مولانا ظفر علی خان .... ایک عظیم معمارِ قوم

کالم نگار  |  ڈاکٹر انور سدید

مولانا ظفر علی خان لاہور کے ایک نواحی ضلع سیالکوٹ کے ایک غیر معروف گاﺅں کوٹ مہرتھ مےں 18 جنوری 1873ءکو پیدا ہوئے تو اس دور کے مسلمانوں مےں ابھی خوئے غلامی پیدا نہیں ہوئی تھی اور سقوط دہلی کے بعد مسلمانوں کی قریباً ہزار سالہ سلطنت کے چھن جانے کا غم تازہ تھا۔ مسلمانوں کے اس جذبے کو ثبات و استحکام بخشنے کے لئے سرسید احمد خان نے ”رسالہ اسبابِ بغاوتِ ہند“ لکھ کر شکست خوردہ مسلمانوں کی برطانیہ کی نئی انگریزی سرکار کے سامنے نہ صرف دلالت اور وکالت کی بلکہ مسلمانوں کو نئے علوم حاصل کرنے کے لئے علی گڑھ مےں ایک مدرسے کا سنگ بناد بھی رکھا جس کی تقلید مختلف لوگوں نے اپنے اپنے انداز مےں مختلف مقامات پر کی۔ ظفر علی خان کے والد مولوی سراج الدین کی تربیت بھی دینِ اسلام کے گہوارے مےں ہوئی تھی تحصیل علم کا جذبہ اور اصلاح معاشرے کی آرزو ان کے دل مےں ہمیشہ پرورش پاتی رہی تھی اور ڈاکخانے کے محکمے مےں ملازم ہونے کے باوجود وہ سرسید احمد خان کی ان مساعی سے متاثر تھے جو وہ علی گڑھ مےں مسلمانوں کی سربلندی کی تجدید کے لئے کر رہے تھے لیکن جس کے اثر و عمل کا دائرہ پورا ہندوستان تھا۔ مولوی سراج الدین کے علمی و ادبی مزاج نے اپنے علاقے کے پسماندہ کا شکاروں کی حالت سنوارنے اور زمینداروں کے مسائل حل کرنے کا بیڑہ اٹھایا تو ایک ہفت روزہ اخبار ”زمیندار“ یکم جون 1903ءکو جاری کیا۔ اس وقت ظفر علی خان تیس برس کے ہو چکے تھے لیکن اہم حقیقت یہ ہے کہ ان کے دانش مند باپ نے انہیں انٹرمیڈیٹ مہندرا کالج پٹیالہ سے کرنے کے بعد علی گڑھ بھیج دیا جہاں انہیں مولانا شبلی نعمانی کی شفقت اور سرپرستی حاصل ہوئی۔ طلباءکی علمی‘ ادبی اور تہذیبی سرگرمیوں مےں حصہ لینے اور مختلف تنظیموں مےں کام کرنے کا موقع ملا اور ان کے باطن سے وہ ادیب بیدار ہوگیا جس کی تربیت سیرت نبوی کے مو¿لف اور محقق شبلی نعمانی نے کی تھی۔ ظفر علی خان نے اعتراف کیا ہے:
”بہ فیضِ صحبتِ علامہ شبلی کا یہ صدقہ ہے
کہ دنیائے ادب مےں دھوم ہے میرے مقالوں کی“
انہوں نے اپنی زندگی مےں دو مقاصد کو ہمیشہ فوقیت دی۔ اول اسلام اور نبی آخر کی محبت‘ دوم مسلمانوں کی فلاح و بہبود اور سربلندی و افتخار۔ ان کا یہ شعر ان کے مستحکم جذبے کا آئینہ دار ہے۔
اتنی ہی آرزو ہے‘ مرے دل مےں اے خدا
اسلام کو زمانے مےں دیکھوں مےں سربلند
شاعری مےں ان کی قادر الکلامی اور حق گوئی بے مثل ہے لیکن ان کا سرمایہ¿ افتخار نعت نگاری ہے اور ایک نعت جس کا مطلع تاباں حسب ذیل شعر ہے انہیں ہمیشہ زندہ رکھے گی
وہ شمع اجالا جس نے کیا چالیس برس تک غاروں مےں
اک روز جھلکنے والی تھی‘ سب دنیا کے درباروں مےں
مولانا ظفر علی خان نے آخری تقریر 26 مارچ 1947ءکو پنجاب یونیورسٹی لاہور مےں منعقد کی جانے والی ”اردو کانفرنس“ مےں کی جس مےں نوزائیدہ پاکستان کے آزاد باشندوں کو الاٹ منٹوں کے چکر مےں ہچکولے کھاتے اور معماران وطن کو بھلا دینے کی روش مےں مصروف دیکھا تو فرمایا:
”ہمارا قافلہ منزلِ مقصود کو پہنچ چکا ہے اور اس کے بعد تمنائے رہنمائی تو ہے مگر قوتِ رہنمائی نہیں.... دنیا چڑھتے ہوئے سورج کی پرستش کرتی ہے اور ہم تو ڈوبتے ہوئے ستاروں کی طرح دنیا پر نظر ڈال رہے ہےں۔ پھر سورج کے مقابلے مےں ہمیں کب جگہ ملے گی؟ .... بایں ہمہ عہدِ حاضر کے نقش و نگار مےں کچھ ہمارے قلم کا بھی حصہ ہے۔ اس گلستان کے پھولوں نے ہمارے خون سے بھی سرخی حاصل کی ہے۔ اس صحرا کی ہنگامہ آرائی مےں ہمارا جنون بھی کار فرما رہا ہے.... اس لئے یہ کہہ کر کانوں مےں انگلیاں نہ ٹھونس لیں کہ اگلے وقتوں مےں کہ یہ لوگ انہیں کچھ نہ کہو“
لیکن وقت نے دیکھا کہ جو آفتاب 27 نومبر 1952ءکو غروب ہوا تھا وہ ہمیشہ روشن رہا اور ظفر علی خان کو بھلا دینے والے خود طاق نسیاں پر بجھے ہوئے چراغ بن گئے۔