قیادت پُرامن کب ہو گی؟

کالم نگار  |  مسرت قیوم
قیادت پُرامن کب ہو گی؟

عوام پُرامن رہیں۔ افواہوں پر کان نہ دھریں۔ ”20 دن“ تک تو پُرامن ہی تھے۔ سمجھ نہیں پائے کہ اتنے دن غفلت کیوں برتی گئی۔ لاہور سے فیض آباد تک نہ تو مکمل پہاڑی علاقہ تھا نہ ہی سمندر بیچ سے گزرتے راستے کہ چھوٹے سے قافلے کو روک نہ سکے۔ افواہوں پر کان نہ دھرنے والی نصیحت‘ مشورہ درست مان سکتے تھے۔ اگر سچ بولنے کی روایت جاری ہوتی۔ عوام کو معلومات کی بندش کر کے کہا جائے کہ کان نہ دھریں۔ معلومات تک رسائی کے بنیادی حق سے محروم کر کے مشورہ دینا بلکہ اصرار کرنا کہ صرف ”حکومتی منہ“ پر بھروسہ کریں۔ انتہا درجہ کی کم عقلی ہے۔ تمام ”برقیاتی ذرائع“ کو بند کر کے خود حکومت نے خوف پھیلایا۔ خوف و ہراس میں افواہیں‘ خدشات زیادہ پھیلتے ہیں۔ مختلف کہانیاں ہیں۔ ملی بھگت‘ طے شدہ پلان‘ مختلف مقاصد کا حصول‘ نجانے کیا کیا سازشی تھیوری مارکیٹ میں چل رہی ہیں۔ سوال پھر وہی کہ نوبت کیوں آنے دی گئی؟ ہمیشہ کی طرح اب کی مرتبہ پھر سے ”سہولت کاری“ فراہمی کا الزام یا سچ۔ یہ صرف ارباب حل و عقد جانتے ہیں۔ ہم تو صرف یہ جانتے ہیں کہ معیشت کو دھرنوں‘ احتجاجوں نے لاعلاج مرض میں مبتلا کر دیا ہے۔ صرف مظاہروں سے 50 ارب روپے کا نقصان کیونکہ مارکیٹ بند رہیں‘ کاروبار سنسان حتیٰ کہ متعدد شادیاں ملتوی کرنا پڑ گئیں۔ باراتیں واپس جانے سے والدین کے کرب‘ دکھ کا مداوا کوئی کر سکتا ہے۔ مسئلہ اتنا بڑا نہیں ہوتا مگر نمٹنے کا طریق کار بے حد غلط ہے۔ ہرطرف سے بات انا‘ ضد کی بن جائے تو جو نقصان ہوتا ہے وہ ”ریاست“ کا ہوتا ہے۔ عوام پستے ہیں۔ عوام تو پُرامن ہیں مگر قیادت کب پُرامن ہو گی؟ دھرنا ہو یا ریلی‘ کوئی نہ کوئی قیادت کر رہا ہوتا ہے۔ چاہے مذہبی ہو یا سیاسی۔ تنظیم چھوٹی ہو یا بڑی‘ ذمہ دار بہرحال قیادت ہوتی ہے۔ پر قیادت کو کون سمجھائے؟ یہ ملک چند سو کا نہیں۔ ہم سب کا ہے۔ 25 کروڑ پاکستانیوں کا ملک‘ ایک کروڑ اشرافیہ کی جاگیر نہیں۔ قیادت پر پہلے ہی سیاہ دھبوں کی ایک لمبی فہرست ہے۔ اعلیٰ عدلیہ پر حملہ‘ اداروں سے چپقلش‘ سربراہاں سے ورکنگ ریلیشن اچھے نہ ہونے کی تاریخ ابھی تک شرمندہ ہے۔ کیا اشرافیہ‘ قیادت اپنے ماضی کی سنہری کہانیوں اور لمحہ بہ لمحہ بدلتی رُت کی یادداشت کھو چکے ہیں یا قصداً بھولنے کی اداکاری ہو رہی ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ عقل و دانش ہماری زندگیوں کا گمشدہ ماضی بن چکا ہے۔ جمہوریت کی طلب میں فریاد کناں مگر رویے‘ افعال آمرانہ‘ اس بات کو ماننے سے یکسر انکار کرتے ہیں جو اپوزیشن کر رہی ہے۔ حکومت قطعاً کمزور نہیں بلکہ حالات سدھارنے میں دلچسپی نہیں رکھتی۔ کہا جاتا تو الزام میں وزن ہوتا۔ کچھ لوگ اب بھی اپنی کہانی پر قائم ہیں کہ کسی مذموم مقصد کے لئے ایسا تاثر پھیلایا جا رہا ہے تاکہ دشمن قوتوں کو پرانے منصوبہ پر عمل درآمد کے لئے سہولت کاری مہیا ہو۔
پتھرا¶‘ شیلنگ‘ راستے بند‘ موٹر وے بند‘ شہری گھروں میں محصور‘ ٹی وی بند‘ بس اب ”سانس“ بند کرنا باقی رہ گیا ہے۔ معاملہ اتنا بڑا تھا نہ مشکل مگر جان بوجھ کر یا پھر نالائقی‘ بدنظمی کہ الجھا کر سب کو ایک ٹوکری میں اکٹھا کر دیا۔ سینکڑوں زخمی‘ 7 افراد ہلاک‘ ہمارا مشورہ ہے کہ حکومت ہر بات میں سازش کی بُو سونگھنا بند کر دے۔ یہ پالیسی نہ صرف ”رِٹ“ کو کھوکھلا کر رہی ہے بلکہ فیصلہ سازی کی صلاحیت کو بھی زنگ لگا چکی ہے۔ مزیدبراں حکومت بمقابلہ ادارے والی روش بھی کسی لحاظ سے مستحسن نہیں۔ سیاست کو بقا درکار ہوتی ہے اسی طرح جیسے پانی کو راستہ۔ اگر خول میں بند کر لیں گے تو بوریا بستر سمیٹ دیا جاتا ہے۔ زندگی کے لئے سانس ضروری ہے تو جمہوریت کے لئے سب کا احترام چاہیے ادارے ہیں یا رائے عامہ۔
کہیں خوشی‘ کہیں غم کا موقع‘ مقصد بہت عظیم مگر طریق کار پر کچھ تحفظات ہیں۔ سچ تھا ”معزز عدلیہ“ کا فرمانا کہ احتجاج سے اسلام کی عظمت نہیں بڑھ رہی۔ ڈنڈے کے زور پر سچ بات بھی اچھی نہیں لگتی۔
”اعلیٰ عدلیہ“ نے تو پابندی لگا دی تھی اخباری خبر کے مطابق مگر منایا گیا اور خوب منایا گیا۔ کوئی سڑک خالی نظر آئی نہ شاپنگ سنٹر۔ حتیٰ کہ سڑکوں پر رواں گاڑیوں میں شاپنگ بیگز کے ڈھیر پڑے دیکھے۔ پیدل لوگوں کے ہاتھ بھی خالی نہ تھے۔ ”منحوس اذہان“ کی خباثت نے ہمارے نہایت محترم‘ مقدس دن کو کیا نام دے ڈالا کہ پچھلے سال تو پھر کچھ سکون تھا مگر اس مرتبہ بھی تو ہم سب نے ”دشمنان دین“ کے پہلو بہ پہلو خوب دل بھر کر حصہ ڈالا۔ اس دن ایک چیز کی ”تدفین“ ہو گئی۔ اقرار کی، رہی سہی اخلاقیات کی اور یہ کسی ایک گروہ قوم کا دوش نہیں، ہم سب ذمہ دار ہیں۔ ہتھیار وہ بناتے ہیں خریدتے ہم ہیں مگر استعمال اپنے دشمنوں پر نہیں کرتے، ان کے دشمنوں پر کرتے ہیں یعنی اپنے مسلمان بھائیوں پر۔ اختلافات وہ پیدا کرتے ہیں لڑائی کا میدان ہم سجاتے ہیں، وہ جو” قرآن و سنت “ سے صریع دشمن ثابت ہیں ان پر اعتبار اتنا کہ ساری دولت ان کے خزانوں میں جمع کروا رکھی ہے۔ ذاتی مفادات کو کوئی عقیدت کا مسئلہ بنا دیتا ہے تو کوئی سیاست کو مذہب کا لبادہ پہنا کر عوام کو بیوقوف بناتا ہے تو ایسے میں پوری امت استعمال تو ہو گی۔
وہ جو 20دن سے سردی کی پرواہ کیے بغیر بیٹھے ہیں اور ان کے حامی سارے ملک میں پھیلے ہوئے ہیں کیا ان تک دن منانے کی خبر نہیں پہنچی۔ دس ارب روپیہ غیر ملکی اداروں نے نفع کما لیا۔ کیا اچھا نہ تھا کہ ملکی ساختہ چیزوں کی قیمتیں ان کے اعلان کردہ رعایتی پیکج سے بڑھا کر ملک کا خیر خواہ بنا جاتا۔
سب سے بہترین تو یہی تھا کہ ایسے علاقوں، سڑکوں کا گھیراﺅ کیا جاتا۔ پورا ہفتہ ” شاپنگ میلہ “ کا خلجان برپا رہا پوری والے بھی سڑکیں ”بدنام نام“ سے مزین اشتہاروں سے آلودہ تھیں سماجی بہتری، سدھار یا اپنے سنہری کارناموں پر مشتمل تاریخ کو کسی بھی طرح منا لیں کوئی اعتراض نہیں مگر ” جمعة المبارک“ تمام دنوں کا سردار اسے کسی نام سے معنون کرنا اب قبول نہیں۔ مذہب کو روز گار بنانے والوں اور مذہب سے سیاست کو جانے والوں سے ضرور پوچھنا چاہئے کہ ”حرمت رسول پر ہر مسلمان چاہے پڑھا لکھا ہے یا ان پڑھ قربان، جمعة المبارک کو تمام دنوں کا سردار بھی “ شافع محشر رسول مقبول نے قرار دیا تھا اس فرمان مبارکہ کی عظمت کو بر قرار رکھنا ۔ تقدس کی بحالی ہم سے زیادہ اہل منبر اہل دین پر عائد ہوتی ہے۔ ایک دن کے لئے سہی پر نکل آتے اشتہار اتار دیتے۔
دکانیں بند کروا دیتے ، یہ سب کرنا آسان تھا اور ہے، زیادہ احسن ہے کہ مساجد میں لوگوں کو اس قبیح فعل کے مضمرات سے آگاہ کیا جائے۔ دنیاوی جرائم کی سزا بھگتنی آسان ہے مگر شریعت کے فرامین کی حکم عدولی، کیسے برداشت کریں گے۔ ”حشر تو بعد میں برپا ہو گا پہلے“ قبر کی منزل آتی ہے، ”شرعی جرم“ کی سزا کے خلاف تو اپیل بھی نہیں ہو گی کیونکہ ” فائنل اتھارٹی “ حکم سنائے گی ۔ تب تو دوزخ میں جانے والے بھی نہیں کہہ سکیں گے کہ ” ہمیں دوزخ میں کیوں ڈالا؟“ اتنے شفاف حقائق جو نظر سامنے دکھائے جائیں گے۔ قارئین آیئے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ رحمن الرحیم کریم ہم سب کی موجودہ گزشتہ فرد گزاشتوں کوتاہیوں گناہوں کی معافی فرما دیں اور مزید غموں آزمائشوں سے ہم سب کو قوم کو محفوظ رکھیں ہمیشہ آمین۔ مزیدبراں گزارش ہے کہ آئندہ ایسے ایام کو نہ صرف سختی سے مٹا دینگے بلکہ منانے کے لئے سفید گولڈن فرائیڈے کو تزک و احتشام سے منانے کا بھر پور اہتمام کریں گے۔ انشاءاللہ