سود خوری اور حدیث رسول

کالم نگار  |  فاروق عالم انصاری

اہل عرب کو اپنی زبان‘ فصاحت بلاغت پر اتنا ناز ہے کہ وہ تمام غیر عربوں کو اہل عجم کہہ پکارتے ہیں۔ عرب کے معنی ’بولنے والا‘ اور عجم کے معنی ’گونگے آدمی‘ کے ہیں۔ قرآن پاک آخری آسمانی کتاب ہے۔ اس کتاب کے عربی زبان میں نازل ہونے میں یہی خدائی مصلحت کار فرما ہے کہ یہ زبان اتنی جاندار ہے کہ تاقیامت زندہ رہے گی۔ جب میں نے ربا (سود) کے بارے میں حضور کا قول سنا تو بس مارے ادب کے چپ سا ہو گیا۔ ’باخدا دیوانہ باشد بامحمد ہوشیار‘۔ میرے ذہن میں حضور کا فرمان موجود تھا کو میں فصیح ترین عرب ہوں۔ میں سوچ رہا تھا کہ بات کرنے کے سو ڈھنگ ہیں۔ یہ بات اتنی ہی شدت سے کسی اور انداز سے بھی تو کی جا سکتی تھی۔ مجھ کم فہم کو یہ الفاظ حضور کی زبان سے نکلے ہوئے محسوس نہیں ہوتے تھے۔
اب حضور پاک کا وہ قول بھی سن لیں جو خاکم بدہن مجھے کھٹکتا تھا کہ شاید یہ میرے آقا کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ نہیں۔ وہ الفاظ یوں تھے: حضور نے فرمایا ”ربا (سود) کی ستر قسمیں ہیں۔ اس کی سب سے ادنیٰ قسم ایسی ہے‘ جیسے کوئی اپنی ماں سے جنسی تعلقات قائم کرے“۔ پھر ایک دن ادارہ ثقافت اسلامیہ کی شائع کردہ کتاب ”مجمع البحرین“ میری نظر سے گزری۔ یہ کتاب حضرت مولانا جعفر شاہ پھلواروی نے مرتب کی ہے۔ اس کتاب میں شیعہ اور سنی مسلک کی متفق علیہ روایات موجود ہیں۔ اس کتاب کی اہمیت اس طرح بھی بڑھ جاتی ہے کہ علامہ مفتی جعفر حسین اور علامہ نصیر الاجتہادی نے بھی اس کتاب کی تحسین کی ہے۔ یہ 239 صفحات کی مختصر سی کتاب ہے۔ میں اس روایت پر شیعہ مسلک کی رائے جاننے کے بارے میں بڑا متجسس تھا۔ جب میں نے اسے حضرت علیؓ سے مروی پڑھا ہے تو کانپ اٹھا ہوں۔ حضور نے فرمایا ”ربا (سود) کی ستر قسمیں ہیں۔ اس کی سب سے ادنیٰ قسم ایسی ہے جیسے کوئی اپنی ماں سے کعبے شریف کے اندر جنسی تعلقات قائم کرے۔“ اب اس باب میں دو اور متفق علیہ روایات بھی سن لیں۔
 ”بدترین کمائی ربا کی کمائی ہے۔“
”حضور نے ربا (سود) کے کھانے والے‘ کھلانے والے‘ گواہوں اور کاتب‘ سب پر لعنت فرمائی ہے“۔
 تمہید قدرے لمبی ضرور ہو گئی لیکن ضروری بھی تو تھی۔ آج کل میرے شہر گوجرانوالہ میں سود کا دھندا پورے عروج پر ہے۔ غالباً پنجاب کے باقی شہروں میں بھی یہی عالم ہو گا۔ اس سلسلہ میں کئی سفید پوش اپنی زندگی سے تنگ اپنے بچے تک فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔ بیس ہزار روپے قرضہ پر پچیس سو روپے ماہانہ اور ایک لاکھ روپے پر پندرہ ہزار روپے ماہوار تک سود وصول کیا جاتا ہے۔ سود خوروں کے اس نیٹ ورک میں سات سو کے قریب معززین شہر اور پولیس افسران ملوث بتائے جاتے ہیں۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 489-F سود خوروں کی سب سے بڑی محافظ بنی ہوئی ہے۔ سود خور قرضہ لینے والے سے اپنے نام کا پوسٹ پیڈ چیک لے لیتے ہیں۔ مقررہ تاریخ کو چیک ڈس آنر ہونے کی صورت میں 489-F ت پ کے تحت مقدمہ درج کروا کے اسے جیل بھجوا دیتے ہیں۔ اب وہ بیچارہ قرضہ سود کی ادائیگی تک جیل ہی میں لگتا سڑتا رہتا ہے۔ پھر اس بیچارے کا گھر‘ کوٹھا‘ من مانے‘ اونے پونے ریٹوں پر ہتھیا لیا جاتا ہے۔ محض کسی قانون کا ہونا ہی کافی نہیں ہوتا‘ اصل چیز اس پر عملدرآمد ہے۔ جیسے محض کسی ڈاکٹری نسخہ سے شفا کی امید عبث ہے‘ جب تک کہ اس نسخہ کے مطابق تجویز کی گئی دوائی مریض کے حلق سے نیچے نہ اتاری جائے۔
ہمارے ہاں Punjab Prohibition of Private Money Lending Act of 2007 موجود ہے۔ اس قانون کے مطابق ”کسی ایک فرد کا کسی دوسرے فرد کو سود پر قرضہ دینا جرم ہے۔“ پھر اس ایکٹ کی دفعہ 4 کے مطابق اس جرم کی خلاف ورزی پر دس برس قید یا پانچ لاکھ جرمانہ یا پھر بیک وقت دونوں سزائیں مقرر ہیں۔ غالباً آج تک اس دفعہ پر کبھی کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔ جزا‘ سزا کا مرحلہ تو بعد میں آتا ہے۔ پولیس افسران سود خوروں کیخلاف مقدمہ درج کرنے کی بجائے ان کے بزنس پارٹنر بن جاتے ہیں۔ سود اور اصل زر کی واپسی کی صورت میں انہیں طے شدہ حصہ پوری ایمانداری سے مل جاتا ہے۔
مجھے یہاں لفظ ”ایمانداری“ کے ”برمحل“ استعمال پر بڑا مزہ آرہا ہے۔ چلو ہمارے ہاں کہیں تو ایمانداری برتی جاتی ہے۔ بے شک عقل عیار ہے‘ وہ جرم کرنے اور اس کی سزا سے بچنے کے سو ڈھنگ ڈھونڈ نکالتی ہے۔ پھر بھی اسی عقل سے جرم کے سدباب کرنے اور مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے بھی سو راستے ہیں۔ جوہر ٹا¶ن لاہور میں چودھری امیر حسین سابق سپیکر قومی اسمبلی نے ایک بڑا قیمتی قطعہ اراضی پنجاب گورنمنٹ سے سکول کےلئے حاصل کیا ہوا ہے۔
 میں نے اپنے ایک کالم میں اس بارے میں جناب چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سے سوو موٹو ایکشن لینے کی درخواست کی تھی۔ مجھے چیف صاحب کی طرف سے بتایا گیا کہ کسی صوبہ کے چیف جسٹس کو سووموٹو اختیارات حاصل نہیں ہیں۔ آپ اس سلسلہ میں رٹ دائر کریں‘ اس رٹ پر غور کیا جائے گا۔ میں پینسٹھ سالہ بوڑھا‘ سست الوجود بمشکل اپنے بیڈ روم میں لکھنے کی ہی سکت پاتا ہوں۔ پھر اپنے قلب کی شریانوں کی اینجو پلاسٹی کے بعد میری سفر کرنے کی سکت بھی قدرے کم ہو گئی ہے۔
اگر یہ پلاٹ چودھری امیر حسین نے گوجرانوالہ میں لیا ہوتا تو میں اس کے غلط استعمال پر عدالت سے ضرور رجوع کرتا۔ اب اسے شہر لاہور جانے اور لاہوریے جانیں‘ جنہیں ہم نے ادب کی کتابوں میں ”زندہ دلان لاہور“ پڑھ رکھا ہے۔ اب میں اسی لئے حاضر مسئلہ میں آنرایبل چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان افتخار محمد چودھری اور جناب چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عمر عطا بندیال دونوں سے شرف مخاطب حاصل کر رہا ہوں۔ وہی ٹو ہوم اٹ مے کنسرن والے باب میں۔ حضور! ماتحت عدلیہ کو حکم جاری فرمایا جائے کہ 489-F ت پ کی تمام درخواست ضمانتوں میں مدعی مقدمہ سے اوپن کورٹ میں قرآن پاک پر یہ حلف ضرور لیا جائے کہ اس چیک کی رقم کے تمام معاملہ میں سود کا کسی طرح بھی کوئی تعلق واسطہ نہیں ہے۔ یوم عاشور پر لکھا گیا یہ کالم آج کے مظلوموں کا نوحہ ہے۔ وما علینا الاالبلاغ۔