’’مفاہمت‘‘+نظریۂ ضرورت=آئین کی حکمرانی

کالم نگار  |  سید روح الامین
’’مفاہمت‘‘+نظریۂ ضرورت=آئین کی حکمرانی

ہمارے ’’معزز‘‘ سیاستدان صاحبان کے بھی کیا کہنے
ایک طرف تو ہر لمحہ آئین کی پاسداری و حکمرانی کے راگ الاپتے ہیں اور آئین کو ’’پوتر‘‘ اور مقدس قرار دیتے نہیں تھکتے مگر ساتھ ہی ’’مفاہمت‘‘ اور ’’نظریۂ ضرورت‘‘ کو فروغ دے کر آئین کی دھجیاں بھی سرعام بڑی ڈھٹائی کے ساتھ بکھیرتے ہیں۔ مفاہمتی پالیسی کے موجد ’’صدر‘‘ زرداری ہیں، مفاہمت کا مطلب ہے ’’آئو سب مل کر ملک کو لوٹیں‘‘ ۔ زرداری صاحب نے اپنے عہد میں اتحادی پارٹیوں کو ’’مفاہمت‘‘ کے تحت کھلی چھوٹ دے رکھی تھی۔ لہذا سب اتحادیوں نے دل کھول کر ملکی اداروں کی تباہی و بربادی میں اپنے اپنے منہ اور ہاتھ رنگے۔ گیلانی بطور وزیراعظم صرف زرداری سے وفاداری نبھاتے رہے اور رحمان ملک کی ڈیوٹی صرف ایم کیو ایم کے تحفظات دور کرنا تھا جوکہ آج تک دور نہیں ہوسکے۔ مفاہمت نے وطن عزیز کو بہت نقصان پہنچایا۔ آج بھی مفاہمت کا راج ہے۔ شہباز شریف فرماتے تھے کہ ’’ذکر بار چالیس چوروں کے ٹولے کو بھاگنے نہیں دیں گے‘‘ ان سے ایک ایک پائی وصول کریں گے۔ ایک دو سال میں موجودہ حکومت ان سے آدھی پائی بھی وصول نہیں کرسکتی اور نیب کا چیئرمین بھی مفاہمت کے تحت پیپلز پارٹی کی مشاورت و مرضی سے لگایا گیا اب پیپلز پارٹی کے سب کرپٹ عناصر ’’ باعزت بری ہوتے جائیں گے۔ موجودہ حکومت نے سب سے پہلے مشرف کے خلاف آرٹیکل 6لگانے کا فیصلہ کیاتھا۔ خصوصی عدالت بھی قائم ہوئی۔ لاکھوں روپے قومی خزانے سے ججز صاحبان اور وکلاء کے علاوہ مشرف کی سکیورٹی پر اُڑائے گئے احسن اقبال صاحب نے یہاں تک فرمایا تھا کہ اگر ہم نے مشرف پر کوئی کمپرو مائز کیا تو میں سیاست سے علیحدہ ہوجائوں گا۔ پھر کیا ہوا خصوصی عدالت کو ہی کام سے روک دیا گیا اور مقدمات میں درجنوں بار شرف صاحب کو حاضری سے استثنیٰ مل چکا ہے۔ خصوصی عدالت کو کام سے روک دینا بھی نظریۂ ضرورت و آئین کی حکمرانی کہلائے گا؟ دھرنے کے دوران پی ٹی آئی والوں نے استعفے دیئے۔ جب استعفی کوئی ارکان دے دیتا ہے تو منظور کرنا یا نہ کرنا چہ معنی دارد؟… دھرنے میں پی ٹی آئی نے موجودہ حکومت کے پرخچے اُڑائے مگر ان کے استعفے منظور نہیں کئے گئے بلکہ چارماہ اسمبلی میں نہ آنے کے باوجود کروڑوں روپے ان کی تنخواہ ادا کی گئی جوکہ دینے والوں اور لینے والوں کو ذرابھی شرم نہیں آئی۔ کیا یہ سب کام آئینی تھا؟ آگے دیکھیئے۔ مفاہمت کیا رنگ لاتی ہے۔ اسمبلی میں پہلے دن آنے پر خواجہ آصف نے پی ٹی آئی والوں کا ’’کچھ شرم کرو کچھ حیا کرو‘‘ جیسے الفاظ سے استقبال کیا تھا۔ اسی پی ٹی آئی کے خلاف جب ایم کیو ایم اور جے یو آئی (ف) قرار داد لانا چاہتی ہے تاکہ انہیں ڈی سیٹ کیا جائے تو ن لیگ خود متحرک ہوجاتی ہے یہاں تک کہ سابق سپیکر ایاز صادق ملک دشمن و غدار الطاف حسین کو خود فون کرتے ہیں اور حکومت خود ایم کیو ایم و جے یو آئی (ف) والوں کے تحفظات دور کرکے پی ٹی آئی کے لئے ڈھال بن جاتی ہے مولانا فضل الرحمن جن کے مطابق پی ٹی آئی والے غیر حاضری کی بنا پر اسمبلی میں بیٹھنے کا آئینی حق کھو چکے تھے۔ جب ایم کیو ایم استعفیٰ پیش کرتے ہیں تو وہی حکومتی ایما پر ایم کیو ایم کو اسمبلی میں لانے کیلئے متحرک ہو جاتے ہیں یہاں تک کہ ’’نائن زیرو‘‘ بھی تشریف لے جاتے ہیں اور پھولوں کی پتیاں بھی موصوف پر نچھاور ہوتی ہیں۔ یہ وہی ایم کیو ایم ہے جس کے قائد الطاف صاحب جب چاہتے ہیں ملکی اداروں کے خلاف زبان درازیاں کرلیتے ہیں۔ رینجرز کو قتل کی دھمکیاں دیتے ہیں۔ ڈی جی رینجرز نے ان کے خلاف مقدمہ بھی درج کرارکھا ہے نہ صرف یہ بلکہ الطاف صاحب ہمارے ازلی و ابدی دشمن بھارت کو مدد کیلئے بھی پکارتے ہیں۔ رینجرز کے مطابق ایم کیو ایم کے لوگ ’’را‘‘ سے تربیت بھی حاصل کرکے آتے ہیں۔ رابطہ کمیٹی بھارت سے خط و کتابت بھی کرتی ہے۔ ان ایم کیو ایم والوں کو مولانا فضل الرحمن حکومتی ایما پر اسمبلیوں میں لانے کیلئے بے تاب ہیں۔ مقصد یہ کہ ’’مفاہمت‘‘ کی بنا پر سب حکومت میں رہیں گے تو حکومت پانچ سال پورے کرے گی۔ ہمارے ہاں سیاستدانوں کی نظر میں مفاہمت اور نظریۂ ضرورت مل کر آئین کی پاسداری کہلاتا ہے۔ آئین میں فوجی عدالتوں کا تصور بھی نہیں۔ عدالت عظمیٰ بھی فوجی عدالتوں کو جائز قرار دیا ہے۔ بعض اسے ضرورت قرار دے رہے ہیں۔ سول اداروں یعنی جمہوری حکومت کی اہلیت کے بارے میں یہ فوجی عدالتیں بہت بڑا سوالیہ نشان ہیں؟ حال ہی میں این اے 122کا فیصلہ الیکشن ٹربیونل نے دیاہے۔ ایاز صادق نااہل ہوگئے ہیں۔ ری پولنگ کا حکم دیا گیا ہے حالانکہ چند روز قبل جوڈیشل کمشن نے فیصلے میں صادر فرمایا تھا کہ ملک میں منظم دھاندلی نہیں ہوئی الیکشن شفاف تھے تو N.A122بھی ملک میں ہی شامل ہے۔ دوسری طرف ایاز صادق صاحب نے کہا ہے کہ ’’ میرے ساتھ انصاف نہیں ہوا۔ انہوں نے فیصلہ کس لیے دیا اللہ جانتا ہے یا وہ جانتے ہیں پیسے کی خاطر دیا یا پریشر میں دیا‘‘ قومی اسمبلی کے سابق سپیکر کا یہ کہنا بڑا حیران کن اور معنی خیز ہے کیا ہمارے ہاں پیسے لے کر بھی حق کو ناحق بنادیا جاتا ہے؟