\\\"قرض ہڑپ کرنے والے قومی مجرموں کا احتساب \\\"

کالم نگار  |  کرنل (ر) اکرام اللہ

خادم اعلیٰ پنجاب طرف نے چند روز قبل ایک تقریب کی صدارت کرتے ہوئے سیاسی اثرو رسوخ کی بنیاد پر اربوں روپے مالیت کے قرضے حاصل کر کے ہڑپ کرنے والوں کو قانون و انصاف کے شکنجے میں کسنے کا جو مطالبہ کیا ہے وہ ہر فرد کے دل کی آواز بن گیا ہے ۔ قبل ازیں وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے سیاسی مصلحتوں اور مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے این آر اور زدگان کی فہرست شائع کر کے جو جرات مندانہ اور قابل رشک قدم اٹھایا ہے اس سے ان کے سیاسی قدوقامت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ امید واثق ہے کہ وزیر اعظم بنکوں کے نادہند گان کے ناموں کا بھی جلد از جلد اطلاق کرنے میں کسی قسم کی جماعتی اغراض کو سد راہ نہیں بننے دیں گی۔ یہ بات کسی وضاحت کی محتاج نہیں کہ گزشتہ 62 برسوں سے سیاسی اقتدار کو ذاتی مفادات کے حصول اور خاندانی دولت کو بڑھانے کا ذریعہ بنانے واے عناصر اب مزید کسی رحم و ہمدردی کے مستحق نہیں ہیںجو گزشتہ کئی برسوں سے غیر قانونی ذرائع سے دولت سمیٹ کر ارب پتی بن گئے ہیںاور عالی شان محلوں میں عیش و عشرت کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ عوام ان لٹیروں کو اپنے دکھوں کا مداوا کرنے کے لیے حقِ حکمرانی عطا کرتے ہیں لیکن یہ نام نہاد قائدین برسر اقتدار آکر ان کے مصائب وا ٓلام کا مداوا کرنے کی بجائے قومی وسائل کو دونوں ہاتھوں سے بے دردی سے لوٹنا شروع کردیتے ہیں ۔جبکہ ان کی بدعنوانیوں اور بے ضابطگیوں کی سزا غریب عوام بھگت رہے ہیں ایک اخباری رپورٹ کے مطابق پرویز مشرف کے آٹھ سالہ دور حکومت میں مجموعی طور ایک کھرب روپے سے زائد مالیت کے بنکوں و مالی اداروں سے لیے گئے قرضے معاف کیے گئے جو سیاست دانوں ، ایلیٹ کلاس اور طبقہ اشرافیہ کے افراد نے سیاسی اثرو رسوخ کے باعث حاصل کیے تھے ۔ اس سے قبل نگران وزیر اعظم معین قریشی سمیت دوسری سابقہ حکومتوں نے بھی اپنے اپنے حواریوں کو بنکوں کے قرضے سیاسی رشوت کے طور پر دے کر اپنے اقتدار کو استحکام اور دوام بخشنے کی کوششیں کیں۔ دیرینہ محرومیوں کے شکارعوام جو بجا طور پر ان قرضہ خور ڈاکوﺅں کے محاسبہ اور جواب طلبی کا حق رکھتے ہیں،ذرائع ابلاغ کے توسط سے لگا تار مطالبہ کر رہے ہیں کہ انھیں قانون و انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کر کے ان کا کڑا احتساب کیا جائے اور ان کے پیٹوں سے ناجائز طور پر ہضم کردہ قومی خزانے کی ایک ایک پائی کی واپسی کو یقینی بنایا جائے ۔ بلاشبہ قرضوں کی صورت میں لوٹی گئی رقوم کی وصولی سے کیری لوگر امریکی بل کی توہین آمیز شرائط کے تحت ہمیں آئندہ غیر ملکی امداد حاصل کرنے کی ذلت برداشت نہیں کرنی پڑے گی۔
کرپٹ اور بدعنوان عناصر کے احتساب کے لئے شروع کیے جانے والے متوقع عمل سے موجودہ عدالتی نظام کو مقدمات کا بے تحاشہ بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔ تاہم قوم پر امید ہے کہ اس نے طویل جدوجہد اور بے مثل قربانیوں کے بعد آئین و قانون پر مبنی جس منصفانہ عدالتی نظام کو بحال کیا ہے وہ ان کی امنگوں و خواہشات کے مطابق ان کرپٹ عناصر کا محاسبہ کرکے معاشرے سے ہمہ نو ع خرابیوں اور بے ضابطگیوں کو ختم کرنے اوراقوام عالم کی برادری میں پاکستان کی کھوئی ہوئی عزت و تکریم کی بحالی میں اپنا قائدانہ کردار ادا کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھے گا۔اس بارے میں کوئی دو رائے نہیں ہوسکتی کہ قومی وسائل کی بے رحمانہ لوٹ مار کرنے والے سیاست دان اور بیوروکریٹس اس وقت پوری قوم کی نظروں میں نفرت کا سمبل بن چکے ہیں۔ لہذاٰ ان کے خلاف عوامی نفرت کی موجودہ فضاءمیں اب ان قومی مجرموں کو معافی دینے یا ان کے محاسبہ میں کسی مزید تاخیر کو قوم کسی صورت برداشت کرنے کے موڈ میں نہیں ۔چنانچہ جو سیاسی رہنما بھی ان عناصر کی پشت پناہی یا دفاع کرے گا وہ محض اپنے سیاسی ڈیتھ وارنٹ پر دستخط کرے گا۔