یوم عاشور

کالم نگار  |  ڈاکٹر راشدہ قریشی

دانائے سبل‘ ختم الرسل اور مولائے کل صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا شان عظیم ہے کہ جس کی بابرکت ہستی کی تاثیر خیر سے کنکر و پتھر کلمہ طیب پڑھنے لگتے ہیں کہ جس کے اشارے سے چاند دو نیم ہو جاتا ہے ایسے پیارے حبیب پاک کے صدقے واسطے سے کیا مشکل تھا.... کیا کٹھن تھا اور کیا ناممکن تھا کہ حسینؓ اور اہل حسینؓ کو دنیا کی بادشاہتیں‘ مال و متاع و حیات زیبائی حیات کی آسائشیں نہ ملتیں؟ لیکن قافلہ حسینؓ کا مطمع نظر ہی کچھ اور تھا.... شاہ دو عالم کے نواسے حسینؓ کا فلسفہ ہی کچھ اور تھا.... فضائل الٰہی کی بے پناہ برسات کا انداز ہی کچھ اور تھا.... شام غریباں کی چھٹتی سحر کا نظارہ ہی کچھ اور تھا.... کہ.... نانا کے پیارے اسم حسینؓ کو صبر‘ استقامت اور جلیل القدر قربانی کا درس بنکر تاریخ عالم میں امر ہو جانا تھا۔ جس جسم نے آقائے دو جہاں کی گود میں اٹھکیلیاں کیں.... جو رخسار حبیب پاک کے دست مبارک میں کھلتے اور جو سراپا حضور پر نور کی پشت مبارک پہ بچپن کی معصوم ساعتوں کو ٹھہرا دیتا‘ وہ جسم‘ وہ رخسار اور وہ سراپا واللہ کتنا خوشبودار‘ کتنا شفاف و پاک اور کتنا عالی مرتبت ہو گا کہ جسے بیدردی سے کوفہ میں تیروں اور نیزوں سے دس محرم کے دن چھلنی ہو جانا تھا.... حبیب مصطفیٰ کو علم تھا کہ ان کی فاطمہؓ کے پیارے علیؓ کے لاڈلے حسینؓ کو شہید کر دیا جائے گا.... حضور نے اپنی زوجہ ام سلمہؓ سے فرمایا تھا کہ مجھے جبرئیلؑ نے خبر دی ہے کہ میری امت کی ایک جماعت کے ہاتھوں میرے نواسے حسینؓ کو شہید کر دیا جائے گا.... شاید یہی سبب تھا کہ نانا کے لاڈلے حسنؓ اور حسینؓ جب اپنے نانا (محمد مصطفیٰ) کے پاس کھیل کود کرتے تو آپ محبت میں آکر حسنؓ کا منہ چومتے لیکن حسین ابن علیؓ کی گردن کو بوسہ دیتے.... اور حسین ابن علیؓ کی گردن کو جب حبیب پاک بوسہ دیتے تو آپ کی آنکھیں نم ہو جاتیں۔ حضرت عائشہؓ نے بتایا کہ مجھے حضور پاک نے بتایا ہے کہ.... اے عائشہؓ مجھے جبرائیلؑ سے پتہ چلا ہے کہ میرے نواسے حسینؓ کو کربلا کے مقام پہ شہید کر دیا جائے گا۔ یقیناً سید المرسلین کو پہلے ہی سے علم ہو چکا تھا کہ ان کے بعد ان کے نواسے حسینؓ کو شہید کر دیا جائے گا اور اس عالم میں اگر حبیب پاک حسین ابن علیؓ کی شہادت کے دل گرفت واقعہ کو ٹال دینے کی دعا فرماتے تو واقعی قضائیں ٹل جاتیں.... بلکہ نواسہ رسول چاہتا تو اپنے قافلے کا رخ موڑ لیتا‘ پیاسے اہل بیعت پہ خود خدا میٹھے پانی کی برسات کر دیتا‘ فرات آپؓ کے قدموں میں چل کر آجاتا‘ کربلا میں میٹھے پانی کے چشمے پھوٹ پڑتے لیکن نواسہ رسول نے اپنے اور اپنے اہل و عیال کے لئے بے وطنی کی صعوبتوں سے نجات نہ مانگی ہاں البتہ اپنے قافلے کے لوگوں کو جمع کرکے ایک خوبصورت خطاب کیا اور خطاب میں فرمایا کہ میرے قافلے سے جو نکل کر واپس وطن جانا چاہے وہ رات کے اندھیرے میں واپس لوٹ جائے کیونکہ حسینؓ کا راستہ شہادت کا راستہ ہے اور میں تم لوگوں کو اپنی مصیبتوں میں شامل کرکے پریشان نہیں کرنا چاہتا اور بے شک شہید کیلئے اللہ کے پاس بہترین بدلہ ہے۔ ہاں.... حسینؓ معرکہ حق و باطل کا عظیم سالار تھا.... اسؓ نے شہید ہونا تھا.... حسینؓ نے اپنے بابا علیؓ کی طرح شہادت و بہادری کا ایک انوکھا تاریخی باب رقم کرنا تھا۔ حسینؓ نے اپنی والدہ فاطمہ خاتون جنتؓ کی طرح صبر و استقامت کی ہمیشہ زندہ رہنے والی مثال بننا تھا۔ حسینؓ نے اپنے نانا محمد مصطفیٰ کے ضابطے پر عمل کرکے ثابت کرنا تھا کہ احکام الہٰی کی پیروی میں جو حکومت نہ چل رہی ہو ایسی بے مایہ حکومت و ملوکیت کو دعوت پیروی احکام الٰہی دیتے ہوئے سر کی بازی لگا دینا باعث صد افتخار ہوتا ہے۔
کوفہ والوں کی بے وفائیوں‘ دھوکہ بازیوں‘ حیلوں بہانوں اور شاطرانہ چالوں کی داستانوں کے چرچے سننے کے باوجود حسین ابن علیؓ منزل شہادت کی طرف قدم بڑھاتے چلے گئے۔ اپنے نانا کے اتباع میں حسینؓ نے اپنے لئے رب کریم سے کچھ نہ مانگا.... علم اسلام کی بلندی مانگنی.... امت محمدیہ کیلئے امن و سلامتی مانگی.... اپنے اہل و عیال کیلئے صبر و تحمل مانگا اور ثابت قدمی مانگی.... سیدنا حضرت امام حسینؓ جانتے تھے کہ جو لطف مقام شہادت کے حصول میں ہے وہ لطف دنیا کی ناپائیدار آسودگیوں و تخت و تاج نہیں ہے۔ یہی وجہ تھی کہ حضور پر نور نے ایک موقعہ پر فرمایا کہ
”حسینؓ مجھ سے ہے اور میں حسینؓ سے ہوں جو حسینؓ سے محبت کرے گا۔ اللہ اس سے محبت کرے گا۔ حسینؓ میری اولاد (فاطمة الزہرہؓ) کی اولاد ہے۔ شہید اعظم سیدنا حضرت امام حسینؓ کی ذات پہ پیارے حبیب کی تربیت کا گہرا اثر موجود تھا۔ امام اعظمؓ کی عادات حضور پرنور کی عادات سے ملتی تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ حسینؓ ابن علیؓ کی شبیہہ بھی حبیب مصطفیٰ سے ملتی جلتی تھی۔ حسینؓ ابن علیؓ حلیم طبع و منکسر المزاج تھے۔ نہایت عبادت گزار تھے۔ آپ فرض و نفلی سب روزے رکھتے تھے۔ ساری ساری رات عبادت میں اس طرح گزارتے کہ دن کے وقت زانوے مبارک میں تھکاوٹ و تکلیف محسوس ہوتی۔ آپ کثرت سے تلاوت کلام پاک کیا کرتے تھے۔ آیات قرآنی کی تشریح و توضیح بیان کیا کرتے تھے۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ جس وقت امام عالی سیدنا حضرت حسینؓ کا سر مبارک تن سے جدا تھا تو اس وقت بھی آپ کا چہرہ مبارک نہایت شاداب مطمئن نظر آرہا تھا۔ یہ اعجاز تلاوت قرآن ہی تھا.... امام اعظمؓ نے لاتعداد حج ادا کئے.... بیت اللہ شریف میں زیادہ سے زیادہ وقت گزارنے میں خوشی و مسرت محسوس کرتے تھے۔ آپ کو علم و حکمت تو نانا کی وراثت میں ملی تھی آپ اپنی گفتگو میں کمال فصاحت و بلاغت رکھتے تھے۔ حضور پرنور کے نواسے ہونے کے ناطے آپ کی قدر و منزلت تو ہونا ہی تھی تاہم آپ نے خود بھی اپنی محبتوں اور کرم نوازیوں سے لوگوں کے دلوں میں گھر کر رکھے تھے۔ غریبوں‘ یتیموں اور مسکینوں کے سروں پہ ہمیشہ اپنا دست شفقت رکھتے۔ کوئی بھی سائل آپ سے مایوس ہو کر نہ لوٹتا۔ دوسروں کو صلہ رحمی کے برتا¶ کی تاکید فرماتے‘ سادگی و قناعت آپ کا شیوہ تھا۔ بچپن میں حضور پاک کے صحابہ کرامؓ کی صحبت حاصل رہی اور صحابہ کرامؓ امام اعظمؓ کے اعلیٰ اخلاق کے سبب آپ کی عزت و تکریم فرماتے۔ آپ کی ذات کی مقبولیت اس حد تک تھی کہ جوق در جوق لوگ آپ سے ملنے کی غرض سے جس مقام پر آپ ہوتے پہنچ جاتے اور آپ سے مصافحہ و معانقہ کرنے کیلئے منتظر رہتے۔
یوم عاشورہ محرم الحرام کا دسواں دن ہے۔ یہ دن ہمیں نواسہ رسول کی پیروی میں شجاعت‘ عزم و ہمت اور استقلال کا درس دے رہا ہے‘ یہ دن ہمیں صبر اور بلندی¿ نگاہ کا درس دے رہا ہے۔ یہ دن ہمیں ”شہادت ہے مطلب و مقصود مومن نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی“.... کا درس دے رہا ہے۔ یہ دن یقیناً ہمیں نمرودوں‘ فرعونوں اور یزیدوں کی جاہ و حشمت کے مدفن بنجر و ویران قلعوں کی صدائے بازگشت سناتے ہوئے ابراہیمؑ موسیؑ و حسینؓ کی کامیابیوں و کامرانیوں کی روداد سنا رہا ہے اور خبر دے رہا ہے کہ باطل کے زور پکڑ جانے کی صورت میں قوموں کی غیرت و حمیت مصلحتوں کی تابع نہیں ہو سکتی۔ یعنی .... ع
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد