اْف یہ بے بسی

کالم نگار  |  خالد کاشمیری
اْف یہ بے بسی

خدا معلوم وفاقی وزیر دفاع، پانی و بجلی خواجہ محمد آصف کو کیا سوجھی کہ انہوں نے بلدیاتی انتخابات جلد کرانے کا مطالبہ کر دیا وہ بھی پنجاب میں، امر واقعہ یہ ہے کہ گذشتہ دنوں وہ سیالکوٹ میں اتفاق لیبر یونین ٹی ایم اے کے نومنتخب عہدیداروں کی تقریب حلف برداری میں خطاب کر رہے تھے۔ ایسے میں اپنے حق میں لگنے والے نعروں کی گونج اور زور دار تالیوں کے شور میں سچیت کڑھ کی راہوں سے خطہ کشمیر کی طرف سے آنیوالی پرکیف ہواؤں سے سرشار ہو کر وہ ترنگ میں آگئے اور والد گرامی خواجہ محمد صفدر کی روح ان میں حلول کر گئی یا انہوں نے سیالکوٹ کی فضاؤں میں ہونیوالی سرگوشیوں کو محسوس کر لیا کہ ایسی سرزمین سے نشوونما پانے والے خواجہ محمد صفدر مرحوم تو دل جلے عوام کی ترجمانی کرنے سے کبھی نہ چوکتے تھے۔ اس حوالے سے مرحوم کی جرأت و دلیری کی داستانیں گئے وقتوں کی مغربی پاکستان اسمبلی کی کارروائیوں سے ترتیب دی گئی کتب میں گواہ ہیں جنہوں نے سچ اور حق بات کہنے سے کبھی گریز نہ کیا۔ خطروں کو مول لیکر بھی مرحوم حریت فکر کی علامت بنے رہے۔ یقیناً یہ اسی مرحوم کی تربیت کا ثمر تھا کہ انکے فرزند ارجمند وفاقی کابینہ کے اہم رکن ہوتے ہوئے بھی کسی کی خوشی اور ناراضی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے کلمہ حق اپنے لبوں سے ادا کرنے پر مجبور ہوئے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ بات کوئی ڈھکی چھپی نہیں کہ عوامی اور شہری مسائل بلدیاتی ادارے ہی حل کیا کرتے ہیں۔ ملک بھر کے شہروں، قصبوں اور دیہات میں گلیوں، سڑکوں اور نالیوں کی تعمیر و مرمت کا کام بلدیاتی اداروں ہی کے فرائض ہیں ایسے معاملات میں ہمیشہ بلدیاتی اداروں کو خود مختاری حاصل رہی۔ یہ تو موجودہ حکمرانوں کی ہوس اقتدار اور ارتکاز اختیارات کی حرص کا نتیجہ ہے کہ بلدیاتی اداروں کے انتخابات کے انعقاد کو جان بوجھ کر معرض التوا میں رکھا گیا ہے اور جو کام بلدیاتی اداروں کے ارکان کے فرائض میں شامل ہوتا ہے وہ کام ارکان صوبائی اور قومی اسمبلی سے لینے کیلئے انہیں مجموعی طور پر اربوں روپے کے فنڈز دئیے جاتے ہیں کہ وہ اپنی مرضی سے اپنے حلقوں میں جہاں چاہیں صرف کریں۔ اسکی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ایوان اقتدار کے مکینوں کی ہوس اقتدار اور اختیارات کو یہ گوارا نہیں کہ اختیارات نچلی سطح پر عوام کے منتخب لوگوں کو منتقل ہوں اور مقامی عوامی نمائندے لوگوں کو پولیس کی زیادتیوں سے بچانے کیلئے مؤثر کردار ادا کر سکیں، یہی ایسے حقائق ہیں کہ جن کی بنیاد سے پاکستان کی عدالت عظمیٰ بھی پوری طرح آگاہ ہے جیسا کہ حال ہی میں ایک شخص حیدر علی اور عشرت بی بی پر پولیس نے جھوٹے پرچے درج کئے جو بعد میں خارج ہوئے۔ سپریم کورٹ نے ایسے جھوٹے مقدمات کے اندراج کی روک تھام اور پولیس نظام میں پائی جانیوالی خامیوں کے حوالے سے اپنے ریمارکس میں کہا کہ انتہا کی بے حسی ہے لوگ کب تک برداشت کرینگے۔ پانچ برسوں سے بلدیاتی الیکشن کرانے کا کہہ رہے ہیں لیکن نہیں ہوئے۔ عدالت عظمیٰ کے جج مسٹر جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا ہے کہ کیا لوگوں کے بنیادی حقوق نہیں ہیں؟ ہمارا آئین بے معنی ہو کر رہ گیا ہے اور ’’ہم بے بس ہیں‘‘۔ حکومتوں نے بلدیاتی انتخابات ہماری خاطر نہیں کرانے، بلدیاتی انتخابات آئین کے آرٹیکل 140۔ اے کا تقاضا ہے۔ آئین کے تحت حکومتیں بلدیاتی انتخابات کرانے کی پابند ہیں لیکن کرائے نہیں جاتے۔ کس دکھی دل کے ساتھ عدالت عظمیٰ نے یہ الفاظ حیدر علی اور عشرت بی بی کیس کی سماعت کے دوران کہے کس قدر افسوس اور حیرت کا مقام ہے کہ ملک کی عدالت عظمیٰ انتہائی بے بسی کے ساتھ یہ بات کہنے پر مجبور ہوتی ہے کہ وہ پانچ برسوں سے حکومت کو بلدیاتی اداروں کے انتخابات کرانے کو کہہ رہے ہیں مگر ادھر حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی اور بے چارے لوگ ہیں کہ اپنے علاقائی مسائل کے حل کی خاطر براہ راست وزیراعلیٰ اور وزیراعظم کی طرف بے بسی کے ساتھ دیکھنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ یقیناً وزیراعظم اور صوبوں کے وزراء اعلیٰ بھی یہی کچھ چاہتے ہیں۔ پنجاب آبادی کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے جہاں کی آبادی قریباً بارہ کروڑ ہے ارتکاز اختیارات کی سب سے زیادہ بھوک اسی صوبے کے حکمرانوں کو ہے۔ اسی لئے تو انکی طرف سے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کیلئے عملی اقدامات کرنے کا دور دور تک نشان نہیں ملتا۔ یہ حکمران آئین اور عدلیہ کے احکام کی پاسداری کے جو بھی دعوے کریں وہ سبھی محض زبانی جمع خرچ ہے۔ عملاً حقائق یہ ہیں کہ عدالت عظمٰی کے احکامات کی جتنی پرواہ حکمرانوں کو ہے اس کا ثبوت تو عدالت عظمیٰ کے متذکرہ ریمارکس ہی سے مل جاتا ہے۔ رہا ملکی آئین کی پاسداری کا معاملہ تو اس حوالے سے حکمرانوں کا عمل ہی اپنی مثال آپ ہے جس کا واضح مقصد یہ ہے کہ حکمران بلدیاتی انتخابات کا انعقاد نہ کر کے آئین کی خلاف ورزی کا ارتکاب کر رہے ہیں اور آئین کی خلاف ورزی کرنیوالوں کیخلاف آئین خود ہی سزا تجویز کرتاہے۔ یہ سبھی کچھ اس آئین میں موجود ہے جس کی پاسداری کا حلف حکمرانوں نے اٹھایا ہوا ہے۔ آئین کی کسی بھی شق کو حکمرانوں کی طرف سے اپنی مقصد براری کیلئے پس پشت ڈالنا حلف سے بیوفائی نہیں تو اسے اور کیا نام دیا جا سکتا ہے؟ ایسے حقائق کی روشنی میں خواجہ محمد آصف نے اگر بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کو ناگریز قرار دیا ہے اور واشگاف الفاظ میں بلدیاتی انتخابات کرانے کو کہا ہے تو گویا یہ انہوں نے اپنے ہی ’’بااختیار‘‘ قائدین کو بھولا ہوا سبق یاد دلانے کا دلیرانہ اقدام کیا ہے۔ بلاشبہ خواجہ محمد آصف وفاقی وزیر دفاع ہونے کے ساتھ پانی اور بجلی کے بھی وزیر ہیں۔ اپنے دیگر ’’ہم سفر وزرائ‘‘ کی طرح وہ اپنے اپنے محکموں میں کس حد تک بااختیار اور مقتدر ہیں۔ اس سے قطع نظر اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ اس عہد ’’بے مثال‘‘ میں جو لوگ ایوان اقتدار کی غلام گردشوں تک رسائی پر اتراتے اور پھولے نہیں سماتے اور جو شجر اقتدار تلے دانہ دنکا چگنے کو اپنی خوش بختی کی معراج گردانتے ہیں۔ ایسی پوری کی پوری کھیپ میں سے صرف اور صرف خواجہ محمد آصف ہی نے ’’زنجیر‘‘ ہلانے کا حوصلہ کیا ہے۔ شاباش فرزند خواجہ محمد صفدر شاباش!! خواجہ محمد آصف اس جرأت و بے باکی پر بجا طور پر اس شعر کے ساتھ خراج تحسین کے مستحق ہیں  …؎
نکل جاتی ہے سچی بات جس کے منہ سے مستی میں
فقیہہ مصلحت بیں سے وہ رندِ بادہ خوار اچھا