قربانی

تحریر: پیر حاجی محمد یوسف عزمی.......
قربانی حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنے اکلوتے بیٹے سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی قربانی بحکم خداوندی اس کے حضور پیش کی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص فضل و کرم سے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح ہونے سے بچا لیا اور قربانی کو قبول فرما لیا جیسا کہ ارشاد ہوا
”اے ابراہیم! تم نے خواب سچ کر دکھایا اور بہت بڑی قربانی اس کے فدیہ مےں دے کر بچا لیا اور ہم نے پیچھے آنے والوں کےلئے اس طریقے کو باقی رکھا“
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم نے فرمایا اور جس مےں قربانی کی استطاعت ہو اور وہ نہ کرے وہ ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے۔ حدیث شریف ہے کہ قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے قربانی قبول ہوتی ہے اسے خوش دلی سے کرو۔ اس سے پہلے الفاظ ہےں کہ وہ جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں‘ بالوں اور کھروں کے ساتھ آئے گا۔ جس نے ذی الحج کا چاند دیکھا اور اس کا ارادہ قربانی کرنے کا ہے تو جب تک قربانی نہ کرے بال اور ناخن وغیرہ نہ اتروائے (مسلم، ترمذی، ابن ماجہ، نسائی)
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کہتے ہےں کہ حضورﷺ نے فرمایا کہ اونٹ اور گائے سات اشخاص کی طرف سے ہے بھیڑ کا چھ ماہ کا بچہ سال بھر والی بکری کے برابر ہے۔ (ابوداﺅد‘ نسائی‘ ابن ماجہ)
قربانی مسلمان پر واجب ہے مقیم ہو‘ مسافر نہ ہو اور صاحب نصاب ہو۔ مسافر پر اگرچہ قربانی واجب نہیں لیکن نفل کے طور پر کر سکتا ہے۔ قربانی کا وقت 10 ذی الحجہ کے صبح صادق طلوع ہونے نماز عید کی ادائیگی کے بعد سے بارہویں ذی الحجہ کے غروبِ آفتاب تک ہے۔