کسی نے سادھو کو پیپلز پارٹی کی طاقت کا راز بتا دیا

کالم نگار  |  سید سردار احمد پیرزادہ
کسی نے سادھو کو پیپلز پارٹی کی طاقت کا راز بتا دیا

پرانے وقت کی بات ہے۔ ایک مندر میں سادھو رہتا تھا۔ وہ اپنی پوجا پاٹ کے علاوہ اس مندر کی دیکھ بھال بھی کرتا۔ سادھو ہرروز شہر جاتا اور کھانے پینے کی چیزیں مانگ کر لاتا۔ جو کھانا اس کی ضرورت سے بڑھ جاتا وہ اسے ایک پیالے میں جمع کرتا جاتا تاکہ غریب مزدوروں میں تقسیم کرسکے۔ یہ غریب مزدور خوراک ملنے کے عوض مندر کی صفائی ستھرائی میں سادھو کا ہاتھ بٹاتے۔ اسی پرانے مندر میں ایک چوہا بھی عرصہ دراز سے رہتا تھا۔ وہ چوہا اکثر سادھو کی جمع کردہ خوراک میں سے کھانا چرا کر لے جاتا۔ سادھو چوہے کی اس حرکت سے بہت عاجز آچکا تھا۔ اس نے چوہے کو خوراک چرانے سے روکنے کے لئے ہرطرح کے اقدامات کئے۔ جیسا کہ سادھو چھڑی لے کر چوہے کے پیچھے بھاگتا، اسے مارنے کی کوشش کرتا مگر چوہا صاف بچ نکلتا۔ یہاں تک کہ سادھو خوراک کے پیالے کو اونچی جگہ پر بھی رکھتا تاکہ چوہا وہاں تک پہنچ نہ سکے لیکن چوہا پھر بھی کسی نہ کسی طرح پیالے تک پہنچنے کا راستہ ڈھونڈ لیتا اور کھانا چرا لیتا۔

ایک دن ایک راہب کا ادھر سے گزر ہوا۔ اس نے کچھ وقت مندر میں گزارنے کا سوچا۔ راہب کافی دیر تک مندر میں سادھو کے قریب کھڑا رہا لیکن سادھو نے راہب کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا۔ سادھو کی پوری توجہ چوہے کو مارنے کی طرف تھی اس لئے وہ راہب کو نظر انداز کرتا رہا۔ راہب نے اسے اپنی بے عزتی سمجھا اور واپس مڑکر جانے لگا۔ جاتے ہوئے اس نے سادھو کو مخاطب کرکے کہا کہ میں اب تمہارے مندر میں کبھی نہیں آئوں گا کیونکہ میرے ساتھ بات کرنے کی بجائے تمہارے نزدیک چوہے کو مارنے جیسے معمولی کام زیادہ اہم ہیں۔ سادھو نے راہب کے آگے عاجزی سے ہاتھ جوڑے اور کہا میں بہت مشکل میں ہوں، آپ مجھے صلاح دیجئے۔ سادھو نے بتایا کہ اس مندر میں ایک چوہا رہتا ہے۔ میں جو خوراک بھی غریب مزدوروں کے لئے پیالے میں جمع کرتا ہوں اس میں سے یہ چوہا خوراک چرا کر لے جاتا ہے۔ میں نے اسے مارنے کی بہت کوشش کی لیکن اب تک ناکام رہا۔ آپ کہئے میں کیا کروں؟ راہب نے ایک لمحے کی خاموشی اختیار کی اور سادھو کے چہرے پر نظریں گاڑتے ہوئے کہنے لگا کہ چوہے کی خوداعتمادی کے پیچھے ضرور کوئی طاقت ہے۔ راہب نے مزید کہا کہ مجھے یقین ہے کہ چوہے نے خوراک کا بہت سا ذخیرہ اکٹھا کررکھا ہوگا جس سے اس میں بہت خوداعتمادی آچکی ہے اور اس میں اتنی طاقت بھی بھر گئی ہے کہ اونچی چھلانگ لگاکر تمہارے خوراک کے پیالے تک بھی جاپہنچتا ہے۔ چوہا جانتا ہے کہ اگر وہ خوراک کے پیالے تک نہ پہنچ سکا تب بھی اسے کوئی نقصان نہیں ہوگا کیونکہ اس کے پاس خوراک کا پہلے سے بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ لہٰذا اس کے پاس کھونے کے لئے کچھ نہیں اس لئے وہ تم سے ڈرتا بھی نہیں ہے۔ راہب نے سادھو کو مشورہ دیا کہ وہ چوہے کے بل کا راستہ تلاش کرے اور اس کی خوراک کے ذخیرے تک پہنچے۔ اگلی صبح سادھو چوہے کی تاڑ میں بیٹھ گیا۔ جونہی اسے چوہا نظر آیا وہ چپکے چپکے اس کے پیچھے چلتا گیا۔ جب وہ چوہے کے بل کے دروازے تک پہنچ گیا تو اس نے بل کی کھدائی شروع کردی۔ زمین میں لمبی کھدائی کرنے کے بعد سادھو کو یہ دیکھ کر حیرانگی ہوئی کہ چوہے نے سچ مچ اناج کا ایک بڑا ذخیرہ جمع کررکھا تھا۔ سادھو نے چوہے کے بل سے تمام اناج اکٹھا کیا اور باہر لے گیا۔ شام کو جب چوہا اپنے بل میں واپس آیا تو اس نے تمام اناج غائب پایا۔ خوراک کی گمشدگی چوہے کو بہت پریشان اور غمگین کرگئی۔ اس پریشانی اور غم کا چوہے پر پہلا اثر یہ ہوا کہ اس کی خوداعتمادی غائب ہوگئی اور وہ ڈرنے لگا۔
دوسرا اثر یہ ہوا کہ بھوک کی وجہ سے اس کی جسمانی طاقت میں کمی آنی شروع ہوگئی۔ تاہم چوہے نے خیال کیا کہ رات کو جب سادھو خوراک کا پیالہ اونچی جگہ پر رکھے گا تو وہ اس میں سے خوراک چرا کر اپنا پیٹ بھر لے گا۔ جب رات ہوئی تو اس نے اپنی پہلی سی عادت کے مطابق پیالے پر چھلانگ لگانے کی کوشش کی لیکن جسمانی طاقت نہ ہونے کے باعث دھڑام سے زمین پر آگرا۔ اسے فوری احساس ہوا کہ اب اس میں پہلی سی طاقت بھی نہیں ہے اور طاقت نہ ہونے کے باعث وہ خوداعتمادی بھی کھو چکا ہے۔ عین اسی وقت سادھو نے چھڑی سے اس پر حملہ کیا اور اسے مارمار کر ڈھیر کردیا۔ اس کہانی کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دشمن کو تباہ کرنے کے لئے اس کی طاقت کے ذخیرے کو نشانہ بنانا چاہئے۔ ایک وقت تھا جب پاکستان پیپلز پارٹی کھمبے کو بھی اپنا انتخابی ٹکٹ دیتی تو وہ کھمبا جیت جاتا۔ اس جماعت کی طاقت اور خوداعتمادی عوام تھے۔ مخالفین نے پیپلز پارٹی کی طاقت اور خوداعتمادی کو ختم کرنے کی ہرممکن کوشش کی لیکن ناکام رہے۔
مثلاً ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی اور جنرل ضیاء الحق کے گیارہ برس بھی پیپلز پارٹی کو تباہ نہ کرسکے۔ پیپلز پارٹی کے خلاف نوے کی دھائی میں ہونے والی سازشیں بھی پیپلز پارٹی کو ختم نہ کرسکیں۔ جنرل پرویز مشرف کا جگاپن بھی پیپلز پارٹی کے آگے ڈھیلا پڑکر این آر او کرنے پر مجبور ہوگیا۔ بینظیر بھٹو کی المناک موت بھی پیپلز پارٹی کو دفنا نہ سکی لیکن اب خاندانی قبضے اور کرپشن کے باعث پیپلز پارٹی کی طاقت اور خوداعتمادی کا پول کھل کر سب کے سامنے آچکا ہے۔
آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ بلاول بھٹو آئندہ انتخابات کی مہم چلائیں گے اور وہ خود پورے انتخابی عمل کی نگرانی کریں گے۔ آصف علی زرداری اپنی پرانی خود اعتمادی کے باعث اونچے رکھے پیالے پر چھلانگ لگانے کی ناکام کوشش کررہے ہیں کیونکہ ان کی طاقت یعنی عوام ان کے گھر سے بہت دور جاچکے ہیں۔ لگتا ہے کسی نے سادھو کو پیپلز پارٹی کی طاقت کا راز بتا دیا تھا۔