دانہ دانہ ۔۔۔ گندم اور بلکتی عوام

کالم نگار  |  احمد جمال نظامی

اس سے بڑا ظلم اور قابل تشویش اور کیا امر ہو گا کہ وطن عزیز کی آبادی اٹھارہ کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے اور آبادی کے عفریت میں مزید اضافہ جاری ہے جبکہ آٹھ کروڑ سے زائد باسی وطن خط غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں یعنی کہ ان کےلئے روزانہ دو وقت کی روٹی کا حصول جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ ہمارے تمام حکمران اور تمام سیاسی جماعتیں سیاسی معاملات سے باہر نکلنے کو تیار نہیں اور عوام پل پل غربت کی وادیوں میں گرتی چلی جا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر شعبہ ہائے زندگی میں متوسط اور سفید پوش طبقہ بری طرح پس رہا ہے۔ جب ہمارے ملک کی عوام آج کے ترقی یافتہ دور میں بھی دو وقت کی روٹی کے دائروں اور فکر سے باہر نہیں نکل پائی اور نہ ہی انہیں نکالنے کے کوئی خاطر خواہ سعی کی جا رہی ہے تو پھر کیسے ہم اپنے ملک میں شرح خواندگی کو بڑھا سکتے ہیں اور کیسے ممکن ہے شرح خواندگی کو اپنے خوابوں اور آرزو¶ں کے مطابق یقینی بنا کر ملک میں مختلف شعبہ ہائے زندگی میں تحقیق کے عمل کو ترقی سے نوازا جا سکے تاکہ مسلمان اپنی عظمت رفتہ کی یاد تازہ کر سکے۔ پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے مگر اسے اللہ تعالیٰ نے ہر طرح کی نعمت سے اور قدرتی موسموں سے نواز رکھا ہے۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اسکی زرخیز زمینیں آج بھی سونا اگلتی ہیں مگر افسوس شعبہ زراعت کو بھی وڈیروں اور جاگیرداروں نے یرغمال بنا رکھا ہے اور انہی کے مفادات کے تحفظ کےلئے شعبہ زراعت کے حوالے سے اسمبلیاں پالیسیاں بناتی ہیں۔ وہی قانون سازی کی جاتی ہے جس کا بڑے بڑے جاگیرداروں کو فائدہ ہو۔ چھوٹے کاشتکاروں کسانوں اور عوام کی کوئی پرواہ نہیںکی جاتی۔ ان دنوں گندم کی امدادی قیمت 1050روپے سے بڑھ کر 1200روپے کرنے کا فیصلہ کر لیا گیاہے۔ آئندہ سال اپریل کے ماہ میں جب گندم کی فصلوں کی کاشت شروع ہو گی تو گندم کے سرکاری نرخ 1200روپے ہوں گے۔ مگر اس کا عوام کو کیا فائدہ ہو گا اس بارے میں سوچ بچار کرنا دراصل وفاقی حکومت کا کام تھا جس نے اٹھارویں ترمیم کو بھی نظرانداز کرتے ہوئے صوبوں میں گندم کی امدادی قیمت بارہ سو روپے کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ گندم کی امدادی قیمت بارہ سو روپے مقرر ہونے سے چھوٹے کاشتکار کو تو کوئی فائدہ نہیں ہو گا بڑے وڈیروں اور جاگیرداروں کی ایک مرتبہ پھر موج اور چاندی ہو جائےگی جبکہ غریب عوام پر مہنگائی کا ایک اورڈرون بم گرے گا کیونکہ اپریل 2013ءمیں گندم کی امدادی قیمت بارہ سو روپے ہونے سے بیس کلو آٹے کا تھیلا 700روپے سے 800روپے تک کا ہو جائےگا۔ گندم فی کلو 30روپے سے بڑھ کر 33روپے تک ہو جائےگی اور مئی میں جس وقت عام انتخابات ہو رہے ہونگے روٹی کی قیمت میں بھی ایک روپے تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس بناءپر ایسی خبریں بھی منظرعام پر آئی ہیں کہ وفاق اور پنجاب حکومت کے درمیان کھڑاک شروع ہو گیا ہے۔ پنجاب حکومت کا موقف ہے کہ وفاقی حکومت اٹھارویں ترمیم کے تحت گندم کی امدادی قیمت مقررکرنے کے صوبوں کے اختیارکو استعمال نہیں کر سکتی اور یہ جو اختیار استعمال کیا گیا ہے غیرقانونی ہے۔ وفاقی حکومت ظاہری سی بات ہے کہ قومی اسمبلی میںموجود انہی گھسے پٹے وڈیروں اور جاگیرداروں کا تحفظ کرنے کےلئے گندم کی امدادی قیمت بارہ سو روپے مقرر کر رہی ہے جو نسل در نسل اسمبلیوں میں چلے آ رہے ہیں کبھی وہ خود ، کبھی ان کے بیٹے اور بیٹیاں اور کبھی بھانجے بھانجیاں اسمبلیوں میں آتے ہیں۔ گویا کہ داداپوتا سے نسل در نسل کی سیاست نے عوام کی رگوں سے خون نچوڑنا اپنا وطیرہ بنا رکھا ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کے پسماندہ علاقوں میںنہ ہی تعلیم حاصل کرنے کی آزادی ہے اور نہ ہی مزارعین اور عام عوام انکے سامنے سر اٹھا کر بات کر سکتے ہیں۔ انکی مربعوں پر محیط زمین پر نسل درنسل مزارعین بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہو کر اپنی زندگیاں تباہ و برباد کرتے چلے آ رہے ہیں۔ ان لوگوں سے ہم کیسے توقع رکھ سکتے ہیں کہ یہ جب وزیر مشیر یا پھر رکن قومی یا صوبائی اسمبلی بنے تو عوام کی فلاح و بہبود اور ملک کی مضبوطی کےلئے اقدامات اٹھائیں گے انکو شعبہ زراعت اور ملکی معیشت سے کوئی سروکار نہیں وہاپنی تجوریوں اور بینک بیلنسوں کو بڑھانے کے علاوہ کسی پالیسی کو اہمیت نہیں دیتے۔ یہ پاکستان کا عظیم تر المیہ ہے جسے فراموش نہیںکیا جا سکتا۔ آٹھ کروڑ سے زائد افراد خط غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسرکر رہے ہیں تو وہ ایسے ہی وڈیرو اور جاگیرداروں کی وجہ سے ہے اور اس ضمن میں موجودہ اور سابقہ تمام حکومتوں کی نالائقی اور غفلت کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اقوام متحدہ نے حال ہی میں ایک تازہ رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ گندم کی امدادی قیمت بڑھا کر غریب عوام سے حکومت روٹی دور کرتی جا رہی ہے گذشتہ چند سال سے پاکستان میں خوراک کا ذخیرہ طلب سے زائد ہے اس کے باوجود پچاس فیصد سے زائد گھرانوں کو غذائی کمی کا سامنا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کےمطابق پاکستان میں اجناس کی پیداوار بڑھانے پر تو توجہ دی جا رہی ہے لیکن اصل مسئلہ غریب کو سستی خوراک کی فراہمی کا ہے ملک میں چاول اور گندم کی قیمتیں 2011ءکے مقابلے میں زائد ہیں جبکہ ایندھن کی قیمتوں میں 25فیصد اضافے نے مہنگائی کے جن کو بے قابو کر دیا ہے۔ ہمارے ہاں گذشتہ چھ ماہ میںآٹے کی فی کلو قیمت میں چار روپے سے زائد کا اضافہ ہو چکا ہے جس سے غریب آدمی کےلئے خوراک کا حصول مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ گندم کی امدادی قیمت سے ملک میں گندم کا ذخیرہ تو بڑھایا جا سکتا ہے لیکن غریب کا پیٹ نہیں بھرا جا سکتا۔ سرکاری گوداموں میں اربوں روپے کی گندم گلتی سڑتی رہتی ہے اور غریب دو وقت کی روٹی کےلئے سسکتا رہتا ہے۔ حکومت نے گذشتہ سالوں غیرمعیاری گندم درآمد بھی کی تھی جس سے محکمہ خوراک کے گودام بھرے رہے اور دوسری طرف گندم کی امدادی قیمت سے آٹے کی قیمتوں میںاضافے کا خطرناک مسئلہ عوام کے پیش حال رہا۔
ہمارے ہاں صورتحال یہ ہے کہ گندم کی امدادی قیمتوں کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ بجلی اور ایندھن کی قیمتوںمیں خاطرخواہ اضافہ ہو چکا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ چھوٹے کاشتکاروں کو بھی زیادہ سے زیادہ سبسڈی فراہم کرے اوراسی طرح آٹے کی قیمتیں کم سے کم کرتے ہوئے مارکیٹ میں روٹی کی قیمت دو روپے تک لانے کےلئے خاطرخواہ اقدامات اٹھائے۔ چھوٹے کاشتکاروں اور غریب عوام کو زیادہ سے زیادہ نوازاجائے۔ صرف بڑے وڈیروں اور جاگیرداروں کے مفادات کے تحفظ کو یقینی نہ بنایا جائے۔ گندم کی امدادی قیمت بڑھنے سے بہت سارے مسائل سامنے آئینگے جیسے چیئرمین فلور ملز ایسوسی ایشن ڈاکٹر بلال اسلم نے کہہ دیا ہے کہ بارہ سو روپے امدادی قیمت کرنے سے چودہ سو فلور ملوں کو 21سو کروڑ کی اضافی سرمایہ کاری کرنی پڑےگی جو موجودہ حالات میں ممکن نہیں۔ لہٰذا حکومت 1050روپے ہی گندم کی امدادی قیمت کو برقرار رکھے۔ چھوٹے کاشتکاروں اور کسانوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرے اور مہنگائی کے جن پر قابو پاتے ہوئے خط غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسرکرنے والے آٹھ کروڑ سے زائد افراد کی آمدن اور خوراک کے مسئلے کو حل کرنے کےلئے موثر پالیسیاں اپنائے اور اسمبلیوں میں انتخابات سے قبل مربوط قانون سازی کو یقینی بنایا جانا ضروری ہے۔