NBF کے کامیاب میلے کا سوگوار اختتام

کالم نگار  |  عائشہ مسعو د ملک
NBF کے کامیاب میلے کا سوگوار اختتام

بہت دن ہوگئے تھے کہ وسیع پیمانوں پر گفتگو کے مواقع نہیں مل رہے تھے۔بہت دن سے ایسے حالات تھے کہ افسانے کی تمشیلات او رشاعری کے استعاروں پر بات تفصیل سے نہیں ہو پارہی تھی۔بہت دن سے جبر اور آزادی کے فرق پر بحث مباحثہ نہیں ہورہا تھا اور پھر ستم یہ کہ ایسے ایسے واقعات ایک تسلسل سے سننے کو مل رہے تھے کہ حسن وعشق اور پھر اس حسین جذبے کی فسوں سازی پر بات نہیں ہورہی تھی۔اور یوں محسوس ہورہا تھا جیسے ایک پیاس ہے جو بڑھتی ہی چلی جارہی ہے۔ لیکن اس اضطراب کا سرا نہیں مل رہا تھا۔اور پھر ایسے ہی موسموں میں اور ایسے ہی جذبات کی موجودگی کے درمیان دو مواقع ایسے آگئے کہ آسمانوں سے مشعل نور کے اترنے کا یقین بھی ہوا اور انسانیت کو معاشرے میں پھر سے منور دیکھنے کی امید بھی زندہ ہوگئی۔کیونکہ پچھلے کئی برسوں سے یہ معلوم ہی نہیں ہورہا تھا کہ کون سی طاقت ہے جس نے ہمیں یوم مرگ منانے پر لگادیا ہوا ہے اور کون سا رستہ ہے جس پر چل کر ہم زندگی دینے والی منزلوں پر جاپہنچیں گے میلوں ٹھیلوں کا تو تصور ہی معددم کیا جارہا تھا۔بقول مرتضٰے برلاس …؎
ہیں نئے پودوں کی جو نشو ونما میں حائل
جھاڑیاں چھاٹنی ہونگی وہ چمن سے اپنے
قومی ادبی و تاریخی ورثہ ڈویژن نے جھاڑیاں چھانٹنے کا کام یوں کیا کہ پہلے اکیڈمی آف لیٹرز کے زیر اہتمام مظفرآباد میں کانفرنس منعقد ہوئی جسمیں ملک بھر سے دانشوروں،شاعروں اور ادیبوں نے شرکت کی اور اس کانفرنس کے آخر میں کشمیری نوجوانوں نے خوبصورت کلچرل شو کرکے قلب و جگر کو نشتر چھبونے والے موسموں کی اذیت کو کچھ دیر کے لئے تو دور کردیا پھر فوراً ہی پاکستان کے دارالحکومت میں قومی کتاب میلے کا تین روزہ جشن شروع ہوگیا۔اس میلے کی تھیم میں یہ چار لفظ شامل تھے۔ کتاب،زندگی ،امید ،روشنی اور انہی چار لفظوں کے درمیان عوام کے بے پایاں سمندر نے اپنی بے کراں خواہشوں سے بلند امیدوں اور ناآسودہ حسرتوں کو تسکین دینے کا ذریعہ یوں بنا لیا کہ جہنم مثیل مایوسی کا لفظ کہیں دکھائی ہی نہیں دیتا تھا۔ اگر نیشنل بک فاونڈیشن نے اس سارے سلسلے کو ’’قومی کتاب میلہ‘‘ قرار دے کر ’’میلے‘‘ کا لفظ استعمال کیا تھا تو بالکل درست کیا تھا۔ بظاہر یہ میلہ کسی مزار پر سجنے والے ایسے میلے سے مختلف تھا کہ جہاں چوڑیاں مہندی اور پراندے بھی ملاکرتے ہیں۔ اور جہاں الہڑ شوقین مزاج لڑکیاں جھولے جھولتی ہیں اور پھر محبوب سے ملنے اور بچھڑنے کے مناظر سجتے ہیں اور دھمالیں ڈالی جاتی ہیں مگر یہاں تو یوں تھا کہ کتابوں کی مسحورکن خوشبو ہر طرف پھیلی ہوئی تھی۔کتابوں کے شوقین جوق درجوق آتے چلے جارہے تھے اور یوں کہ جیسے محبوب کے بلاوے پر آیا جاتا ہے اور یہاں آنے والوں میں پیرانہ سالی کی چادر اوڑھے ہوئے لوگ بھی تھے۔ نوجوان بھی تھے اور لڑکیاں اور ایسی عورتیں بھی تھیں کہ جن کی گودوں میں بچے غباروں اور رنگ برنگ پیرہن میں ملبوس لوگوں کو دیکھ رہے تھے اور پھر میلے میں آئے ہوئے لوگوں کی سوچوں میں سیم و زر کا کوئی تصور نہیں تھا بلکہ یہ کشادہ دلوں اورفراخ دلوں کا ایسا میلہ تھا جو جھولیاں بھر بھر کر کتابیں لے رہے تھے۔ تب خیال آیا کہ کون کہتا ہے کہ ہم منفی سوچوں والے لوگ ہیں کون کہتا ہے کہ ہمیں کتابوں سے محبت نہیں رہی دراصل ہماری قوم نے تشدد پسندوں کے اقدامات سے ہی اب سہولت پسندی اور نرمی سیکھ لی ہوئی ہے اور خاموش رہ کر سفر کرنے کا ہنر سیکھ لیا ہوا ہے نیشنل بک فاونڈیشن کے تین دن کے اس میلے میں بہت سارے موضوعات پر مبنی مختلف سیشنز بھی ہوتے رہے تھے۔ اور بہت سارے موضوعات پر سیر حاصل گفتگو ہوتی رہی تھی اتنے سارے افراد کو کامیابی سے لے کر میلے کو سجانا آسان بات نہیں تھی۔ اور یہ بغض اور حسد کی بات ہوجائے گی کہ اگر موجودہ دور میں اس طرح کی کانفرنس یا میلوں کی ضرورت سے انکار کیا جائے قومی ادبی تاریخی داد لی ورثہ ڈویژن کے عرفان صدیقی خود بھی ادب و کالم سے وابستہ رہے ہیں اور پھر انہیں ڈاکٹر انعام الحق جاوید جیسا انتھک کام کرنے والا شخص بھی مل گیا ہے جنہوں نے ان حالات میں وہ سب کر دکھایا جسکو کرنے کی ضرورت تھی۔ بالکل اسی طرح اکیڈمی آف لیٹرز کے چیئرمین ڈاکٹر قاسم بگھیو نے بھی کامیاب کانفرنسوں کا ایک سلسلہ ابھی تک چلایا ہوا ہے۔ تازہ ترین کانفرنس ’’فاٹا‘‘ میں ہو رہی ہے۔ ان تقریبات میں بلوچستان‘ سندھ اور فاٹا کے ان لوگوں سے ملنے کا اتفاق بھی ہوا جو بہت کم دکھائی دیا کرتے تھے۔ کیونکہ ایک زمانے میں اداروں کے سربراہان ایسے تھے جو مخصوص گروہوں کی پرورش کرتے رہتے تھے بجائے اس کے کہ لوح و قلم کی پرورش کی جاتی اور اس لئے اداروں میں ترقی کی بجائے تنزلی شروع ہو چکی تھی۔ دراصل کتاب زبان اور کلچر سے وابستہ اداروں کی خوشبو کو روک کر رکھنا یا چند لوگوں کو اپنے مقاصد کے لئے مہمیز کرتے رہنا بہت بڑا ظلم ہوتا ہے۔ کیونکہ ہمارے ملک میں زندگی ویسے بھی کئی طرح کے شعلوں میں دھیمی دھیمی سلگائی جاتی رہی ہے تو ایسے میں منافقت یا اقرباء پروری کی بو معاشرے میں پہلے سے موجود بدبو میں مزید اضافہ کر دیتی ہے۔ نیشنل بک فاؤنڈیشن کا میلہ خوش اسلوبی کے ساتھ اختتام پذیر ہورہا تھا کہ ایک ایسا حادثہ پیش آ گیا جس کی وجہ سے پوری ادبی دنیا ابھی تک سوگوار اور اشکبار ہے۔ خوبصورت جواں سال شاعرہ فرزانہ ناز اپنی کتاب دینے کیلئے سٹیج کی طرف گئی جہاں احسن اقبال‘ عرفان صدیقی ‘ عطاء الحق قاسمی اور ڈاکٹر انعام الحق جاوید موجود تھے کہ رش میں وہ سٹیج کے پیچھے بنے ہوئے ’’موت کے کنویں‘‘ میں جا گریں اور پھر یہ خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی کہ فرزانہ ناز کو ہاسپٹل میں داخل کر دیا گیا ہے لیکن اگلے روز یہ دردناک خبر بھی مل گئی کہ وہ اس جہان فانی سے رخصت ہو گئی ہیں۔ اس کی کتاب کا نام تھا ’’ہجرت مجھ سے لپٹ گئی ہے‘‘ کہا جاتا ہے کہ موت سے پہلے موت کی دستک سنائی دینے لگتی ہے۔ اس کی کتاب کا نام اور ٹائٹل بھی سوگوار سا تھا۔ فرزانہ ناز کے وجود سے ہجرت ایسی لپٹی کہ اسے آسمانوں سے پرے کسی اور جہاں میں لے گئی۔ فرزانہ ناز کے دکھ کے ساتھ ہی اس کے دو بچوں کی معصوم عمروں ہی میں مامتا سے محرومی کا دکھ بھی سب کی سوچوں میں ابھی تک سلگ رہا ہے۔ فرزانہ ناز سے طلوع سحر‘ غروب آفتاب اور اس دنیا کی کہکشاں بچھڑ گئی اور وہ کسی اور ستارے پر جا بسی اور نئی کہکشاؤں کی طرف روانہ ہو گئی۔ مگر اب یہ ضروری ہے کہ اس کے معصوم بچوں کے لئے اس محرومی میں طلوع سحر اور مستقبل کی کہکشاؤں کے سارے منظر سنوارے جائیں۔ خوبصورت فرزانہ کسی ہرنی کی طرح چوکڑی بھر کر کہیں چلی گئی مگر حکومتی سطح پر اس کے بچوں کے مستقبل کے لئے اقدامات کرنا ضروری ہیں۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ پاک چائنا سینٹر میں موجود ’’موت کے کنویں‘‘ کو لاشوں سے بھرنے کی بجائے سلاخوں اور اینٹوں اور بجری سے بھر دینا چاہئے کیونکہ ماضی میں بھی یہ جگہ کچھ قیمتی جانوں کو نقصان پہنچا چکی ہے۔ اب یہ ضروری تو نہیں ہے کہ روشن روشن راتوں میں سکون و مستی سے آراستہ بستروں پر وقت گزارنے والوں میں سے کسی پر ایسا سانحہ گزرے تب ہی حفاظتی اقدامات کئے جائیں گے۔ میرا شعر ہے کہ …؎
دکھ بھری اک یاد بن کر دل میں رہتا ہے نہاں
چشم نم کے سامنے جب سانحہ رہتا نہیں