چیف جسٹس نفاذ اردو کیلئے نگران جج مقرر کریں!

کالم نگار  |  سید روح الامین
چیف جسٹس نفاذ اردو کیلئے نگران جج مقرر کریں!

وطن عزیز میں قومی زبان اردو کے نفاذ کے بارے 70 سال سے قائداعظم کے فرامین کی تضحیک کی جارہی ہے اور 73ء کے آئین کی شق (251) الف کا جس طرح مذاق اڑایا جارہا ہے دنیا کی تاریخ میں ایسی بے ہودہ مثال ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی۔ سیاستدانوں کا تو کام ہی لوٹ مار‘ کرپشن کے انبار لگانا ہے انہیں وطن عزیز کی ثقافت‘ تہذیب‘ تعلیم اور قومی سلامتی سے کوئی سروکار نہیں۔ کہنے کو تو عمران خان کہتا ہے میں نیا پاکستان بنانے جارہا ہے۔ جناب کیوں؟ قائداعظم کا پاکستان آپ کو اچھا نہیں لگتا؟ ارے جناب آپ آئے روز نئی دلہن تو لاسکتے ہیں یا دو چار کنال میں نیا گھر بنا لو گے پاکستان قائداعظم بنا کر دے گئے ہیں اب اس کو قائداعظم کے فرامین کے مطابق چلانے کی ضرورت ہے جو کہ سیاسی مداریوں سے نہیں ہورہا۔ احتساب عدالت پیشی کے بعد سابق وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ میں قائداعظم کے پاکستان کا مقدمہ لڑتا رہوں گا۔ جناب کون سا مقدمہ؟ 35 سال سے آپ حکومت میں رہے اور آج بھی آپ کی پارٹی کی حکومت ہے۔ قائداعظم کے پاکستان میں ان کے فرمان کے مطابق قومی زبان اردو تو آپ نافذ کر نہیں سکے حالانکہ آپ کے حالیہ دور میں ہی چیف جسٹس جواد ایس خواجہ اردو کے نفاذ کا حکم بھی جاری کرچکے ہیں۔ 70 سال سے نفاذ اردو کے بارے آئین سے جو کھلواڑ ہورہا ہے اس کا نوٹس کون لے گا۔ چین کی مثالیں اکثر سننے کو ملتی ہیں‘ وہ ہم سے ایک سال بعد آزاد ہوا‘ وہ ایک خوددار قوم ہے جہاں بھی ان کے صدر‘ وزراء ‘ سفیر جاتے ہیں اپنی زبان چینی میں تقاریر کرکے فخر محسوس کرتے ہیں‘ شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے۔ آج سی پیک کی خاطر ہمارے خادم اعلیٰ صاحب پاکستانی طلباء کو چینی زبان سیکھنے کیلئے جتن کررہے ہیں کیسی خودداری اور غیرت ہے۔ انہوں نے اپنی قومی زبان میں تعلیم حاصل کی‘ اپنی ثقافت کا بول بالا کیا‘ ہمیں جو بھی ’’بھیک‘‘ دے ہم اس کے دیوانے ہوجاتے ہیں۔ کل کو اگر روس‘ اسرائیل کوئی بھی ہمیں سی پیک دے گا تو ہم ان کی زبانیں سیکھنے چل پڑیں گے یا ہمیں انگریزوں کی زبان پرائمری سے پڑھنے پر مجبور کیا جاتا ہے‘ بھئی اشرافیہ کے تو محلات‘ فلیٹس دیگر ممالک میں ہیں انہیں تو وہاں رہنا ہوتا ہے انگریزی پڑھیں‘ 20 کروڑ پاکستانی عوام کو تو اپنی قومی زبان اردو میں تعلیم حاصل کرنے دیں تاکہ بانی پاکستان کے ارشادات کے علاوہ 73ء کے آئین پر بھی عمل ہو۔ 70 سال سے کسی سیاسی پارٹی نے قومی زبان اردو کے عملی نفاذ کو اپنے منشور کا حصہ نہیں بنایا۔ یہ ہے ان کی حب الوطنی؟ اور پاکستانیت؟ ویسے ان کی باتیں سنتے جایئے آپ پریشان ہوجائیں گے اور یہ سوچنے پر مجبور ہوں گے کہ ان سے بڑا قائداعظم کا عاشق اور آئین کا احترام (زبانی حد تک) کرنے والا ہے ہی کوئی نہیں۔ سابق وزیراعظم کی نااہلی کو ختم کرنے کیلئے راتوں رات ترمیم منظور کرا لی گئی ہے کیا نفاذ اردو کیلئے یہ بے بس ہیں؟ نہیں ان کی نیتوں میں فتور ہیں۔ چیئرمین سینٹ رضا ربانی صاحب ویسے تو ڈکٹیٹروں کیخلاف بولنے کے علاوہ اور بھی بڑی باتیں کرتے ہیں کیا آئین کی شق (251) ان کو نظر نہیں آتی۔ اس کے بارے کیوں خاموش ہیں ؟ اللہ بھلا کرے ’’صدر‘‘ زرداری کا جنہوں نے بی بی صاحبہ کے ساتھ پی پی پی کا بھی خاتمہ کردیا ہے۔ بی بی صاحبہ کے بارے ہم نے نہیں کہا بلکہ ’’صدر‘‘ مشرف نے کہا ہے۔

پی پی پی بھی جب اقتدار میں آتی تھی اپنی تجوریاں بھرنے کے علاوہ انہیں بھی کچھ نہیں آتا۔ نیب کو سپریم کورٹ نے مردہ قرار دیا لہٰذا اب نیب کی نگرانی کیلئے ایک جج صاحب مقرر کئے گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ’’لاحاصل‘‘ ہی سہی نیب پُھرتی دکھا رہا ہے۔ یہ ہمارا موضوع نہیں صرف مثال دینا درکار تھا۔ جیسے نیب کی نگرانی ایک جج صاحب کررہے ہیں ہماری چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار صاحب سے درخواست ہے کہ 70 سال سے جس طرح قومی زبان سے بے اعتنائی برتی جا رہی ہے۔ 73ء کے آئین میں اردو کے نفاذ کیلئے 15 سال کی مدت مقرر کردی گئی یعنی اگست 1988ء میں حتمی طور پر اردو نے انگریزی کی جگہ سرکاری زبان بننا تھا مگر 29 سال سے آئین شکنی مسلسل ہورہی ہے۔ عدلیہ سمیت سب نے آنکھیں کبوتر کی طرح بند کررکھی ہیں۔ جسٹس جواد ایس خواجہ اپنا فیصلہ بھی دے چکے ہیں۔ ہماری چیف جسٹس صاحب سے گزارش ہے کہ نفاذ اردو کو عملی شکل دینے کیلئے بھی اعلیٰ عدلیہ کے ایک جج صاحب کو بطور نگران مقرر کیا جائے اور 6 ماہ کی مدت مقرر کی جائے تاکہ حکومت 6 ماہ میں تمام اداروں میں قومی زبان اردو کو نافذ کرنے کی پابند ہو۔ صدر‘ وزیراعظم سمیت تمام سربراہان کو اس بات پر سختی سے پابند کرایا جائے کہ اندرونی اور بیرونی دوروں میں سب قومی زبان اردو میں تقاریر کریں گے جو اس کی خلاف ورزی کریں اسے جرمانہ یا سزا دی جائے۔ ہر زندہ اور غیرت مند قوم کو اپنی ثقافت عزیز ہوتی ہے اور وہ اسے کسی قیمت پر بھی مٹتے ہوئے یا برباد ہوتے نہیں دیکھ سکتی۔ کیا ہم زندہ اور باغیرت قوم نہیں ہیں؟