غوث بخش مہر کی برطرفی یا استعفیٰ؟

جمعہ کی صبح وفاقی وزیر نج کاری غوث بخش مہر اپنی سرکار ی گاڑی میں سوار ہو کر باہر جانے لگے تو انہیں ٹی وی چےنلوں کی چےختی چنگاڑتی خبروں سے اپنی برطرفی کا علم ہوا وزےراعظم ہاﺅس کی جانب سے جاری کردہ اپنی برطرفی کے اعلامےہ اجراءپر وہ اس لئے حےران و ششدر ہو گئے کہ انہوں نے تو پاکستان مسلم لےگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین کو 31خاکتوبر 2012ءکو سندھ میں پیپلز پارٹی کی قےادت کی طرف سے معاندانہ رویہ کی وجہ سے وزارت سے استعفیٰ دے دےا تھا جس پر انہوں نے ان سے کمٹمنٹ لی تھی کہ وہ ازخود استعفیٰدےنے کا اعلان نہ کرےں اگر ان کی شکایات کا ازالہ نہ ہوا تو ان کا استعفیٰ نومبر2012ءکے دوسرے ہفتے منظور کر لےا جائےگا لےکن وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے ان کا استعفیٰ منظور کرنے کی بجائے آئین میں حاصل وہ اختیار استعمال کےا جس کا سیاسی و پارلیمانی زندگی میں بہت کم استعمال کےا جاتا ہے۔
 اگرچہ وزیراعظم آئینی طور پر چیف اےگزیکٹو ہوتا ہے لےکن پاکستان میں الٹی گنگا بہہ رہی ہے صدر مملکت کے پاس پارٹی صدارت سوا کوئی اختیارات نہیں لیکن جس پارلیمانی قوت نے راجہ پرویز اشرف کو وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز کےا ہے وہ پارٹی کا شریک چیئرمےن ہونے کی ناطے صدر آصف علی زرداری کی جےب کی گھڑی ہے لہذا انہوں نے غوث بخش مہر کی برطرفی جیسا بڑا فیصلہ آصف علی زرداری کے حکم پر ہی کیا ہے جو سندھ دھرتی پر پیپلز پارٹی مخالف کسی آواز کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں جب غوث بخش مہر نے وفاقی وزیر نج کاری کی حیثیت سے سندھ میں مسلم لےگ(ق) کے صدر کی حیثیت سے آزادانہ طور پر پیپلز پارٹی کی مخالف قوتوں سے رابطے شروع کئے تو ان کو سندھ پیپلز پارٹی کی طرف سے وارننگ دی جانے لگی لےکن انہوں نے پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قےادت کے دباﺅ میں آکر ایوان صدر کے ” مکےن“ کے دربار میں حاضر ہونے کی بجائے پیر صاحب پگاراصبغت اللہ کے آستانہ پر حاضری دینے کو ترجیح دی کیونکہ وہ سمجھتے ہیں ان کی سیاسی بقا پیر صاحب پگارا کی مریدی میں ہی ہے مجھے ذاتی طور اس بات علم ہے۔
 پچھلے کئی ماہ سے غوث بخش مہر کا قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان سے رابطہ ہے قبل ازیں وفاقی وزیر مذہبی امور سید خورشید شاہ اور وزےر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ ان کو پیپلز پارٹی جائن کرنے کی طرف راغب کر چکے تھے لےکن انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا جب ان کے صاحبزادے شہر ےار مہر نے اپنا سیاسی مستقبل فنکشنل مسلم لےگ سے وابستہ کر لیا تو پھر غوث بخش مہر کے خلاف انتقامی کارروائیاں تیز تر کردی گئیں ان کے ترقیاتی فنڈز روک لئے گئے بلکہ ان کے لئے سندھ دھرتی تنگ کرنے کے تمام حربے آزمانے شروع کر دئیے گئے۔
 وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے وفاقی وزیر نج کاری غوث بخش مہر کی برطرفی کا اقدام خفیہ ایجنسیوں کی طرف سے ان اطلاعات کے موصول ہونے پر کےا گےاکہ وہ آئندہ چند دنوں میں سندھ میں میاں نواز شریف کی آشیر باد سے پیر صاحب پگارا کی سرپرستی میں بننے والے پیپلز پارٹی مخالف اتحاد میں شامل ہونے والے ہیں اٹھایا ہے۔ غوث بخش مہر اس بات پر مصر ہیں کہ انہوں نے پیپلز پارٹی سندھ کی جانب سے مسلسل انتقامی کارروائیاں کرنے کے باعث 31 اکتوبر 2012ءکو ہی اپنا استعفیٰ چوہدری شجاعت کو دیدیا تھا۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت انہیں بطور اتحادی جماعت قبول کرنے کیلئے تیار نہیں مسلم لےگ (ق) کے رہنماﺅں اور کارکنوں کے خلاف انتقامی کارروائیاں شروع کر دی گئی بلکہ غوث بخش مہر کے قریبی عزیزوں کو ملازمتوں سے نکال دیا گیا۔ انہوں نے کئی مرتبہ ساری صورتحال سے پارٹی کی قیادت کو آگاہ کےا پارٹی قیادت نے وزیراعظم اور وزیراعلیٰ سندھ سے بات بھی کی لےکن سندھ میں اےک لابی مسلم لیگ (ق) اور پیپلز پارٹی کے مل کر چلنے کے خلاف ہے جس کے باعث چوہدری برادران کی ایک نہ چلی۔
غوث بخش مہر کے صاحبزادے شہریار مہر کے استعفیٰ نے جلتی پر تیل کا کام کےا۔ غوث بخش مہر ٹی وی کے ذریعے کابینہ سے نکالے جانے کی خبر پر خاصے چیں بچیں تھے، وہ برطرفی کی خبر سن کر سیدھے مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین اور نائب وزیراعظم چوہدری پرویز الٰہی کی رہائش گاہ پر پہنچے اور ان سے استعفیٰ کے باوجود وفاقی کابینہ سے اپنی برطرفی کے نوٹیفکیشن کے جاری ہونے پر شدید احتجاج کیا اور کہا کہ ”میں نے 31 اکتوبر 2012ءکو وفاقی کابینہ سے استعفیٰ دیدیا تھا میرا استعفیٰ منظور کرنے کی بجائے کابینہ سے نکال دینے کے نوٹیفکیشن کا اجراءایک غیر سیاسی اقدام ہے جو سیاسی رواداری کے منافی ہے۔ انہوں پارٹی قیادت سے اس بات کا شکوہ کیا کہ ”جب وہ 31 اکتوبر 2012ءکو اپنا استعفیٰ پارٹی صدر کو پیش کر چکے ہیں تو استعفے کی منظوری کی بجائے برطرفی کے نوٹیفکیشن کے اجراءکا کوئی جواز نہیں بنتا۔ انہوں نے چوہدری شجاعت حسین سے کہا کہ ” آپ نے مجھے کہا تھا کہ نومبر کے دوسرے ہفتے میں استعفیٰ منظور ہوجائےگا لہذا میں خود مستعفی ہونے کا اعلان نہ کروں لیکن وزیراعظم ہاﺅس کی طرف سے جو طرز عمل اختیار کےا گےا ہے وہ کسی طور پر مناسب نہیں ہے۔
 اگرچہ چوہدری شجاعت حسین نے انہیں اس مسئلہ پر جلد وزیراعظم راجہ پرویز اشرف سے رابطہ کرکے اس کا ازالہ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے لیکن پیپلز پارٹی کی کمان سے نکلا ہوا تیر واپس نہیں آتا اس نے غوث بخش مہر کو گھائل کرنا ہی تھا اب دیکھنا یہ ہے”زخمی مہر“ سندھ میں اینٹی پےپلز پارٹی انتخابی اتحاد بنوانے میں کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں۔ اس سوال کا جواب آنے والے دنوں میں ہی ملے گا لےکن ایک بات واضح ہے پیپلز پارٹی اور مسلم لےگ (ق) کے درمیان ہونے والی”سہولت کی شادی“ زیادہ دیر تک چلتی نظر نہیں آتی پیپلز پارٹی اپنی پارلیمانی قوت بڑھانے کے لئے مسلم لےگ (ق) کے امےدواروں کو تیر کے ٹکٹ پر انتخاب لڑنے کی نہ صرف ترغیب دے گی بلکہ ان کو پیپلز پارٹی میں شامل کرنے کے لئے ہر حربہ استعمال کرے گی جو بالآخر اس رومانس کے خاتمے کا باعث بنے گا۔