سکاٹ لینڈ میں چند روز

ظفر بختاوری۔۔۔
سکاٹ لینڈ کا سب سے بڑا شہر گلاسگو میرا یورپ میں پسندیدہ شہر ہے اور اس کی کئی وجوہات ہیں۔ اس شہر نے پہلی مرتبہ برطانوی پارلیمنٹ کے لئے ایک مسلم پاکستانی چوہدری محمد سرور کا انتخاب کیا تھا۔ گلاسگو شہر میں چالیس ہزار کے لگ بھگ پاکستانی ہیں جن میں بیشتر کا تعلق فیصل آباد سے ہے۔ لندن اور گلاسگو میں رہنے والے پاکستانی اور برطانوی ایک جیسے رویے رکھتے ہیں۔ گلاسگو میں رہنے والے پاکستانی انتہائی مہمان نواز ہیں اور ہمیشہ پاکستان سے آنے والے احباب کے لئے ضیافتوں کے لئے موقع کی تلاش میں رہتے ہیں جبکہ بڑے شہروں کی طرح لندن میں رہنے والے پاکستانی مہمانوں سے بچتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس دفعہ میرا قیام سکاٹ لینڈ کے کیپٹل ایڈنبرا میں تھا اور اپنے قیام کے دوران ہر روز گلاسگو آتا رہا کیونکہ ٹرین اور کار سے سفر کرتے ہوئے چالیس منٹ لگتے ہیں۔ گلاسگو میں پہلا ڈنر محمد اشرف کے گھر میں تھا۔ اشرف صاحب گلاسگو میں انتہائی متحرک اور فعال پاکستانی ہیں اور ان کے خاندان کے کم از کم تین سو افراد گلاسگو میں رہائش پذیر ہیں۔ اگلے روز اشرف صاحب نے گلاسگو کے ایک ہوٹل میں لنچ کا اہتمام کیا تھا جس میں برطانوی پارلیمنٹ کے رکن چوہدری محمد سرور‘ گلاسگو میں قونصل جنرل جمال شاہ‘ بابائے گلاسگو ملک غلام ربانی‘ وائس قونصل ثقلین جاوید‘ ممتاز تاجر افضل جگر بھی موجود تھے۔
چوہدری محمد سرور سے پاکستانی اور برطانوی سیاست پر سیر حاصل بات چیت ہوئی۔ برطانوی پارلیمنٹ کے آئندہ انتخابات مئی 2010ء میں ہو رہے ہیں۔ برطانیہ میں اکثر افراد کا خیال تھا کہ آئندہ انتخابات میں لیبر پارٹی شکست سے دوچار ہو سکتی ہے اور اس کی بنیادی وجہ لیبر پارٹی کی عراق اور افغان پالیسی ہے۔ گلاسگو میں کئی حضرات کا خیال تھا کہ سکاٹ لینڈ میں بہرطور لیبر پارٹی اپنی سابقہ پوزیشن برقرار رکھنے میں کامیاب رہے گی۔ چوہدری محمد سرور آئندہ انتخابات میں حصہ نہیں لے رہے ہیں اور توقع ہے کہ ان کے فرزند انس چوہدری آئندہ انتخابات میں ان کی سیٹ پر برطانوی پارلیمنٹ کا الیکشن لڑیں گے۔ اس وقت برطانوی پارلیمنٹ میں چوہدری محمد سرور کے علاوہ شاہد ملک‘ خالد محمود اور محمد صادق خان شامل ہیں۔ لیبر پارٹی کے آئندہ شکست کی صورت میں ان چار پاکستانی شخصیات میں سے بھی کوئی اپنی نشست سے محروم ہو سکتا ہے۔ شاہد ملک اور صادق خان مشکلات سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ گلاسگو کی سٹی کونسل میں اس وقت چھ پاکستانی ہیں جن میں ملک غلام ربانی کا فرزند عرفان ربانی بھی شامل ہے دیگر افراد میں ہنسلا ملک‘ شوکت بٹ‘ جہانگیر حنیف‘ خلیل ملک اور محمد رزاق شامل ہیں۔
چوہدری محمد سرور نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ گلاسگو سٹی کونسل کے آئندہ انتخابات میں گلاسگو کا لارڈ میئر پاکستانی ہو گا۔ گلاسگو میں پاکستانی حضرات کا خیال ہے کہ عرفان ربانی گلاسگو کے لارڈ میئر بن سکتے ہیں۔
برطانیہ کے درالامراءمیں لارڈ نذیر احمد پہلے سے رکن چلے آ رہے ہیں جبکہ حال ہی میں گوجر خان کے ایک گا¶ں سے تعلق رکھنے والی خاتون سعیدہ وارثی بھی یہ اعزاز حاصل کر چکی ہیں کہ وہ پہلی پاکستانی خاتون ہیں جو ہا¶س آف لارڈ کی رکن نامزد ہوئی ہیں۔
برطانوی سیاست میں آئندہ چھ ماہ انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ بظاہر لیبر پارٹی آئندہ انتخابات ہارتی ہوئی نظر آ رہی ہے لیکن سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر کا حالیہ دورہ مشرق وسطیٰ اہمیت کا حامل ہے۔ برطانیہ میں عوام کی اکثریت کا خیال ہے کہ لیبر پارٹی کی ناکامی میں اس کی عراق اور افغان پالیسی کا عمل دخل ہے اور عوام گزشتہ دو سالوں میں برطانیہ کے دو سو سے زائد فوجیوں کی ہلاکت سے رنجیدہ ہیں۔ بعض حلقوں کا خیال ہے لیبر پارٹی مئی 2010ء میں آئندہ انتخابات سے پہلے افغانستان میں اپنے فوجیوں کی تعداد میں کمی کر سکتی ہے اور الیکشن میں اپنی ساکھ کو بچانے کی۔