پاکستان میں سیاسی تصادم کی پالیسی اور صدر زرداری

کالم نگار  |  رانا عبدالباقی

ملک میں آزاد عدلیہ اور معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی کے حوالے سے وکلاء ، سول سوسائیٹی اور سیاسی جماعتوں کے مارچ اور ڈبل مارچ کے اعلانات کو مدنظر رکھتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی لیڈر شپ کو سیاسی منظر نامے سے ہٹانے ، پنجاب حکومت کو گرانے اور گورنر راج نافذ کرنے سے متعلق ممکنہ انہونی ہونے کی خبریں گذشتہ کئی دنوں سے گردش کرتی رہیں ۔ اِسی پس منظر میں اسلام آباد ہی نہیں بلکہ ملک کے طول و ارض میں سیاسی اور انتظامی ٹمپریچر غیر معمولی طور پر بلند ہوا ہے اور اِسی تناظر میں چند روز قبل مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف نے وکلاء کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وکلاء مارچ کی حمایت کا اعلان اور پنجاب حکومت کے مینڈیٹ پر وار ہونے کے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے اصولوں کی خاطر سو پنجاب حکومتوں کو قربان کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔ دوسری جانب مرکزی حکومت نے تیزی سے بڑھتی ہوئی سیاسی اور معاشرتی بے چینی کے باعث اہم وزراء اور مشیران کو ملک میں موجود رہنے کی ہدایت کی تھی جبکہ صدر آصف علی زرداری چین کے دورے پر تھے۔
کشیدہ سیاسی صورتحال کو محسوس کرتے ہوئے بہرحال 23 فروری کو وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے ملاقات کی اور اِس ملاقات کے نتیجے میں وزیراعظم کے اِس بیان کے بعد کہ وہ ججوں کی بحالی کے موضوع پر صدر زرداری سے بات کریں گے ، صورتحال میں کچھ تبدیلی آنے کی توقعات تھیں لیکن صدر زرداری کے چین کے دورے سے واپسی کے فوراً بعد 25 فروری کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کے صدر اور پنجاب کے وزیراعلیٰ کو ایک متنازعہ فیصلے میں سپریم کورٹ کی جانب سے نااہل قرار دینے اور صدر زرداری کی جانب سے پنجاب میں حکومت سازی سے متعلق آئینی پروسس کے چلتے رہنے کے بجائے اِس متنازعہ فیصلے کے فوراً بعد پنجاب میں گورنر راج نافذ کرنے سے یہ بات وضاحت سے سامنے آ گئی ہے کہ سابق صد ر جنرل پرویز مشرف کے آمرانہ صدارتی اختیارات کے نظام میں آج بھی پارلیمنٹ کی بالا دستی صدر زرداری کے سامنے اتنی ہی بے بس ہے جتنی کہ صدر جنرل پرویز مشرف کے سامنے تھی ۔ کچھ معتبر ذرائع کے مطابق وزیراعظم کا چیف ایگزیکٹیو ہونا یا نہ ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا کیونکہ صدر زرداری حکمران جماعت کے چیف اور صدر مملکت کے طور پر سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے تمام تر آمرانہ اختیارات absolute powers کو استعمال کرتے ہوئے ملک میں انتظامی اور سیاسی نوعیت کے اہم فیصلے اَبرو کی جنبش سے کرتے ہیں ۔
خبروں کے مطابق وزیراعظم گیلانی نے سپریم کورٹ کے متنازعہ فیصلے کے فوراً بعد وزیراعلیٰ پنجاب سے رابطہ کرکے اِس فیصلے پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا لیکن بعد میں صدر زرداری کی صدارت میں ایوان صدر میں ہونے والے ایک اہم اجلاس میں جس میں وزیراعظم نے بھی شرکت کی پنجاب میں گورنر راج نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
یوں تو صدر زرداری اِس سے قبل بھی اہم حکومتی منصبوں پر ذولفقار علی بھٹو کے ورثہ کی امین محترمہ بے نظیر بھٹو کی حمایت سے ہی فائز رہے ہیں اور موجودہ منصب بھی اُنہیں بے نظیر بھٹو کی شہادت کے صدقے میں ہی ملا ہے جس کا تذکرہ وہ خود بھی کرتے رہتے ہیں لیکن ’’بھٹوز‘‘ کی پالیسی کے حوالے سے اُن کے ابتدائی دورِ حکومت میں ہی یہ بات کھل کر سامنے آ گئی ہے کہ وہ ذولفقار علی بھٹو اور شہید بے نظیر بھٹوکی فکر و نظر کے مطابق کام نہیں کر رہے ہیں ۔ شہید بے نظیر بھٹو معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو دوبارہ چیف جسٹس دیکھنا چاہتی تھیں لیکن صدر زرداری آزاد عدلیہ کی بحالی میں رکاوٹیں ڈالنے میں پیش پیش رہے ہیں ۔
محترمہ بے نظیر بھٹو نے تین نومبر 2007 کے جنرل پرویز مشرف کے غیر آئینی اقدامات کو منی مارشل لاء کے حوالے سے پاکستان ، جمہوریت اور ساری دنیا کے مسلمانوں کیلئے سیاہ ترین دن قرار دیا تھا لیکن صدر زرداری اِس منی مارشل لاء سے پارلیمنٹ کی بالا دستی کو بے معنی بنانے اور منصب صدارت کو حاصل ہونیوالے لامحدود اختیارات کے حوالے سے اِسی سیاہ ترین دن کو اپنے ماتھے کا جھومر بنائے بیٹھے ہیں۔ اِس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ جنرل پرویز مشرف کی جانب سے تیسری مرتبہ وزیراعظم بننے کی آئینی رکاوٹ دور نہ کرنے اور این آر او پر وعدوں کی پاسداری نہ کرنے کے باوجود محترمہ بینظیر بھٹو ، دبئی میں اپنے شوہر آصف علی زرداری کو بچوں کی دیکھ بھال کیلئے چھوڑ کر پاکستان میں آمریت کے خلاف سیاسی جنگ لڑنے کیلئے پاکستان تشریف لائی تھیں تو اُنہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ قسمت کا پہیہ اُلٹی سمت کو گھوم جائے گا اور ذولفقار علی بھٹو کا عظیم سیاسی ورثہ ، اُنکے شوہر آصف علی زرداری اور اُن کی بہن کو مل جائے گا ؟
زرداری صاحب کے سرے محل کی ملکیت اور دیگر بیرونی assests کے حوالے سے اُن کا کہنا تھا کہ وہ کسی مقدمے میں ملزم نہیں ہیں ۔حقیقت یہی ہے کہ زرداری صاحب بہت سے مقدمات میں این آر او کے بغیر ہی بری ہوئے تھے تو اُنہیں این آر او کی ضرورت کیوں پیش آئی ؟ ذولفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو بھارت کے مقابلے میں پاکستان کی سلامتی اور معاشی ترقی کو ممکن بنانے کیلئے چھوٹے صوبوں کے عوام کی فلاح و بہبود کیساتھ سا تھ پنجاب اور سندھ کی لازوال دوستی کو پاکستان کی سلامتی کیلئے ایک اہم ستون تصور کرتے تھے جبکہ سقوط ڈھاکہ کے بعد بھارت پاکستان کی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کیلئے پنجاب کو چھوٹے صوبوں کیساتھ لڑانے کی پالیسی پر گامزن تھا لہذا صدر زرداری کی جانب سے آزاد عدلیہ کی بحالی سے متعلق وعدوں اور معاہدوں کی پاسداری نہ کرنے کے پس منظر میں پنجاب حکومت کے destabilize ہونے پر بھارت پاکستان پر دبائو بڑھا سکتا ہے جبکہ شہید بے نظیر بھٹو اپنی شہادت سے قبل راولپنڈی میں کی گئی تقریر میں بھی پنجاب اور سندھ کی لازوال دوستی کے حوالے سے بیرونی سازشوں کا مقابلہ کرنے کیلئے قومی یکجہتی کے فروغ کی بات پر ہی زور دیتی رہیں۔
میاں نواز شریف کیساتھ اُن کی جانب سے میثاق جمہوریت پر دستخطوں کا کیا جانا اور میاں نواز شریف کو انتخابی بائیکاٹ کے بجائے انتخابات میں بھرپور حصہ لینے کی دعوت دینا اور ایک دوسرے کیخلاف سازشوں کے چیپٹر کو بند کرنے کا عزم کرنا بھی اِسی مثبت پالیسی کا حصہ تھا جسے اب کہا جا رہا ہے کہ زرداری صاحب کی جانب سے اِس پالیسی کو کلی طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے ؟
خطے میں بھارتی بالا دستی کے حوالے سے ذولفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو جس بے مثال پالیسی کے حامل تھے ۔ اُنہوں نے خطے میں بھارتی عزائم کو ناکام بنانے کیلئے پاکستان کیلئے ایٹمی و میزائل ٹیکنالوجی حاصل کی تھی۔ صدر زرداری اب جس اہم منصب پر فائز ہیں اُنہیں خطے میں بھارتی عزائم کو بھلانا نہیں چاہیے کیونکہ زرداری صاحب کی پاکستان کھپے کھپے کی پالیسی کے برعکس پنجاب میں موجودہ سیاسی تصادم کی پالیسی،، بھٹوز،، کے تمام آدرشوں کو ملیا میٹ کر سکتی ہے ؟ یہاں میں اُن کی توجہ بھارتی کانگریس کے اہم مرکزی وزیر اور کراچی میں بھارت کے ایک سابق قونصل جنرل مانی شنکر آئیر کی 1994 کی تحریر کی جانب مبذول کرانا چاہتا ہوں ۔
اِس ریفرنس کا متن پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے ایک سابق سیکریٹری جنرل اور سابق وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر اقبال یوسف اپنی کتاب ، کراچی پیپرز میں بھی شائع کر چکے ہیں ۔ مانی شنکر لکھتے ہیں :
(پاکستان کو داخلی طور پر کمزور کرنے اور پاکستان کے داخلی انتشار سے فائدہ اُٹھانے کیلئے ) ، دوسرا راستہ یہ ہو سکتا ہے کہ ہم پاکستان میںموجود اُن قوتوں کی مدد کریںجو پاکستان کو ٹکرے ٹکرے کرنا چاہتی ہیں ، دلیل یہ دی جا سکتی ہے کہ جمہوری تجربے کی ناکامی کے باعث اقلیتی صوبوں کے عوام مطمئن نہیں ہیں اور وہ پاکستان سے علیحدگی اور چھوٹی چھوٹی ریاستیں بنانے پر تیار ہو جائیں گے ۔
بہادر بلوچ جنہیں بار بار اُن کی اپنی حکومت کی فوج نے جارحیت کا نشانہ بنایا اور پھر اُن کے عطاء اللہ مینگل اور خیر بخش مری جیسے رہنما جنہوں نے اسلام آباد حکومت جو فوج اور نوکر شاہی پر پنجابی بالا دستی کو ظاہر کرتی ہے ، کیخلاف گوریلا جنگ میں اپنے لوگوں کی رہنمائی کی ، خدائی خدمتگار کے پٹھان بھی یاد رہنے چاہییں جن کی خود مختاری کیلئے انتھک جدوجہد دہرائی جا سکتی ہے ۔ پٹھان آزادی سے محبت کرنے والے لوگ ہیں اور اِن کے افغانوں کیساتھ نسلی رشتے ہیں جنہیں ایک انگریز ڈیورنڈ نے ایک مصنوعی خط (ڈیورنڈ لائین) کھینچ کر تقسیم کر دیا تھا ، اِن عوامل سے فائدہ اُٹھایا جا سکتا ہے ۔ شروع کی تین دہائیوں میں پاکستان مخالف محور کوئٹہ اور پشاور تک محدود تھا ( یہ محور کمزور تھا کیونکہ لوگوں کے پاس وسائل کم تھے اور آڑے وقت پر اُن کی مدد کرنے والا کوئی نہیں تھا ) ۔
1980 کی دہائی میں سندھ اپنے عظیم ترین بیٹے کی شہادت کے غم میں جل رہا تھا جس کے باعث سندھ ، پنجابی کیساتھ اپنا رشتہ ختم کرنے کا فیصلہ کر سکتا تھا۔ صرف یہی ایک رشتہ ہے (سندھی پنجابی دوستی) جو پاکستان کے وجود کو قائم رکھنے کی یقین دھانی کراتا ہے ... جی ایم سید کا کہنا تھا کہ نئے اور پرانے سندھیوں کو ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر اور پاکستان کی دیگر قومیتوں کیساتھ مل کر پنجابی حکمرانوں کو شکست دینے کے بعد کراچی سے قراقرم تک متعدد ریاستیں تشکیل دینی چاہئیں کہ یہ ریاستیں آپس میں ایک کنفیڈریشن بھی قائم کر سکتی ہیں اور اِس میں بھارت کو بھی شریک کیا جا سکتا ہے‘‘۔ کیا ہوگا اور کیا نہیں ہوگا ، یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن زرداری صاحب کو نالائق مشیروں سے جان چھڑا کر یہ ضرور سمجھ لینا چاہیے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت اور پاکستان کی بقا ماضی کے آمرانہ کلچر کو اپنانے میں نہیں بلکہ صوبوں میں جمہوری قدروں اور دوستی کو فروغ دینے میں ہی ہے ۔
کچھ ذرائع کے مطابق مرکزی حکومت پنجاب کی لیڈرشپ سے ،،چھٹکارہ ،، حاصل کرنے اور پنجاب میں قدم جمانے کے بعد معزول چیف جسٹس کو بحال کرنے کے سیاسی آپشن پر غور کر سکتی ہے جس کے تحت وکلاء تحریک کو وقتی طور پر defuse کرنے کے بعد معزول چیف جسٹس کو سپریم کورٹ سے تبدیل کرکے کسی کمیشن کا چیئرمین بنایا جا سکتا ہے ۔ کیا اِس طرح کے کسی بھی انتظامی عمل سے وکلاء کی تحریک کو defuse کیا جا سکتا ہے ۔
میرے خیال میں ایسا کرنا اب ممکن نہیں ہے، کیونکہ کالی وردیوں میں ملبوس وکلاء ،سول سوسائٹی اور اپوزیشن سیاسی جماعتوں کا دیدنی جوش و جذبہ اِس مرتبہ کچھ کر گذرنے پر ہی تُلا ہوا ہے ۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ شہید محترمہ کے صدقے اقتدار کی غلام گردشوں میں محوِ پرواز حکمرانوں کو آمریت کے فیصلوں کو بے معنی بنانے کیلئے ایک اور نادر موقع ملا تھا جسے نالائق حکمرانوں نے ضائع کر دیا ہے کیونکہ وکلاء تحریک تمام منزلوں کو عبور کرکے \\\" ابھی یا کبھی نہیں \\\" کے مقام تک پہنچ گئی ہے ۔