کیا نا کامی اور نامرادی ہمارا مقدر ہے؟

یہ ہماری تاریخ کا المیہ ہے، یہ ہماری بدنصیبی ہے، یہ ہماری بدقسمتی ہے، یہ ہمارے نامۂ اعمال کی سیاہی ہے، یہ ہمارا نوشتہ ٔ تقدیر ہے یا ہماری کوتاہیوں، نالائقیوں، کمزوریوں، خود ظرفیوں، عاقبت نااندیشیوں اور بداعمالیوں کا شاخسانہ ہے کہ ہم ہمیشہ سے اپنوںاور غیروں کی سازشوں اور ریشہ دوانیوں کا شکار رہے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ کے شائد ہی کچھ ماہ و سال ایسے گزرے ہوں گے جب اسے اندرونی اور بیرونی خطرات اور دبائو اور مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑا ہو۔ ورنہ آئے روز ایک نیا مسئلہ، ایک نیا معاملہ، ایک نئی مشکل، ایک نئی الجھن اور نئی پریشانی ہمیں درپیش رہی ہے کبھی بیرونی جارحیت کا خطرہ، کبھی پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی سازشیں، کبھی اقتصادی مشکلات، کبھی اندرونی عدم استحکام، کبھی مارشل لاء کے سائے، کبھی فوجی اور سول آمریت، کبھی قومی جذبات اور امنگوں کے منافی پالیسیاں، کبھی عوام دشمن حکومتی اقدامات، کبھی شہری آزادیوں پر ناروا پابندیاں، کبھی علاقائی عصبیت اور صوبائی منافرت کا فروغ، کبھی عدلیہ کو پابۂ زنجیر کرنے کی کوشش، کبھی آمریت کو دوام بخشنے کے منصوبے، کبھی اختیارات و اقتدار کا ایک ہی شخصیت میں ارتکاز، کبھی آئین و پارلیمنٹ کی بالادستی کے کھوکھلے نعرے، کبھی دریائوں کے پانی کی بندش، کبھی زرعی اجناس کی قلت، کبھی پاکستان کی نظریاتی اساس کو کمزور کرنے کی کوشش، کبھی نام نہاد روشن خیالی اور ترقی پسندی کا پرچارک، کبھی دھرنے، کبھی لانگ مارچ غرضیکہ ایک سے ایک بڑھ کر روگ اور پریشانی ہمارا مقدر بنی ہوئی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ چند برسوں بالخصوص سابقہ صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور حکومت میں جس طرح کے حالات و واقعات بتدریج ابھر کر سامنے آئے اور قومی زندگی میں جس طرح کا بگاڑ اور خرابی پیدا ہوئی اسکی مثال ہماری پوری قومی تاریخ میں نہیں ملتی۔ آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کا اقتدار پر غاصبانہ قبضہ بذات خود ایک بہت بڑی خرابی اور زیادتی تھی لیکن اپنے آپکو عقل کل اور اقتدار اعلیٰ کا مرکز و محور سمجھتے ہوئے جس طرح کی پالیسیاں اختیار کی گئیں، جس طرح کے فیصلے اور اقدامات کئے گئے ان سے ملکی معاملات و مسائل یقینا ابتری کی راہ پر گامزن ہوئے لیکن دکھ کی بات یہ ہے کہ موجودہ عوامی اور جمہوری دور میں بھی انہی پالیسیوں اور اقدامات کا تسلسل جاری ہے۔
جناب وزیراعظم ہر اختتام ہفتہ لاہور یا ملتان میں آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی، عدلیہ کی آزادی، امریکی میزائل حملوں کی مذمت وغیرہ کے بارے میں خالی خولی اعلانات اور دعوے کرکے اور جناب صدر ہر دوسرے تیسرے دن ایوان صدر میں کسی اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرکے یہ سمجھ لیتے ہیں کہ حکومتی فرائض اور ذمہ داریاں پوری ہو رہی ہیں اور وہ ملکی معاملات و مسائل کو بہتری کی راہ پر گامزن کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں لیکن ملک کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ صورت حال پہلے سے بھی بدتر ہو چکی ہے اور حالات و معاملات، ایسی نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ نہ صرف پاکستان کی سلامتی اور تحفظ کو ہی خطرات سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے بلکہ پاکستان کی علاقائی سالمیت، خود مختاری اور آزادی بھی ایک سوالیہ نشان بن کر رہ گئی ہے۔
ایک طرف ہم اندرونی طور پر سیاسی عدم استحکام، فرقہ واریت، دہشت گردی، مذہبی انتہا پسندی، لاقانونیت، بدامنی، اقتصادی بدحالی، غربت، مہنگائی اور آٹے، بجلی اور گیس جیسی بنیادی ضروریات زندگی کی نایابی اور کمیابی سے دوچار ہیں تو دوسری طرف ہمیں بے پناہ بیرونی دبائو بھارت جیسے دشمن کی نت نئی دھمکیوں اور امریکہ جیسے اتحادی کی طرف سے نت نئے مطالبوں، ہدایات اور امریکی جاسوس طیاروں کے میزائل حملوں کے نتیجے میں قبائلی علاقوں میں آئے روز کے جانی اور مالی نقصانات اور ملکی سلامتی، خود مختاری اور آزادی کو درپیش چیلنجز کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
حالات و واقعات کی یہ صورت گری یقینا انتہائی تشویشناک، المناک اور پریشان کن ہے لیکن زیادہ پریشانی کی بات یہ ہے کہ بہتری کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی لگتا ہے کہ ہمارا نظام حکومت، ہماری حکومتی مشینری، ہمارے حکمران، ہمارے قومی اور سیاسی رہنما، ہماری سیاسی جماعتیں، ہمارے پالیسی ساز ادارے، ہمارا معاشرتی، سیاسی اور سماجی نظام سبھی مختلف چیلنجز اور مسائل و مشکلات کا مقابلہ اور سامنا نہیں کر پا رہے اور بحیثیت ایک قوم ہمارا وجود اتنا کھوکھلا، کمزور اور بے معنی ہو چکا ہے کہ دنیا ہمیں ایک ناکام ریاست کے طعنے دینے لگی ہے۔
کچھ دن پہلے برطانوی سکالر اور لندن کنگز کالج کے وارسٹڈیز ڈیپارٹمنٹ کے پروفیسر اتاتول لیونی نے لاہور میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈرون حملے موجودہ پاکستانی حکومت کی رضا مندی سے ہو رہے ہیں ازاں بعد امریکی سینٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کی چیئرپرسن سینیٹر ڈائن فائنسٹائن نے انکشاف کیا کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں میزائل حملے کرنیوالے جاسوس طیارے پاکستان کے اندر ایئر بیسز (ہوائی اڈوں) سے پرواز کرتے ہیں۔ امریکی سینیٹر کے اس انکشاف پر ہمارے مقتدر حلقوں، ہماری وزارت خارجہ اور آئی ایس پی آر کے ترجمانوں نے چپ سادھ لی ۔ تاہم ہمارے دانا، صاحب بصیرت اور روشن خیال وزیردفاع چودھری احمد مختار کا یہ بیان ضرور سامنے آیا کہ امریکی جاسوس طیارے پاکستان کے ہوائی اڈوں سے پرواز ضرور کرتے ہیں لیکن حملے نہیں کرتے اسی دوران جنوبی وزیرستان اور کرم ایجنسی میں دو دنوں کے وقفے سے امریکی جاسوس طیاروں کے میزائل حملوں میں کم و بیش 65 افراد جاں بحق اور اتنے ہی زخمی ہوئے۔
ڈرونز حملوں کی بات یہی پر ختم نہیں ہوجاتی ’’نوائے وقت‘‘ میں لندن کے اپنے نمائندے کے حوالے سے یہ خبر شائع ہوئی ہے کہ ڈرونز حملے پیپلز پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ، جمعیت علمائے اسلام اور مسلم لیگ (ق) کو اعتماد میں لیکر شروع کئے گئے۔ خبر میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی حکومت کے تمام لوگ پیپلز پارٹی اور امریکہ کے درمیان خفیہ تعاون سے آگاہ نہیں ہیں اور ڈرونز حملوں کے متعلق آج تک جتنے احتجاج ہوئے وہ عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف تھے۔
یہ ملکی اور قومی صورتحال کے ایک پہلو کا تذکرہ ہے اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہم کس طرح اپنے آپ کو دھوکہ دیتے ہیں ہمارے حکمران، ہمارے فیصلہ ساز ادارے اور ہمارے رہنما کس طرح عوام کو اندھیرے میں رکھ کر من مانے فیصلے کرتے ہیں۔ ملکی مفاد اور وقتی مصلحتیں اپنی جگہ لیکن قومی غیرت و عزت اور آزادی و خود مختاری بھی کوئی چیز ہوتی ہے آزاد اور خود مختار ملکوں میں سب چیزیں اسکے تابع ہوتی ہیں۔ اللہ جانے ہم کب تک بھٹکتے رہیں گے اور ناکامی اور نامرادی ہمارا مقدر بنی رہے گی۔