قصہ آدم کو رنگیںکر گیا کس کا لہو!

کالم نگار  |  پروفیسر محمد مظفر مرزا

چانکیہ، گاندھی، پٹیل اور گنگا دھر تلک کی اولاد نہ خود چین سے بیٹھے گی نہ پاکستان کو چین لینے دے گی، کہتے ہیں کہ جب کسی ملک کے ہمسائے میں اس کا دشمن ملک موجود ہو گا تو وہ ملک تعمیر و ترقی حاصل نہیں کر سکتا، یہی کیفیت پاکستان عزیز از جان کی ہے کہ پاکستان اپنے بجٹ کا وافر حصہ اپنے دفاع کیلئے صرف کرتا ہے جو کہ انتہائی ضروری ہے۔ اس لئے کہ ہمارا پڑوسی بھارت ہمارا صرف دشمن ہی نہیں بلکہ گھٹیا، کم ظرف، ڈرپوک اور بدفطرت اور بے اعتبار بھی ہے، اور یہی اس کی ”تابندہ تاریخ“ اقوام عالم میں مشہور و معروف ہے۔ ڈنمارک، سوئٹزر لینڈ، فرانس اور جرمنی اگر ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہیں تو اس کی بڑی وجہ یہی ہے کہ ان کے ہمسائے ان سے کوئی ”چھیڑا چھیڑی“ نہیں کرتے اور وہ تمام ملکی اور قومی معاشی بجٹ اپنی تعمیر و ترقی پر صرف کرتے ہیں، ہم یہ گزارش ہمیشہ کرتے آئے ہیں کہ ہمارے حکمرانوں کو ہندو¶ں کی نفسیات اور بین الاقوامی سطح پر ان کی چاپلوسانہ اور منافقانہ سیاست پر نظر رکھنی چاہئے، وزیر اعظم بھارت من موہن سنگھ کے ”من موہنانہ“ بیانات ہماری حکومت کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہیں۔
محترم مجید نظامی صاحب تقریباً ہر خطاب میں پاکستانی قوم کے سامنے برملا اور کھلے بندوں یہ اعلان فرماتے ہیں کہ مجھے ایٹم بم بنا کر بھارت پر گرا دیں ہم نے بھی پاکستان عزم عالیشان میں زندگی کی کئی بہاریں دیکھ لی ہیں۔ ہم خوش قسمت اس لئے ہیں کہ ہماری نسل نے غلامی کا دور نہیں دیکھا، لیکن ہماری آزادی و خودمختاری پر کسی طرح سے حرف آئے تو میں بھی یہی چاہوں گا کہ مجھے بھی ایٹمی میزائل بنا کر ہندوستان پر گرا دیا جائے، ہماری تمام تر مشکلات، مصائب دشمنانہ حرکتیں اور دکھ بھرے حالات و واقعات جو ہر لمحہ ہمیں چین نہیں لینے دیتے۔ اور قومی زندگی کے ہر پہلو سے تعمیر و ترقی اور استقامت و استقلال کے حوالے سے ہر طرح کی خوش حالی ناپید ہو کر رہ گئی ہے۔ یہ مسئلہ تو دائمی ہے اور جب تک بھارت کے ساتھ جنگ کا آخری کامیاب اور تاریخی را¶نڈ نہیں ہو گا اور جب تک بھارت معذور اور لاچار اور شکست و ریخت سے ہمکنار نہیں ہوتا نہ آرام سے بیٹھے گا اور نہ پاکستان کو آرام لینے دے گا۔ ہماری پاک افواج پاکستان کی سرحدوں کا تحفظ کر سکتی ہیں اور ہمیں فخر ہے کہ ہمارے نوجوان مجاہدین افواج پاکستان دنیا کی اعلیٰ ترین تربیت یافتہ افواج ہیں، پاکستانی افواج کے چیف آف جنرل سٹاف اشفاق پرویز کیانی نے پچھلے دنوں سوات میں بڑا اعلیٰ بیان فرمایا کہ ہم پاکستان کو حضرت قائد اعظمؒ اور حضرت علامہ اقبالؒ کا پاکستان بنائیں گے، میں نے کم از کم اپنے کسی کمانڈر سے یہ بات پہلی مرتبہ سنی ہے اگر یہی فلسفہ یہی نظریہ، یہی ایمانی اور ایقانی صورت رہی تو انشاءاللہ ہم کسی بھی دشمن کو اسے موت کا آئینہ دکھا سکتے ہیں۔ دنیا کی کوئی بھی طاقت پاکستان کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتی، حضرت قائداعظمؒ سات ولیوں کے حامل ولی تھے انہوں نے ایسے ہی تو نہیں فرمایا تھا کہ پاکستان قیامت تک زندہ رہے گا لیکن ہماری قوم اور ہماری افواج کو یہ احساس اور فکر ہر لمحہ رہنا چاہئے کہ ہماری پاک سرحدوں اور ہمارے ایٹمی اثاثوں پر غلیظ، بدبودار اور بدطنیت اقوام کی نظریں ہیں لیکن وہ بقول حضرت علامہ اقبالؒ کچھ بھی نہیں کر سکتے۔
گر کبھی خلوت میسر ہو تو پوچھ اللہ سے!
قصہ آدم کو رنگین کر گیا کس کا لہو!