’’تسلی بھی دیئے جاتے ہو دل بھی توڑے جاتے ہو‘‘

سردار محمد اسلم سکھیرا .....
افغانستان میں جنگ امریکہ نے حملہ کر کے شروع کی تھی اب اس جنگ کو پاکستان میں دھکیلا جا رہا ہے تو اس سے اجتناب کا راستہ ہم کیوں اختیار نہیں کر سکتے۔ اصل جھگڑا یہ تھا کہ افغانستان میں غیر ملکیوں کو قبضہ نہیں کرنے دیا جائیگا۔ پاکستان اگر پاکستان کے طالبان یا القاعدہ کے لوگوں کو افغانستان میں جنگ میں حصہ لینے سے نہ روکے تو پاکستان کے ساتھ تو ان کا کوئی جھگڑا نہیں۔ بات بڑی آسان سی ہے پاکستان کے پالیسی ساز یہ نقطہ سمجھنے سے کیوں قاصر ہیں۔
بھارت بلوچستان، وزیرستان میں دخل اندازی کر رہا ہے‘ کل ہی شہباز شریف صاحب نے برملا کہا کہ بلوچستان میں تخریب کاری بھارت کروا رہا ہے اور ہر طرح مال‘ اسلحہ ٹرینڈ دہشت گردوں کو دے رہا ہے۔ ہمارا اتحادی امریکہ کیسے کہہ رہا ہے کہ پاکستان کو بھارت سے کوئی خطرہ نہیں۔ بھارت نے 7 ارب کا اسلحہ روس سے خریدا ہے۔ امریکہ سے ہر قسم کا اسلحہ خرید رہا ہے۔ مکمل رڈار سسٹم 7 ارب کا بھارت نے اسرائیل سے خریدا ہے وہ اسلحہ کے انبار کس لئے لگا رہا ہے۔ اٹامک سب میرین روس سے بھارت نے خرید لی ہیں کیا بھارت چین سے لڑیگا، ہر گز نہیں یہ سب پاکستان کیخلاف استعمال کیا جائیگا۔ ان حالات میں امریکن رہنمائوں کا کہنا کہ بھارت سے پاکستان کو کوئی خطرہ نہیں، غیر معقول بات ہے۔ ہاں امریکہ کا یہ اقدام کہ چین بھی اس مسئلے میں مداخلت کرے اچھا اقدام ہے جس پر بھارت امریکہ سے نالاں ہے۔ امریکہ کی جنگ کو پاکستان کی جنگ کہنا قرین انصاف نہیں۔ کیری لوگر بل اس لئے امریکن کانگرس میں لایا گیا کہ پاکستان کیساتھ بہتر تعلقات قائم کرنے ہیں۔ اول تو 1.5 بلین ڈالر سے پاکستان کا جانی مالی نقصان کہیں زیادہ ہو رہا ہے۔ 75 ارب کا تخمینہ لگایا گیا تھا جو خرچ ہو رہا ہے لیکن اگر جملہ خرچ شامل کئے جائیں تو اس سے بھی بڑھ کر خرچ ہوگا اور جانی نقصان کی تو قیمت ادا ہی نہیں کی جا سکتی۔ ہلیری کلنٹن کا یہ کہنا کہ اگر لینا ہے تو لو اگر نہیں لینا تو امریکہ مجبور نہیں کریگا۔ انکی بات سے غالب کا یہ شعر دماغ میں آگیا ہے …؎
وہ نہیں وفا پرست جائو وہ بے وفا سہی
جسکو ہو دین و دل عزیز اسکی گلی میں جائیں کیوں
بات تو درست ہے لیکن جب یہ کہتے ہیں کہ پاکستان کی مدد کیلئے کیا جا رہا ہے تو پہلے تو پاکستان کو تسلیم کرنا پڑیگا کہ ہم دہشت گرد ہیں وہ ہم تسلیم کیوں کریں‘ دوسرے یہ رقم ملنے کی شرط ہے کہ پاکستان ہمسایہ ملک یعنی بھارت کیخلاف اپنی سرزمین میں کسی کو اقدام کرنے کی اجازت نہیں دیگا، امریکہ بھارت کیساتھ جو معاہدہ اٹامک انرجی کا کر رہا ہے اس میں اگر یہ شرط ہوتی کہ بھارت بلوچستان وزیرستان فاٹا، سوات اور مزید پاکستان میں تخریب کاری کیلئے ٹرینڈ لوگ نہیں بھیجے گا تو ہم سمجھتے کہ واقعی امریکہ ہمارا اتحادی ہے جب پاکستان میں جو بھارت کرا رہا ہے اور جو کشمیریوں پر ظلم ڈھا رہا ہے اسکے روکنے کی بجائے خاموش رہے تو کیا اتحاد امریکہ سے ہو سکتا ہے۔ اسی طرح فوج میں ترقیوں کی امریکہ کو کیا فکر ہے پہلے بھی آرمی چیف پروموشن کرتا ہے اور منظوری پرائم منسٹر اور صدر ہی دیتے ہیں یہ ہمارا اندرونی معاملہ ہے اس میں امریکہ کو ٹانگ اڑانے کی کیا ضرورت ہے۔ کیری لوگر بل میں یہ بھی شرط ہے کہ امریکن پیسہ سے خریدا ہوا سامان بھارت کیخلاف استعمال نہیں ہوگا۔ کیا روس‘ اسرائیل‘ امریکہ نے بھارت کو بھی کہا کہ جو جنگی سامان بھارت خرید رہا ہے وہ پاکستان کیخلاف استعمال نہیں ہوگا۔ رہا یہ کہ کیری لوگر بل میں پریذیڈنٹ کے کہنے پر ہلیری کلنٹن سے سرٹیفکیٹ لیا جائیگا وہ امریکہ کا اندرونی معاملہ ہے پاکستان کا اس سے کیا تعلق۔ تو پریسلر ترمیم میں کیا ہوا تھا ہمارے سامنے ہے۔ جب افغانستان سے روس کی پسپائی ہوگئی تو امریکہ افغانستان سے نکل گیا۔ افغانیوں اور پاکستانیوں کو بے یارومددگار چھوڑ کر اور پاکستان پر ایٹمی اسلحہ بنانے کی بنا پر Sanction بھی لگا دی گئیں۔ جب پاکستان پرایٹمی اسلحہ بنانے پر خرچ کرنے کی پابندی ہے تو کینیڈا نے بھارت سے اسی بارے میں معاہدہ کر لیا ہے اور امریکہ کابھی بھارت کو ایٹمی اسلحہ دینے کا معاہدہ آخری مرحلہ میں ہے تو پھر پاکستان پر پابندی کیوں۔ کیری لوگر بل میں آرمی اور سیاسی قیادت کو لڑانے کی کوشش کی گئی ہے جو قابل مذمت ہے۔ ترین صاحب نے ایک بیان دیا تھا کہ 3 ارب ڈالر امریکہ کہتا ہے کہ پاکستان کو دیئے ہیں لیکن پاکستان کو تو صرف 97 کروڑ ڈالر ملے ہیں۔ اگر یہی ایشو ہے تو 1.5 بلین کی بجائے 30/40 کروڑ پاکستان کو ملیں گے کیا اتنی رقم کیلئے پاکستان کو اپنی آزادی امریکہ کے حوالے کر دینی چاہئے۔ امریکہ جو بھی اقدام کرتا ہے اس میں بھارت کا نقطہ نظر سامنے رکھتے ہوئے انکے تحفظ کی بات کرتا ہے جب ہم سیٹو سینٹو کے ممبر تھے اور ہمارے ساتھ امریکہ کا معاہدہ تھا کہ پاکستان پر حملہ کی صورت میں امریکہ ہماری مدد کریگا تو 1965ء کی جنگ میں امریکہ نے وعدہ خلافی کرتے ہوئے کہا کہ وہ معاہدہ تو کمیونسٹ کیساتھ جنگ کیلئے تھا اور ہماری امداد بھی بند کر دی۔ 1971ء میں جب بھارت نے ایسٹ پاکستان پر حملہ کیا تو نکسن ساتویں بیڑے کی آمد کا کہتے رہے اور وہ نہ پہنچا اور بالآخر ایسٹ پاکستان کو بھارتی جارحیت سے پاکستان سے الگ کر دیا گیا۔ بعد میں ہنری کسنجر نے ایک مضمون میں اعتراف کیا کہ ایسٹ پاکستان کو پاکستان سے الگ کرنے میں امریکہ اعانت حاصل تھی‘ جب افغانستان میں روس کیخلاف جنگ میں پاکستان نے بحر ہند کی بندرگاہ کو بچانے کیلئے امریکہ کی مدد کی روس نے پسپائی اختیار کی تو امریکہ نے پاکستان کو بے یارومددگار چھوڑا ہی نہیں بلکہ ایٹمی اسلحہ بنانے کی بنا پر Sanction بھی لگا دیں۔ میں حیران ہوں جب امریکہ کا یہ پاکستان کے متعلق ’’Track Record‘‘ ہے تو پاکستان امریکہ پر کیسے بھروسہ کر سکتا ہے۔ اہل اقتدار اور اپوزیشن کی آنکھیں کھل جانی چاہیں۔ امریکی جنگ کو پاکستان کی جنگ کہنا چھوڑ دیں۔ حافظ سعید اور انکی تنظیم اور باقی تنظیمیں جو کشمیر کی آزادی کیلئے کام کر رہی ہیں انکو کام کرنے سے نہ روکا جائے‘ طالبان کیساتھ میز پر بیٹھ کر معاملات طے کئے جائیں۔ کوئی مسلمان مسلمان کی جان نہیں لے سکتا۔ مسجدوں کو مسمار کرنا مسلمانوں کا شیوہ نہیں۔ چین‘ ایران‘ ترکی‘ افغانستان مل کر ایک بلاک بنا لیں اور ہندوئوں کی چالوں میں نہ آئیں۔ بلیک واٹر تنظیم کو پاکستان میں کام کرنے کی اجازت نہ دیں۔ امریکن ایمبیسی میں جو بھی شخص ہو پاکستان سے ویزا لیکر رہے اور ڈپلومیٹک اصولوں کی سختی سے پابندی کی جائے۔ امریکہ کو باور کرایا جائے کہ بھارت پاکستان کے علاقوں میں تخریب کاری کر رہا ہے جب تک بھارت کی گود میں امریکہ ہے پاکستان اس کا اتحادی نہیں ہو سکتا۔
رات کو مے پیئے ساتھ رقیب کو لئے
آئے وہ یاں خدا کرے پر نہ کرے خدا کہ یوں
…… (ختم شد)