صدر اوباما کو ایک دوست کا مخلصانہ مشورہ

ولیم آر پولک نے حال ہی میں ایک کتاب بعنوان \\\"Understanding Iran\\\" لکھی ہے ۔ اس کے علاوہ اس کی ایک اور کشمیر اور افغانستان سے متعلق کتاب ، جس کا موضوع ہے \\\"The Cockpit of Asia\\\" جلد منظر عام پر آنے والی ہے ۔ یہ مغربی مصنف امریکی صدر اوباما کا ایک دیرینہ دوست ہے۔ چونکہ یہ دونوں شکاگو یونیورسٹی میں ایک وقت میں پڑھاتے رہے ہیں۔ شکاگو جانے سے پہلے ولیم پولک ، صدر کنیڈی کی حکومت میں اسکی پالیسی پلاننگ کونسل کا ممبر تھا جو مشرق وسطی اور وسطی ایشیا کے معاملات کو دیکھ رہی تھی۔
حال ہی میں ولیم پولک نے اوباما کو ایک کھلا خط لکھا ہے جس میں ولیم نے توقع ظاہر کی ہے کہ چونکہ وہ اوباما کا حمائتی ہے اور پاکستان اور افغانستان کے معاملات کو اچھی طرح سمجھتا ہے اس لیے اوباما کو اس کے حقیقت پسندانہ تجزیے کو مان لینا چاہیے ۔ ولیم نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ ویت نام جیسی صورتحال سے بچتے ہوئے ، جس نے صدر جانسن کی صدارت کو پٹڑی سے اتار دیا تھا، اب امریکہ افغانستان میں اپنے مفادات کا تحفظ کر سکتا ہے۔ ولیم کے خط کے چند چیدہ چیدہ نکات قارئین کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں ۔ ولیم لکھتا ہے :۔
٭پریس کی اطلاعات کیمطابق امریکی صدر اوباما کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ افغانستان میں افواج کے اضافے سے جنگ جیتی جا سکتی ہے ، یہی بات ویت نام میں لڑنے والے امریکی جنرل، صدر جانسن کوکہا کرتے تھے۔ درجنوں انسرجنسیز کا مطالعہ کرنے کے بعد ، جس میں امریکی انقلاب سے افغانستان تک، برطانیہ ، فرانس، جرمنی ، یورپ ، افریقہ اور ایشیا سب شامل ہیں اور جن کا ذکر ولیم نے اپنی کتاب \\\"Violent Politics\\\" میں کیا ہے ، یہ کہا جا سکتا ہے کہ اوباما کو غلط مشورے دئیے جا رہے ہیں۔ ویت نام سمیت ساری انسرجنسیز صرف اس وقت ختم ہوئیں جب قابض بیرونی افواج نے مقبوضہ ملک چھوڑا ۔
٭ولیم نے اوباما کو لکھا کہ امریکہ نے ویت نامیوں کی نفسیات کو نہ سمجھا اس لیے امریکہ شکست سے دو چار ہوا۔ اب یہ سمجھنا ضروری ہے کہ پاکستانیوں کے دماغ پر کشمیر سوار ہے ۔ اسکے علاوہ پاکستان پشتونوں کو کبھی نہیں چھوڑے گا ۔ ولیم کیمطابق 1979-1989 میں جب امریکہ اربوں ڈالرز خرچ کر کے سوویٹ یونین کو شکست دینے کی کوشش کر رہا تھا تو اس وقت پاکستان صرف اسلام کو بچانے کی فکر میں تھا۔ یہ نہ بھولیں کہ جتنا دور اسلام آباد سے سری نگر ہے اتنا ہی دور درہ خیبر سے کابل ہے‘ اس لیے پاکستان کا افغانستان اور کشمیر سے وہی تعلق ہے جو نیو یارک کا ’’ہارٹ فورڈ‘‘ سے ہے یعنی پاکستان کشمیر اور افغانستان کو اپنا گھریلو معاملہ سمجھتا ہے ۔ولیم کے مطابق کشمیر کے مسئلے کے بیج 1846 میں اس وقت بوئے گئے جب انگریزوں نے اس کو ایک ہندو کے آگے بیچ ڈالا ، 1947 میں جب مسلمان اکثریتی ریاستوں نے پاکستان میں ضم ہونا تھا تو کشمیر کا غیر مسلم مہا راجہ ہندوستان سے مل گیا پھر نہرو نے بدقسمتی سے حق خود ارادیت کے وعدے پورے نہ کیے ۔ مختصراً یہ کہ کشمیر وسطی اور جنوبی ایشیا کا فلسطین ہے۔
ولیم کہتا ہے کہ :
\\\"Th only real solid Pakistani Organization is the Army. Civilian Governments have been marked by massive corruption, inaptitude and fragility\\\"
یعنی پاکستان کا مضبوط ترین ادارہ افواج پاکستان ہی ہے ۔ سول حکومتیں توبد دیانت ، نا اہل اور کمزور ہیں۔
انگریزوں نے پشتونوں کو تقسیم کرنے کی سازش کی تھی جسکی زندہ مثال \\\"Durand Line\\\" ہے جو 1893 میں کھینچی گئی اور جسکی وجہ سے 25 ملین پشتون پاکستان میں اور باقی 14ملین افغانستان میں رہ گئے۔
٭ولیم نے لکھا کہ یہ بھی حقیقت ہے کہ افغانستان نے کسی حملہ آور کو ملک میں ٹکنے نہیں دیا۔ 1842 سے 1919 تک انگریزوں نے تین کوششیں کیں اور تینوں دفعہ ناکام ہوئے اسی طرح سوویت یونین نے بہت سی چھوٹی چھوٹی لڑائیاں تو جیت لیں لیکن افغانستان کی جنگ ہار گئے‘ چونکہ ان کا 80% افغانستان پر تو کوئی کنٹرول ہی نہ تھا ۔ روسیوں نے تقریباً 10% افغانیوں کو تہہ تیغ کر دیا اور تقریباً 50 لاکھ ملک چھوڑ گئے اور پاکستان جیسے ملک میں جا بسے۔ اب ان کی نئی نسل کے نوجوان مدرسوں سے نکل کر پھر طالبان کے پیادہ سولجر بن کر آگئے ہیں۔ ولیم کہتا ہے ہم طالبان کو شکست نہیں دے سکتے وہ ہمیں روسیوں کی طرح مسلمان دشمن بیرونی حملہ آور سمجھتے ہیںاور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم ایک کرپٹ افغان حکومت کے پیچھے ہیں جو NATO کا گولہ بارود بھی بیچ کر رقم بٹورنے سے باز نہیں آتی۔ افغان حکومت صرف کابل تک محدود ہے۔ ولیم نے اوباما کو لکھا:۔
\\\"I believe trying to defeat Talban is not in America\\\'s interest. The harder we try, the more likely terrorism will increase and spread\\\"
یعنی طالبان کو شکست دینے کی کوشش کرنا امریکی مفاد میں نہیں جتنی تیزی سے ہم ایسا کرنے کی کوشش کرینگے اتنی ہی تیزی سے دہشت گردی پھیلے گی۔ ہمارا یہ کہنا کہ اسامہ کو زندہ یا مردہ ہمارئے حوالے کیا جائے۔ افغان سوچ کے بالکل برعکس ہے ۔ اپنے ہاں پناہ لینے والے کو پکڑ کو دوسروں کے حوالے کرنے کو وہ اپنی عزت پر حملہ سمجھتے ہیں اس لیے ہم اسامہ کو پکڑنے کی بات نہ کریں بلکہ اسکو غیر موثر اور ناکارہ بنانے کا سوچیں جو پاکستان اور طالبان کی مدد سے کیا جا سکتا ہے۔
٭ڈرگ افغانستان کا نہیںامریکہ اور یورپ کا مسئلہ ہے افغانی اگر Heroin کاشت کر کے تجارت کرتے ہیں تو یہ ان کا اپنا معاملہ ہے ۔ کیا آپ ایک فرانسیسی کو یہ کہہ سکتے ہیں کہ آپ شراب نہ بنائیں۔ افغان حکومت مغرب کا ڈرگ کا مسئلہ حل نہیں کر سکتی۔ اگر طالبان افغانستان میں حکومت میں آ گئے تو ہمارا یہ مسئلہ ضرور حل ہو جائیگا۔
٭ولیم کیمطابق ہندوستان اور پاکستان آزاد خود مختار کشمیر نہیں چاہتے۔ کشمیر کا مسئلہ ان دونوں ممالک کو حل کر لینا چاہیے ۔ چونکہ موجودہ صورت حال دونوں کیلئے بہت مہنگی ہے۔
٭جہاں تک ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کا تعلق ہے اس سلسلے میں ولیم کا خیال یہ ہے کہ پاکستان اور ہندوستان کو جدا نہیں کیا جا سکتا اس مسئلے کا حل صرف وہی ہے کہ امریکہ اور روس سب سے پہلے اپنے ایٹمی اسلحے میں کمی کر دیں اور پھر علاقائی سطح پر ملکوں کو سیکورٹی گارنٹیز اور معاشی مفادات کی جھلک دکھا کر ان ہتھیاروں کو کنٹرول کیا جائے
٭ولیم نے اوباما کو بتایا کہ طالبان مسلمان ، پشتون ، پاکستانی یا افغانی ہیںامریکہ ان میں سے کچھ بھی نہیں اس لیے پاکستان ہی اس مسئلے کو بخوبی حل کر سکتا ہے اور طالبان کو مذاکرات کے میز پر لا سکتا ہے‘ اگر ہم افغانستان میں موجود رہے تو جنگ جاری رہے گی اور امریکی صدر اوباما امریکی عوام کی بہتری کے لیے وہ سب کچھ نہیں کر سکے گاجسکا اس نے خواب دیکھا تھا۔
ان نکات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ امریکہ اور اتحادی افواج کی 9/11 کے بعدافغانستان میں موجودگی سے ہی سارے مسائل پیدا ہوئے ہیں اور اب ایک منصوبے کے تحت انکی Graduated de-induction اور مرحلہ وار مسلمان افواج پر مشتمل بین الاقوامی امن مشن کی آمد سے ہی یہ مسئلہ حل ہو سکے گا اور جب امریکہ کی افواج افغانستان سے نکل گئیں تو پھر افغانستان ہندوستانیوں کا قبرستان بھی بن سکتا ہے اسی لیے بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ سے جو آجکل امریکی دورے پر ہیں، جب لاس اینجلس ٹائمز نے پوچھا کہ افغانستان کی صورتحال پر آپ کیا کہتے ہیں تو انہوں نے کہا:۔
\\\"I hope the US and the global community will stay involved in Afghanistan. A victory for the Taliban in Afghanistan would have catastrophic consequences for the world. We (in India) of course have more immediate concerns.\\\"
یعنی ہم یہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ کو افغانستان میں رہنا چاہیے ۔ طالبان کی فتح دنیا کو گھناؤنے انجام سے دوچار کر دیگی اور ہندوستان اس سے سخت پریشان ہے۔
قارئین ! یہی وجہ ہے کہ ہنود اور یہود دونوں عراق اور افغانستان میں بیرونی افواج کی موجودگی کے حامی ہیں تا کہ باغی ایران اور ایٹمی پاکستان پر دباؤ جاری رہے ۔ امریکہ کی ہزیمت کی ہندوستان اور اسرائیل کو کوئی فکر نہیں چونکہ ان کو اپنے مفادات عزیز ہیں ، امریکہ کے نہیں۔ یہی بات William R. Polk جیسے بین الاقوامی اور امریکی دانشور بھی کہہ رہے ہیں۔ کاش کہ یہ بات ہماری حکومتیں بھی سفارتی سطح پر امریکہ کو بتانے میں کامیاب ہو جاتیں تو آج یہ خطہ آگ کی لپیٹ میں نہ ہوتا۔