بھارت کی خطرناک چال

ڈاکٹر شیریں مزاری .....
بھارتی پراپیگنڈا مشینری زوروشور سے متحرک ہو چکی ہے کیونکہ یہ ایسا میدان ہے جس پر بھارت مذاکرات امن کی بجائے زیادہ انحصار کرتا ہے بھارت کے اس روئیے کی گواہی چھوٹے پڑوسیوں سے لیکر چین تک سب دینگے۔ ایک بار پھر سے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے ٹھوس امن قائم کرنے کی کوشش کی بجائے وزیراعظم من موہن سنگھ کے دورہ امریکہ کے موقع پر بھارتی پراپیگنڈا مشینری پورے طمطراق کے ساتھ حرکت میں آ چکی ہے۔
بھارتی وزیراعظم کا یہ دورہ امریکہ ایسے موقع پر ہو رہا ہے جب پاکستانی لیڈر شپ بھارت سے مذاکرات سے گریز کے روئیے کو پوری طرح پرکھنے کے بعد بلوچستان اور فاٹا کی صورتحال میں بھارت کے ملوث ہونے کا کھلم کھلا اظہار کر رہی ہے۔
اس علاقے سے بھارتی ہتھیار بھی برآمد ہو چکے ہیں اور معقولیت پر مبنی نتائج کیمطابق افغانستان میں بھارت کی خفیہ سرگرمیوں اور پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں تعلق پوری طرح واضح ہو چکا ہے چونکہ پاکستان بھی بھارت کا معاملہ امریکہ کے سامنے اٹھا رہا ہے اس لئے بھارت نے تمام محاذوں پر پاکستان کیخلاف بھرپور پراپیگنڈہ شروع کر رکھا ہے۔ بھارتی وزیر دفاع پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کو ہدف بنائے ہوئے ہیں اور اس معاملے میں امریکہ میں پہلے ہی ایک فضا موجود ہے من موہن سنگھ امریکہ کے سامنے ایسے مسائل اٹھا رہے ہیں جن کا بھارت کے ساتھ سرے سے کوئی تعلق ہی نہیں بلکہ یہ سراسر پاکستان کا داخلی معاملہ ہے۔ انہوں نے اس بات پر جس شبے کا اظہار کیا ہے کہ کیا صدر زرداری کو فوج پر کنٹرول حاصل ہے۔ انہوں نے شکایت کی کہ انہیں معلوم ہی نہیںکہ وہ پاکستان میں کس کے ساتھ بات کریں۔ بھارتی وزیراعظم کی یہ سوچ بجائے خود مضحکہ خیز ہے کیونکہ حکومتوں کے درمیان معاملات ریاستی اداروں اور موزوں چینلز کے ذریعے طے کئے جاتے ہیں اسلئے سائوتھ بلاک کو اس بارے میں ابہام دور کر لینا چاہئے جو اس حوالے سے انکے ذہنوں کو مکدر کر رہا ہے کہ وہ پاکستان میںکس کیساتھ بات کریں۔
بلاشبہ دہشت گردی کی بھارت کو ایک پسندیدہ آڑ مل گئی ہے اور انہوں نے بھی امریکہ کی طرح ’’مزید کچھ کرو‘‘ کی رٹ لگانا شروع کر دی ہے اور اس بات پر بوجوہ شور مچا رہا ہے کہ پاکستان ممبئی حملوں کی تحقیقات کے سلسلے میں کافی اقدامات نہیں کر رہا۔
بھارت یہ سب کچھ بعض وجوہ کی بنا پر اس لئے کر رہا ہے کہ وہ خود اس حملے کے بارے میں متعلقہ مواد فراہم کرنے سے اپنے گریز پر پردہ ڈالنا چاہتا ہے اس لئے پاکستان کو بھارت کے ناکافی تعاون کے بغیر ہی اس معاملہ میں تحقیقات کے مراحل سے گزرنا پڑ رہا ہے بھارت کے اس طرز عمل کے باوجود پاکستان تحقیقات کے حوالے سے حیران کن شفافیت کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ جب کہ بھارت چاہتا ہے کہ پاکستان بھارت کی طرف سے ٹھوس ثبوت فراہم کئے جانے کے بغیر ہی مشتبہ مبینہ ملزموں کو پکڑ کر سزا دے۔ مگر ایسا کرنا خود بھارت کیلئے پنڈورا باکس کھول دیگا کیونکہ یہ جاننے کے باوجود کہ مجرم کون ہیں‘ بھارت سمجھوتہ ایکسپریس میں ہونیوالے قتل عام کی تحقیقات سے گریز کر رہا ہے۔ یہ سب کچھ ہندو انتہا پسندی اور سیاستدانوں سے انکے تعلق پر پردہ ڈالنے کیلئے کیا جا رہا ہے تاہم بابری مسجد کی شہادت کی انکوائری رپورٹ سے یہ پردہ اٹھ چکا ہے کیونکہ رپورٹ میں ایڈوانی اور واجپائی کی صورت میں بی جے پی کی قیادت کو مورد الزام ٹھہرایا گیا ہے۔ یہ جان کر سخت تشویش لاحق ہو جاتی ہے کہ اس قسم کے انتہا پسندوں کی انگلیاں پھر سے بھارت کے ایٹمی بٹن پر آ سکتی ہیں‘ اس لئے امریکہ اور اسکے اتحادیوں کیلئے وقت ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ ایٹمی تعاون پر سنجیدگی سے نظرثانی کریں۔
کیونکہ بھارت کے جنگجو مذہبی انتہا پسند چوٹی کی سیاسی سطح پر نہیں پہنچ سکتے ہیں‘ پاکستان کیلئے موقع ہے کہ وہ یہ مسئلہ بین الاقوامی سطح پر اٹھائے کیونکہ اب دنیا میں بھارت کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کے بارے میں سوالات اٹھنا شروع ہو گئے ہیں کیونکہ بی جے پی کے حکومت میں آنے کی صورت میں ایٹمی ہتھیار انتہا پسندوں کے ہاتھ میں آ سکتے ہیں۔ وزیراعظم من موہن سنگھ کو بھی اس بات پر خصوصی تشویش ہونی چاہئے کہ ہندو انتہا پسند کس طرح ایٹمی ہتھیاروں تک رسائی کی راہ پر چل رہے ہیں۔
ہندو انتہا پسندوں کی طرف سے ایٹمی ہتھیاروں تک رسائی خاص طور پر اس بھارتی فوجی قیادت کے بیان کے حوالے سے بھی تشویشناک ہے کہ ایٹمی چھتری کے اندر محدود جنگ ہو سکتی ہے اس ہفتے کے اوائل میں بھارت کے آرمی چیف جنرل دیپک کپور نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ایٹمی سائے میں محدود روایتی جنگ کا امکان موجود ہے۔ دراصل بھارت ایٹمی ماحول میں محدود جنگ کے نظرئیے کی معقولیت کے طریقوں کی تلاش میں ہے اور اسی حوالے سے ایک حکمت عملی کولڈ سٹارٹ ہے جس کے تحت بھارت جنوبی پاکستان کے اندر سریع الحرکت زمینی اور فضائی حملے کی کوشش کریگا اور اسکی بنیاد یہ خطرناک مفروضہ ہو گا کہ پاکستان کی طرف سے ایٹمی ہتھیار استعمال کی حالت میں لانے سے پہلے عالمی برادری مداخلت کر دیگی، بھارت اور پاکستان دونوں جانتے ہیں کہ کوئی بھی ملک جنگ کو اس سطح پر نہیں لے جائیگا کہ جو ایٹمی جنگ پر منتج ہو سکتی ہے مگر بات یہ بھی ہے کہ اس قسم کی کوئی بھی مہم جوئی دونوں ملکوں کے ایٹمی پس منظر میں انتہائی تباہ کن بھی ثابت ہو سکتی ہے‘ اس لئے بھارت جان بوجھ کر فوجی ذہنیت کیساتھ ناپائیدار قسم کے سٹریٹیجک نظریات تراش رہا ہے۔ یہ بات بھارتی آرمی چیف کے اس بیان سے بھی عیاں ہے کہ ایک ملک دوسرے ملک میں محض اضافی بنیادوں پر مداخلت کر سکتا ہے بشرطیکہ اس کی خودمختاری کو غیر ملکی گروپوں سے خطرہ ہو جو بیرون ملک مشنوں کو ہدف بنا رہے ہیں۔ بنیادی طور پر بھارت کسی ایسے ملک کیخلاف حملے میں پہل کو جائز قرار دینے کی کوشش کر رہا ہے جہاں سے نیم ملکی یا غیر ملکی عناصر دنیا میں کہیں بھی سرگرم ہوں۔
دراصل یہ جارحانہ فوجی کارروائی کا واضح نظریہ ہے جو بش کی پالیسیوں میں وضع کیا گیا تھا اور جس پر اوباما انتظامیہ بھی ابھی تک کاربند ہے۔ ان حالات میں اگر بھارت پاکستان کیساتھ امن و استحکام کے قیام پر آمادہ نہیں ہوتا تو اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں۔ امریکہ کیساتھ سٹریٹیجک پارٹنر شپ کے حوصلے پاتے ہوئے جس میں بھارت کو پاکستان کیساتھ معاندانہ رویہ رکھنے کی کھلی چھٹی دیدی گئی ہے بھارت اب زور بازو دکھانے کے موڈ میں لگتا ہے۔
اندرا گاندھی کے دور حکومت کے بعد بھارت کا ایسا رویہ دیکھنے میں نہیں آیا تھا پاکستان کو اچھی طرح یاد ہے کہ خود پاکستانی حکمرانوں کی حماقتوں کے باعث بھارت کو کس طرح مشرقی پاکستان میں اپنا ایجنڈا پورا کرنے کا موقع مل گیا۔ ہمیں فاٹا یا بلوچستان میں بھارت کو اب ایسا موقع نہیں دینا چاہئے خصوصاً اس وقت جب بھارت کی امریکہ کیساتھ سٹریٹیجک پارٹنر شپ بھی ہے اگر بھارت مذاکرات نہیں چاہتا تو ہمیں بھی اس پر زور نہیں دینا چاہئے مگر امریکہ پر مسلسل زور دیتے رہنا چاہئے کہ وہ افغان حکومت کو مجبور کرے کہ وہ بھارت کو پاکستان کیخلاف خفیہ کارروائیوں کیلئے افغان سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہ دے۔ اسکے ساتھ بلوچستان میں امریکہ کی خفیہ سرگرمیوں کو ختم کرکے صوبے میں استحکام کو یقینی بنانا ہو گا۔ اس مقصد کیلئے بلوچ عوام سے رابطہ کرکے انکے سیاسی اور معاشی مطالبات پر توجہ دی جانی چاہئے۔ بھارت کے جارحانہ عزائم اب زیادہ کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا جوابی حکمت عملی ہی نہیں بلکہ مشرقی محاذ پر درپیش خطرے کا مقابلہ کرنے کیلئے کچھ فعال پالیسیاں وضع کرنے کے حوالے سے ہماری سوچ اور فکر بھی واضح ہے؟