پاکستان کی سالمیت کیلئے علماء کرام اپنا کردار ادا کریں

صحافی  |  سکندر خان بلوچ

دارالعلوم دیو بند برصغیر کا شاید سب سے قدیم۔ سب سے بڑا اور سب سے معتبر اسلامی مدرسہ ہے جوڈیڑھ صدی سے اسلام کی خدمت میں مصروف ہے اور اب تک ہزاروں کے حساب سے علماء پیدا کرنے پر فخر کرتا ہے۔ اِس مدرسہ سے فارغ التحصیل علماء نے برصغیر میں اُس وقت بھی اسلام کی شمع روشن رکھی جب انگریزی سلطنت میں اسلام مٹانے کی کوششیں جا ری تھیں۔ اسلام اور اسلامی روایات کی حفاظت کی سوچ نے اِسی مدرسے میں جنم لیا جو بالأخر تحریک پاکستان کی شکل اختیار کرگئی۔ یہ ایک مدرسہ پورے برصغیر میں اسلامی تعلیم کی نرسری ثابت ہوا ۔ بعد میں اسلامی تعلیمی مدارس برصغیر کے طول و عرض میں پھیل گئے جنہوں نے اسلام اور اسلامی تعلیم کی شمع سے پورے برصغیر کو منور کیا۔ تاہم اس ادارے کے شیخ الحدیث مولانا حسین احمد مدنی نے قائداعظم اور تحریک پاکستان کی کھل کر مخالفت کی اور اس ادارے کے بعض دیگر سربراہان بھی کانگریس کے رکن تھے جس کے باعث اس ادارے کی حیثیت متنازعہ رہی ہے۔ موجودہ دور میں اِس کا اثر برصغیر کے علاوہ جنوبی افریقہ اور یورپ تک پھیل چکا ہے۔ دارالعلوم کراچی ۔پاکستان کے مشہور مولا نا محمد شفیع۔ احمد علی لاہوری۔ مفتی رشید احمد ۔ مفتی زین العابدین جیسی عظیم ہستیوں کا تعلق بھی اِسی عظیم ادارے سے تھا۔ دار العلوم دیوبند کی موجودہ انتظامیہ پکی مسلمان ہونے کے ساتھ ساتھ روشن خیال اور محبِ وطن اشخاص کے ہاتھوں میں ہے جو جمعیت علمائے ہند کے نام سے پہچانی جاتی ہے۔
14فروری 2009کو جمعیت علمائے ہند نے ’’آزادی میدان‘‘ممبئی میں ایک بہت بڑے جلسے کا بندو بست کیا جس میں پورے بھارت سے مسلمان اور غیر مذاہب کے لوگ بھی شریک ہوئے۔ اِس جلسے میں جناب قاری محمد عثمان نے دیوبند کے مفتی اعظم جناب مفتی حبیب الرحمن کا فتویٰ پڑھ کر سنا یاجس میں اعلان کیا گیا کہ ’’دہشت گردی جہاد نہیں اور نہ ہی مسلمان دہشت گرد ہو سکتے ہیں‘‘اِس عظیم الشان جلسے میں بھارت کے تمام مسلمانوں کی طرف سے قرآن کے حلف پر ایک قرارداد پاس کی گئی کہ دہشت گردی کے خلاف اپنے ملک (بھارت)کی ہر قیمت پر حفاظت کی جائیگی ۔ اِ س قرارد اد کی روشنی میں بھارتی علماء کی مستقبل بینی ۔امن کی خواہش اور جذبہ حب الوطنی کی تعریف کرنا پڑتی ہے۔
26نومبر 2008کے سانحہ ممبئی نے برصغیر کی تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کئے ہیں۔ بھارت کے انتہاپسند ہندو پہلے ہی مسلمانوں کو پسند نہیں کرتے تھے اور مسلمانوں کے خلاف طرح طرح کے ہتھکنڈے استعمال کر کے انہیںظلم و ستم کا نشانہ بناتے۔ 2001کے گجرات فسادات میں تقریباً2ہزار بے گناہ مسلمانوں کو شہید کر دیاگیا۔ مسلمانوں کا قتل و غارت ویسے تو 1947سے ہی جاری ہے لیکن پچھلے بیس سالوں میں بہت بڑ ھ گیا ہے۔ انتہاپسند ہندئوں کی نظر میں بھارت میں رہنے والے تمام مسلمان دہشت گرد اور غدار ہیں لہٰذا واجب القتل۔ وہاں سیاسی طور پر مسلمانوں کی کوئی آواز نہیں۔ عام طور پر دلت اور مسلمان ایک ہی پلڑے میں تولے جاتے ہیں۔ مسلمانوں پر اعلیٰ تعلیم ۔ اعلی سروسز اور اعلیٰ کاروبار کے دروازے پہلے ہی بند ہیں اور اب سانحہ ممبئی کے بعد تو اُن کی زندگی ویسے ہی عذاب بنا دی گئی ہے۔ لہٰذا بھارتی مسلمانوں کی حفاظت کا واحد راستہ بھارتی قیادت اور بھارتی انتہا پسند ہندئوں کا مسلمانوں کی حب الوطنی پر اعتماد بحال کرنا ہے اور یہ کام صرف علماء دین ہی کرسکتے ہیں۔ اِسی لئے جمعیت العلمائے ہند کا جلسہ اور قرارداد بروقت اور مناسب اقدام ہیں۔
2007میںبرصغیر خصوصاًپاکستان میں اسلام کے نام پر بڑھتی ہوئی دہشتگردی نے بھارتی مسلمانوں کے لئے زمین تنگ کر دی تو مسلمانوں کی حفاظت کے لئے بھارت کے علمائے کرام میدان میں اترے جس میں مدرسہ دارالعلوم دیوبند اور اِس مدرسہ کی بانی جماعت جمعیت العلمائے ہند نے اہم کردار ادا کیا اور یوں فروری 2008میں نئی دہلی میں ایک اسلامی کانفرس منعقد کی جس کے روح رواں بھارتی مسلمان ممبر پارلیمنٹ جناب مولانا محمود مدنی صاحب تھے اِس کانفرنس میں اسلامی دہشتگردی یا اسلام کے نا م پر دہشتگردی کی مذمت کی گئی ۔ یہ بھارت میں مسلمانوں کے اتحاد کی طرف پہلا اہم قدم تھا۔ 31مئی 2008کو نئی دہلی میں ’’انٹی ٹیررازم اور عالمی امن ‘‘کے نام پر ایک اور عظیم الشان جلسہ منعقد کیا گیا جس میں بھارت کے تمام مکاتب فکر کے مسلمان ۔ ہندو۔ بدھ۔ عیسائی اور جین مت کے لوگ بھی شامل ہو ئے ۔ اِس جلسے میں جمعیت کے علاوہ جماعت اسلامی ہند۔ جمعیت اہل حدیث ۔ ندوۃ العلماء لکھنو۔ رابطتہ المدارس العربیہ اور کل ہند مسلم لاء پرسنل بورڈ کے نمائندے بھی شریک ہو ئے۔
میڈیا کے مطابق سامعین کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ تھی۔ جلسے میں کھل کر اعلان کیا گیا کہ اسلام کا دہشتگردی سے کوئی تعلق نہیں۔ دہشتگردی سے اسلام بدنام ہو رہا ہے۔ تمام مسلمانوں سے اپیل کی گئی کہ وہ دہشتگردی سے دور رہیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق دہشتگردی کے خلاف یہ پہلا اسلامی فتویٰ تھا۔ اِس فتویٰ کی بھارتی قیادت۔ اہل علم حضرات اور بھارتی فلم ایسوسی ایشن تک کے لوگوں نے تعریف کی۔ تاہم اس جلسے میں یہ وضاحت بھی کی جانی چاہئے تھی کہ جہاد اسلام کا بنیادی رکن ہے اور جہاد کشمیر دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتا کیونکہ اس جہاد کے ذریعے کشمیری عوام اپنے اس حق خودارادیت کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں جو یو این قراردادوں میں تسلیم کیا گیا ہے۔ تبت کے مشہور مذہبی راہنما جنا ب دلائی لامہ جو اب بھارت میں ہی رہائش پذیر ہیں نے اِس فتوے کی نہ صرف حمایت کی بلکہ اتنے بڑے مجمعے کے سامنے اعلان کیا کہ ’’اسلام امن کا مذہب ہے۔ مسلمان دہشتگرد نہیں ہو سکتا‘‘ ۔
بھارتی علماء کا یہ کردار دیکھتے ہوئے پاکستانی عوام کی نظریں لا محالہ طور پر اپنے علماء کی طرف ہی اُٹھتی ہیں۔ اگر بھارتی علماء اپنے وطن اور بھارت میں آباد مسلمانوں کے لئے اتنا اہم قدم اُٹھا سکتے ہیںتو ہمارے علماء ایسا کیوں نہیں کر سکتے؟۔ پاکستان تو آیا ہی معرضِ وجود میں اسلام کے نام پر تھا۔ اِس وقت ساری اسلامی دنیا میں اسلامی مدارس کی تعداد سب سے زیادہ پاکستان میں ہے۔ 1947میں اسلامی مدارس کی تعداد دو سو سے بھی کم تھی جو اب بڑھ کر 42ہزار تک پہنچ گئی ہے اور یہ تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے۔ اس وقت کوئی گلی ۔محلہ یا گائوں ایسا نہیں جہاں اسلامی مدارس نہ ہوں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام اسلام پسند ہیں اورعلماء کی عزت کرتے ہیں۔
پاکستان میں علماء کی تعداد بھی بھارت سے بہت زیادہ ہے۔ یہاں کے علماء کو پاکستان نے وہ عزت و خوشحالی عطاکی ہے جس کا بھارتی علماء سوچ بھی نہیں سکتے۔ پاکستانی عوام نے انہیں مسجد کی امامت سے لیکر ملک کی امامت تک بخش دی ہے۔ یہاں دہشتگردی اور انتہاپسندی جس عروج تک پہنچ چکی ہے اُس پر قابوپانا کسی حکومت یا فوج کے بس میں نہیں۔ بے گناہ اور معصوم عوام روزانہ دہشتگردی کا شکار ہو رہے ہیں۔ ہمارے شہر اور گائوں کھنڈرات میں بدلتے جارہے ہیں۔ اس پر صرف علماء کرام ہی قابو پا سکتے ہیں۔ لہٰذا تمام علماء کرام سے پرزور اپیل ہے کہ اُن کا تعلق جس بھی مکتب فکر سے ہو وہ آگے بڑھیں اور اپنے اہل وطن بھائیوں کو اس عذاب سے نجات دلانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔ اِس وقت عوام۔ پاکستان اور سب سے بڑھ کر اسلام خطرے میں ہے۔