امریکی صدر اور صدارتی امیدوار کی پالیسی کا جائزہ

کالم نگار  |  خواجہ ثاقب غفور
27 اکتوبر 2012 0
Print Email to friend

 امریکی صدر باراک اوباما اور ان کے حریف صدارتی امیدوار مٹ رومنی نے قومی مباحثے میں پاکستان، ایران، افغانستان اور دیگر اسلامی ممالک کے بارے میں امریکی جارحانہ پالیسیاں جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے جو کہ ان اسلامی ممالک اور حکمرانوں کے علاوہ جرنیلوں کے لئے بھی خطرے کا الارم ہے جس کے لئے نئی قومی سلامتی پالیسی کی تشکیل اور قومی اتفاق رائے قائم کرنا اور پارلیمنٹ سے متفقہ یا کم از کم اکثریتی نمائندگی کی پالیسی بنانا لازم ہو گیا ہے کیونکہ قومی سلامتی کو چیلنج کیا جا رہا ہے کچھ تجزیہ قوم کے سامنے مباحثے اور حل کے لئے دیا جا رہا ہے۔
صدر اوباما اور ری پبلکن مٹ رومنی نے پاکستان میں ڈرون حملے جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ شمالی وزیرستان اور قبائلی علاقے آئندہ بھی امریکی جارحیت، قومی خود مختاری کی بربادی اور قومی سلامتی کے خلاف امریکی و نیٹو ”محاذِ جنگ“ کا حصہ رہیں گے۔ صدر جو بھی امریکی عوام منتخب کریں پاکستان پر امریکی و نیٹو فوجی ٹارگٹ آپریشن کا فیصلہ ہو چکا، البتہ وہ خارجہ پالیسی کے ہتھکنڈوں میں اس کا ننگا اعلان ابھی نہیں کریں گے، ایکشن اور شدید دبا¶ پاکستانی جرنیلوں اور سیاستدانوں (حکمرانوں) پر برقرار رہے گا اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ ہمارے محب وطن قبائل کو در بدر کرنے، بچوں عورتوں کو مارنے، مہاجر بنانے، گھر بار، کھیت، دکان، کاروبار، بچیوں کی تعلیم سب کچھ جلد یا بدیر شمالی وزیرستان میں تباہ کروانے کا امریکہ منصوبہ بتا دیا گیا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ شمالی وزیرستان کے مجاہدین (جو افغاستان میں حقانی و دیگر نیٹ ورک جہاد میں مصروف ہیں) اور قبائلی گروپوں کو افواج پاکستان سے محدود یا کھلی جنگ میں الجھا کر ان میں نفرتوں، عداوتوں، انتقام اور دشمنی کو وسیع تر کیا جائے تاکہ پاکستانی افواج کے اندر موجود پٹھان فوجیوں میں نظم و ضبط کے مسائل پیدا ہوں اور پاکستانی افواج ”گرم جنگ“ میں الجھ کر بھارت سے مقابلے کے قابل ہی نہ رہے اور عدم توازن شدید تر ہوتا جائے، بھارتی بارڈر خالی ہوتا جائے اور کسی ”درست وقت“ پر پاکستان پر بھارت سے حملہ کروانا آسان ہو اور پاک افواج افغان اور بھارتی بارڈر پر ”سینڈوچ“ بنا دی جائے۔ ڈرون حملوں کے اضافے کا واحد مقصد بھی محدود دہشت گرد کمانڈرز کی بجائے قبائلی عوام کو پاکستان، قومی سیاسی قیادتوں، افواج پاکستان اور آئین پاکستان (جو ان کے جان مال آبرو کی حفاظت کا ذمہ لیتا ہے) سب سے ہی متنفر کر کے ”باغیانہ جذبات“ کو ہَوا دی جا چکی ہے کیونکہ افواج کے بڑے جرنیل اور موجودہ حکمران قبائلی عوام کو نیٹو و امریکی حملوں سے بچانے کی قومی خارجہ پالیسی کو کامیاب نہیں کروا سکے۔ یہ تلخ حقیقت ہے مگر سچ ہے! بے گناہ قبائل کے بچوں، عورتوں، بوڑھوں کے ٹکڑے ہوئے جلے ہوئے اعضا دیکھ کر بچ جانے والے جوانوں اور عزیزوں میں ”انتقام“ کے جذبات کو شدید تر کرتے ہیں جو افواج اور امریکہ کے ساتھ حکمرانوں سے بیزاری کے جذبات پر منتج ہوتے ہیں۔ یہ سارا ”فتنہ و فساد“ امریکی سازش ہے تاکہ پاکستان ہو جائے۔
امریکی حکمت عملی اور پالیسی بالکل واضح ہے وہ ”کیرٹ اینڈ سٹک“ کا بہت جارحانہ استعمال کر رہے ہیں جس کی بڑی مثال نیٹو سپلائی کی بحالی، ریمنڈ ڈیوس کا مکھن سے بال کی طرح نکالنا، پارلیمنٹ کی قومی قیادت مع جرنیلوں کے فیصلے سے منظور شدہ قومی قراردادوں کو ردی کی ٹوکری میں پھینکنا اور ڈرون حملے اور سلالہ حملے کے علاوہ اسامہ اپریشن امریکی حقیقی پالیسی کی آپریشنل سٹرٹیجی ہے۔ اب 2012ءکے امریکی انتخابات کے بعد بھی کانگریس، سی آئی اے، پینٹاگون کی پالیسی تقریباً وہی رہے گی۔ پاکستان کو آج تک سو پیاز اور سو چھتر کھانے پر مجبور کرانے والے حکمرانوں اور ان کے مشیروں سے کسی تبدیلی کی توقع بالکل بیکار ہے۔ نئی قومی قیادت کا ووٹوں سے انتخاب عوام کے ذمہ ہے فیصلہ یہ کرنا ہے کہ پاکستان کو امریکی غلامی میں ہی رکھنا ہے یا خودداری، وقار، احترام، برابری کے ساتھ امریکی چالو اور جارحانہ پالیسی کو حکمت، غیرت، بصیرت سے بنانا اور نافذ کرنا ہے۔



دیگر خبریں

متناسب نمائندگی

متناسب نمائندگی

01 ستمبر 2014

جمہوریت کیلئے انتخابات بنیادی اہمیت کے حامل ہیں۔ پاکستان میں اس وقت انتخابات نہ صرف زیر بحث ہیں بلکہ انہوں نے ملک کو ایک بحران میں مبتلا کر دیا ہے جس کے نتیجہ میں ...