شہیدوں کی پارٹی کو اب بھی بکھرنے سے بچایا جا سکتا ہے

کالم نگار  |  مطلوب وڑائچ

برطانیہ میں پارلیمانی الیکشن 6 مئی 2010ءکو ہوئے تھے۔پارلیمنٹ کسی وجہ سے تحلیل نہ کر دی گئی تو اگلے عام الیکشن 7مئی 2015کو ہوں گے۔امریکہ میں صدارتی الیکشن 6نومبر2012ءکو ہوئے۔اس سے قبل 2008ءکو نومبر کے پہلے ہفتے منگل کو ہوئے تھے۔اوبامااپنی صدارتی مدت پوری کریں یا کسی وجہ سے قبل ازیں صدارت چھوڑ دیں،انتخابات کے انعقاد پر اثر نہیں پڑے گا۔وہ اپنی مقررہ مدت اور تاریخ پر ہی ہوں گے۔یہ مقررہ تاریخ نومبر کا پہلا منگل 2016ءہے۔اسی طرح 2020، 2024ءاور ہر چار سال بعد نومبر کی پہلی منگل کو ہوں گے۔یہی امریکہ کا دستور چلا آ رہا ہے اور مستقبل کے لیے بھی یہی اصول ہے۔
اِدھر ہمارے ہاں کا باوا آدم نرالا ہے۔گذشتہ عام انتخابات 18فروری 2008ءکو ہوئے۔حکومت اپنی مدت پوری کرنے کے قریب ہے۔مرکزی حکومت کا موقف ہے کہ اس کی مدت 18مارچ 2013ءکو پوری ہو رہی ہے۔اس کے باوجود بھی انتخابات کے انعقاد کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا جا رہا۔آئین کے مطابق انتخابات کے انعقاد کے لیے متفقہ نگران حکومت کا قیام ضروری ہے۔نگران حکومت کے لیے مرکزی حکومت نے سرے سے مشاورت ہی نہیں کی۔2008 ءکے الیکشن میں حصہ لینے والی ہر پارٹی کسی نہ کسی طرح اقتدار میں ہے۔جماعت اسلامی اور عمران خان کی تحریک انصاف نے 2008ءکے انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا۔جماعت اسلامی ابھی تک کسی پارٹی کے ساتھ اتحاد کا فیصلہ نہیں کر سکی۔تحریک انصاف کو وسیع پیمانے پر انتخابات میں امیدوارکھڑے کرنے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔وہ افرتفری میں انتخابات میں حصہ لے کر نقصان نہیں اٹھانا چاہتی۔حکومت میں موجود پارٹیاں بھی ابھی اپنے اپنے لیے انتخابات کی فضا کو سازگار نہیں سمجھ رہیں۔ اس لیے انتخابات کو موخر کرنے کی حکمت عملی طے کرتی دکھائی دیتی ہیں۔پیپلزپارٹی جس کے پاس حکومت کا بہت بڑا حصہ ہے اس کے پاس عوام کے پاس جا کر ووٹ مانگنے کا ایک بھی جوازیا کارنامہ نہیں۔وزیر اطلاعات و نشریات قمرالزمان کائرہ اپنے عہد اقتدار کا سب سے بڑا کارنامہ دہشت گردی کو محدود کرنا بتا رہے ہیں۔یہ کارنامہ بھی عوام نے محرم میں دیکھ لیا ہے۔
پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ محرم الحرام میں موبائل فون اور موٹر سائیکل سرے سے بند کر دیئے گئے۔دہشت گردی پھر بھی ہوتی رہی۔وفاقی وزیر مذہبی امورخورشید شاہ کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں رحمن ملک نے اپنی ذاتی حیثیت میں لگائیںاس پر رحمن ملک گرم سرد ہوئے اور کہا کہ خورشید شاہ کو کیا پتہ کہ ملک میں سیکیورٹی کو کیسے برقرار رکھنا ہے۔رحمن ملک نے موبائل فون پر پابندی لگائی اس کے باوجود کئی کمپنیوں نے اپنی سروس جاری رکھی۔یہ کمپنیاں کسی کی آشیر باد کے بغیر ایسی حرکت نہیں کر سکتیں۔تجزیہ نگار کہہ رہے ہیں کہ فون بند کرنا حکومتی ایجنڈا نہیں بلکہ متعلقہ وزیر کا دھندا تھا۔
سلطانی جمہور کے دوران عوام کی پریشانیوں میں اس حد تک اضافہ ہوا کہ مسائل مصائب بن گئے۔سب سے زیادہ زد قومی وقار، ملک کی سلامتی و سالمیت پر ڈارون حملوں اور بھارت کے ساتھ تعلقات کے فروغ اور اس کی مقبوضہ کشمیر میں موجود سات لاکھ سفاک فوج کی کشمیریوں پر ستم گری کے باوجود یکم جنوری 2013ءسے پسندیدہ ترین قوم قرار دینے کا عزم ظاہر کیا جا رہا ہے۔پیپلزپارٹی کے بانی چیئرمین شہید ذوالفقار علی بھٹو نے کشمیر پر ہزار سال جنگ لڑنے کا عہد کیا تھا۔ان کے جان نشین کشمیریوں کی قربانیوں سے بے وفائی کرتے ہوئے بھارت کے ساتھ یک جا و یک جان ہونے کو بے قرار نظر آتے ہیں۔کیا پاکستانی عوام بھی اپنی ازلی و ابدی دشمن سے اسی طرح کی پیار کی پینگیں بڑھانے پر آمادہ ہیں؟یقینا اس کا جواب نفی میں ہے۔پانچ سال میں جمہوریت اور جمہوری حکومت نے عوام کو کیا دیا؟ لاقانونیت، دہشت گردی،بجلی و گیس کی شدید قلت،تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ،ڈالر 60سے 90کا ہو گیا،مہنگائی اور بے روزگاری کا دور دورہ،کوئی داخلہ پالیسی ہے نہ خارجہ،ایک ہی خبط ہے حکومت مدت پوری کرے گی۔پارلیمنٹ سپریم ہے۔اعلیٰ ترین سطح پر کرپشن کے سکینڈل سامنے آتے ہیں۔سینٹ کی قائمہ کمیٹی کہتی ہے کہ کرپشن میں حکومتی ادارے ملوث ہیں۔اسی کمیٹی میں یہ بھی کہا گیا کہ حکومتی سطح پر ہر ماہ 800ارب روپے کی کرپشن ہوتی ہے۔سال میں اندازہ لگا لیجئے کتنی ہوتی ہے۔اقربا پروری کی بھی کوئی مثال نہیںایک وزیراعظم کو سپریم کورٹ نے رینٹل پاور منصوبوں کی کرپشن میں ملوث قرار دیا تو سابق وزیراعظم بدعنوانی کے سلسلے میں ایف آئی اے کو مطلوب ہیں۔سپریم کورٹ نوٹس لیتی ہے تو اس کے احکامات کو حکمران کوئی حیثیت نہیں دیتے۔ایسا کچھ جمہوری معاشروں میں نہیں بنانا ری پبلک میں ہوتا ہے۔اگر ہمارے ہاں ہو تو اس کو بنانا ری پبلک ہی قرار دینا پڑے گا۔کیا حکومت اسی قسم کے کارنامے لے کر عوام کے پاس جائے گی؟حکمرانوں کو سب علم ہے۔اس لیے ان کی خواہش ہے کہ الیکشن کبھی نہ ہوں،قیامت تک نہ ہوں۔چونکہ دیگر پارٹیاںبھی حکمرانی کے درخت کی کسی نہ کسی شاخ سے لٹکی ہوئی شہد کی مٹھاس سے لطف اندوز ہو رہی ہیںاس لیے وہ بھی اگر الیکشن ملتوی ہوتے ہیں تو خسارے میں نہیں رہیں گی۔حکمران ایسے حالات اور آفات کے منتظرہیں جن کو جواز بنا کر الیکشن ملتوی کر سکیں۔کچھ شب خون کے بھی منتظرہیں۔ایسے حالات بھی پیدا کر دیئے گئے ہیں۔شاید شب خون کی امیدیں سوختہ رہیں۔الیکشن تو ہونا ہی ہیںآج نہیں تو کل تین ماہ نہیں تو سات آٹھ ماہ بعد ہی سہی۔عوام کا سامنا تو کرنا پڑے گا۔
پیپلزپارٹی کے لیڈروں کو اپنی کارکردگی نظر آ رہی ہے اس لیے وہ پارٹی کی خشک شاخوں سے ہرے بھرے گلستان کی طرف اڑان کی تیاری کر رہے ہیں۔کئی پارٹی چھوڑ چکے باقی نگران حکومت کے اعلان کے منتظر ہیں۔پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئر مین آصف علی زرداری کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہونا چاہیے پونے پانچ سال پارٹی لیڈروں نے اپنی ذات کے لیے حکمرانی کی ۔اب بھی معاملات سدھارے جا سکتے ہیںاگلے چند ماہ عوام کے لیے بہت کچھ ہو سکتا ہے۔800ارب ماہانہ کرپشن پر قابو پا کر سرکوکلرڈیٹ جو اس کرپشن کا آدھا ہے ختم کیا جا سکتا ہے۔باقی رقم سبسڈیوں پر لگا کر عوام کو ریلیف دیا جا سکتا ہے۔سرکوکلرڈیٹ کے خاتمے سے بجلی کی لوڈشیڈنگ مستقلاً ختم ہو گی تو بیروزگاری کا خاتمہ ہوگا۔حکومت فی لیٹر تیل پر 42روپے اور فی کلو سی این جی پر تیس روپے منافع کما رہی ہے۔کرپشن پر کنٹرول کا پیسہ اس مد میں استعمال کرکے گیس او رتیل پر معمولی منافع لے کر عوام کو بھرپورریلیف دیا جا سکتا ہے۔اس کے لیے حکمرانوں کی جیبوں سے ایک ٹکا بھی نہیں جائے گا۔حکمران پارٹی سر جوڑ کر بیٹھے تو عوام کے لیے مختصر وقت میں بھی بہت کچھ کر سکتی ہے۔دوسری صورت میں پارٹی سے جانے والوں کے پاﺅں میں کوئی زنجیر ڈال سکتا ہے اور شہیدوں کی پارٹی کو کوئی بکھرنے سے بچا سکتا ہے۔