف ڈاکٹر اقبال کی نسبت سے تھی۔ ابھی چند روز قبل مجھے اسلام آباد میں تاجکستان کے سفیر شیر علی جانو نوف بتا رہے تھے کہ علامہ اقبال سے تاجکستان کے لوگ بے پناہ عقیدت رکھتے ہیں۔ پاکستانی تاریخ دان یہ بھی فرماتے ہیں کہ علامہ اقبال متکلم تھے وہ فلسفی نہیں تھے، متکلم علم الکلام کے ماہر کو کہتے ہیں متکلم وہ ہوتا جو اپنے مذہبی عقائد کے ثبوت اور اثبات کیلئے دلائل تلاش کرتا ہے اور اُن عقائد کو ثابت کرنے کیلئے عقلیت کا سہارا لیتا ہے ہندوستان میں شاہ ولی اﷲ دہلوی اور شبلی نعمانی کو متکلم کہا جاسکتا ہے لیکن علامہ اقبال کا معاملہ جدا ہے علامہ اقبال نے جہان علمی و عقلی سطح پر دین اسلام کی حقانیت پر روشنی ڈالی ہے وہاں ایک فلسفی کی حیثیت میں اپنی شاعری اور فلسفہ خودی کے ذریعے غلامی کے بتوں کو بھی پاش پاش کیا ہے اقبال کا فلسفہ عشق، فلسفہ آزادی اور فلسفہ مساوات وہ روشن قندیلیں ہیں جنہوں نے غلاموں کو آزادی کا درس دیا اور عروق مردہ میں زندگی کی رمق پیدا کر دی۔ ابن خلدوں نے مقدمہ ابن خلدون میں تاریخ کے تجزیے کیلئے غیر جانبداری کا اصول مقرر کیا ہے، اگر تاریخ دان تعصب سے حقائق کا تجزیہ کریگا تو وہ تاریخ کو مسخ کر رہا ہوتا ہے، تعصب تاریخ دان کیلئے فردوسی کا ایک مصرع ہی پیش کیا جا سکتا ہے’’تفو بر تو اے چرخ گرداں تفو‘‘۔ ڈاکٹر علامہ اقبال مصور پاکستان تھے آپ نے اپنے اشعار اور افکار کی روشنی میں پاکستان کو ایک اسلامی جمہوری فلاحی ریاست کے طور پر پیش کیا قائداعظم سے ملاقاتوں اور خطوط کے ذریعے آنیوالے دور کا نقشہ کھنیچا اور مساوات محمدی پر نظام اسلام کی بنیاد استوار کی۔ ’’پنجاب کے دہقان سے‘‘ کے عنوان سے نظم میں علامہ اقبال فرماتے ہیں…؎
زمانے میں چھوٹا ہے اُس کا نگیں
جو اپنی خودی کو پرکھتا نہیں
بُتانِ شعوب و قبائل کو توڑ
رسوم کہن کے سلاسل کو توڑ
سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم نے علامہ اقبال کا کہا مانا، کیا ہم نے زور وزر اور قبائلی نظام کی بینح کنی کی، کیا ہم نے رسوم کہن کی زنجیروں کو پاش پاش کیا۔ اگر ہم نے ایسا نہیں کیا تو قصور کس کا ہے سورۃ یونس میں قرآن مجید کو کتاب حکمت کہا گیا ہے اور پھر یہ اعلان قرآنی ہے کہ حکمت خیر کثیر ہے یونانی فلسفی افلاطون نے حکومت کا حق اہل حکمت کو دیا ہے قصہ آدم و ابلیس میں آدم کی علمی فضیلت نے انہیں مقام خلافت عطا کیا حضرت داؤدؑ نے جالوت کا سر قلم کیا اُنہیں علم و جسم میں اﷲ نے فضیلت عطاکیا اور وہ مسند حکومت پر بیٹھے گویا ازرُوئے قرآن حکمت و حکومت لازم و ملزم ہیں افسوس صد افسوس ہم نے پاکستان میں جاگیر داروں، صنعتکاروں، سرمایہ داروں، مخدوموں، جرنیلوں اور بیورو کریٹس کی حکومتیں دیکھیں، اس اشرافیہ نے ہمیں عالمی گداگر بنا دیا، کشکول نہ ٹوٹا ہم ٹوٹ پھوٹ گئے۔ امریکہ اور یورپ میں بنیادی تعلیم مفت اور لازمی ہے وہاں ووٹر پر کوئی تعلیمی پابندی نہیں پاکستان میں اسمبلیوں اور سینٹ میں اُمیدواروں کیلئے کوئی تعلیمی حد مقرر نہیں، قانون ساز اسمبلی میں قانون کی دھجیاں اڑانے کیلئے اَن پڑھ لوگ نظر آتے ہیں۔ ستم بالائے ستم تو یہ ہے کہ سینٹ جو بنیادی طور پر ٹیکنو کریٹس کا ادارہ ہے اُس میں صحافیوں، وکیلوں، دانشوروں اور علماء و فضلاء کی بجائے سرمایہ دار نظر آتے ہیں۔ نوائے وقت کے صحافی اور کالم نگار نواز رضا سینٹ میں انتخابات کے عنوان سے لکھتے ہیں کہ سینٹ کی سیٹ کی کروڑوں میں نیلامی ہو رہی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی سندھ سے ایک بڑے صنعتکار سلیم مینڈی والا اور تحریک انصاف پشاور کی ایک کاروباری شخصیت محسن عزیز کو سینٹ کا ٹکٹ دیا گیا ہے جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے جنرل صلاح الدین ترمذی کو سول ملٹری تعلقات میں مضبوطی کیلئے سینٹ کے ٹکٹ دے دئیے ہیں۔ یہ لوگ دیانتدار بھی ہونگے یہ محب وطن بھی ہونگے، ان کی جماعتی خدمات بھی ہوں گی یہ سب لوگ ہمارے لیے واجب الاحترام ہیں لیکن قائداعظم اور علامہ اقبال کی جمہوریت میں جاگیر داروں، صنعتکاروں اور جرنیلوں کی کوئی گنجائش نہیں، اہل دانش و بینش یہاں بے مقام ہیں لیکن بقول فیض …؎
غرور سرو سمن سے کہہ دو کہ پھر وہی تاجدار ہوں گے
جو خار و خس والیٔ چمن تھے عروج سرو سمن سے پہلے