امریکہ، عربوں اور ایران میں تناﺅ کا ذمہ دار

نصرت مرزا ۔۔۔
امریکہ، ہمیشہ عربوں کا استحصال کرتا رہتا ہے، سعودی عرب کو لے لیجئے، امریکہ سعودی عرب سے تیل حاصل کرتا ہے اور اُس کی جو قیمت بھی ادا کرتا ہے وہ سعودی عرب کو نہیں ملتے، بلکہ امریکہ کے بینکوں میں سعودی عرب کے کھاتوں میں ایک نمبر یا ایک تعداد کے عدد میں جمع ہوجاتے ہیں۔ سعودی عرب وہاں سے کچھ پیسہ ترقی کے لئے نکال لیتا ہے یا پھر امریکہ سے سامانِ حرب خرید لیتا ہے اور جمع کرکے رکھ دیتا ہے یا پھر اپنے یہاں جو ترقی کرتا ہے اس کے ٹھیکے بھی وہ یا تو امریکی کمپنیوں کو دے دیتا ہے یا پھر امریکہ کسی مغربی یا مشرقی دنیا کی کمپنیوں کو دلا دیتاہے۔ کوئی امریکی اُس کا مشیر بن جاتا ہے یا پھر وہ حربی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے بنکرز بنانے ہوں یا اسلحہ کی تربیت لینا ہو یا اُن کو محفوظ کرنے کے لئے سہولتیں بنانی ہوں، اُن کا ٹھیکہ بھی امریکی یا مغربی دنیا کو مل جاتا ہے، یوں امریکہ سعودی عرب کو ہی نہیں، متحدہ عرب امارات، بحرین اور قطر کو لوٹتا رہتا ہے، اسی استحصالی طریقہ کار کی وجہ سے عام عربوں میں امریکہ کے خلاف سخت نفرت پائی جاتی ہے جس کا اظہار 9/11 کی صورت میں ہوا اور اس لئے بھی کہ امریکہ نے اسرائیل کو عربوں کے سروں پر بٹھا رکھا ہے، انہیں بلیک میل کرتا ہے، اُس کی حیثیت پورے خطہ میں امریکی پولیس مین کی سی ہے اور اسرائیل نے فلسطین کی زمین پر غاصبانہ قبضہ کیا ہوا ہے اور فلسطینیوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑتا رہتا ہے اور جو بے سروسامانی کے باوجود اسرائیلیوں کی مزاحمت کرتے رہتے ہیں۔ اسرائیلیوں کا اجتماعی طور پر یہ خیال ہے کہ فلسطینیوں سے کوئی معاہدہ نہیں ہوسکتا، اُن کو صرف مارا، دبایا یا کچلا جاسکتا ہے، راقم نے یہ خیالات 2005ءمیں انڈیا کے شہر چندی گڑھ کے مذاکرہ میں ایک اسرائیلی ایڈمرل کے منہ سے سنے، جس نے راقم کو ہلا کر رکھ دیا اور پہلی مرتبہ اسرائیلیوں کا انسان دشمن، مسلم دشمن اور فلسطین کے بارے میں جارحانہ سفاکانہ اور قاتلانہ خیالات سننے کو ملے۔ اِسی وجہ سے شاید عربوں میں شدید غصہ ہے، یہی وجہ ہے کہ جب چھٹی عرب اسرائیلی جنگ حزب اللہ اور اسرائیلیوں کے درمیان ہوئی تو باوجود یکہ عرب دُنیا کے حکمراں حزب اللہ کی مخالفت کررہے تھے مگر عرب نوجوان حزب اللہ کو اپنا ہیرو مانتے تھے، اِس جنگ نے اسرائیل
کے ناقابل تسخیر ہونے کے تصور کو ریزہ ریزہ کردیا۔ اس وجہ سے امریکہ اور مغربی دنیا نے ایران اور عربوں کے درمیان فاصلے بڑھانا شروع کردیئے۔
ایران کا ایٹمی پروگرام جو دراصل شروع اس لئے ہوا تھا کہ ہندوستان کے بعد پاکستان ایٹمی طاقت بن گیاہے جبکہ چین بھی ایٹمی طاقت ہے، اس لئے ایران نے اپنے تحفظ یا برتری کے ریکارڈ یا طاقت کے حصول کے لئے ایٹمی ملک بننے کا فیصلہ کیا۔ اُس نے پاکستان کے صدر ضیاءالحق کو اس بات پر راضی کیا کہ وہ ایران کو ایٹمی تکنالوجی فراہم کردے۔ اِن کام کے لئے جیسا کہ کہا جاتا ہے ایران کے اس وقت کے صدر اور حالیہ آیت اللہ مذہبی رہنما نے صدر ضیاءالحق کو اس پر راضی کیا کہ وہ ایران کو ایٹمی صلاحیت یا تکنالوجی فراہم کریں۔ سو اب یہ بات طے ہوگئی کہ ابتدائی طور پر پاکستان نے ایران کو ایٹمی تکنالوجی فراہم کی۔ جس کی پاکستان نے قیمت وصول کی۔ مگر بعد میں اس کی بھاری قیمت بھی پاکستان کو ادا کرنا پڑی۔ ایران اپنے ایٹمی پروگرام کو آگے بڑھاتا جارہا ہے جس پر امریکہ چراغ پا تو ہے مگر ساتھ ساتھ وہ عربوں کو ایران کے خلاف اکسا رہا ہے جس سے عرب کافی خوفزدہ ہیں اور امریکی اس خوفزدگی کو بڑھا رہے ہیں۔ اُن کا پارہ بھی بڑھایا جارہا ہے، معاملات صرف اس بات پر ہی موقوف نہیں بلکہ نئی صورتحال جنم پا رہی ہے، لبنان میں حزب اللہ کو اسرائیل دشمن نہیں بلکہ سعودی عرب دشمن کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ یمن میں ایک قبیلہ حوتس سعودی عرب اور یمن کے خلاف برسرپیکار ہوگیا ہے۔ جیزان سے ملحق یہ علاقہ آج کل میدان کارزار بنا ہوا ہے جس پر سعودی اور یمنی فضائیہ بمباری کررہی ہے۔ امریکی یہ پروپیگنڈہ کررہے ہیں کہ اس قبیلے کو ایران پیسے دے رہا ہے۔ مسلح کررہا ہے، وہ جو راکٹ حزب اللہ نے اسرائیل کے خلاف استعمال کئے وہ راکٹ اس قبیلہ کو بھی استعمال کرتا دکھایا جارہا ہے۔ اب اُس کی اصل صورت حال کیا ہے، یہ ذرا دیر بعد پتہ چلے گا۔ مگر سعودی وزیر داخلہ اس کو القاعدہ کی شرارت قرار دے چکے ہیں۔ اس کے علاوہ بحرینی حکومت بھی شاکی ہے کہ اس کی چھوٹی سی آبادی میں شیعہ برادری کو ابھار ا جارہا ہے۔ بحرینی قیادت ذرا زیادہ سمجھ دار ہے وہ شیعہ برادری کو دبانے یا کچلنے کی بجائے ان سے گفتگو کررہی ہے اور ایران سے بھی سلسلئہ جنبانی شروع کیا ہو ہے۔ اسی طرح قطر میں تو امریکہ نے عملاً قبضہ کیا ہوا ہے۔ عراق جنگ میں اس کو ہیڈ کوارٹر بنایا ہوا ہے، وہاں موجود الجزیرہ ٹی وی چینل جو عربوں کی خیالات و محسوسات کی ترجمانی کرتا تھا خرید لیا ہے۔ اس کے ساتھ متحدہ عرب امارات پر بھی دباﺅ کی بات سنی جارہی ہے۔ مگر سب سے بڑھ کر ایران کا ایٹمی پروگرام ہے جس کا خوف دکھا کر امریکہ عربوں کی دولت ہتھیانا چاہتا ہے، وہ ایران کے ایٹمی پروگرام پر زوردار واویلا کررہا ہے اور عربوں کے خوف میں روز افزوں اضافہ کرتا چلا جارہا ہے اگرچہ ایران کے ایٹمی پروگرام سے عربوں کو نہیں اسرائیل کو خطرہ ہوسکتا ہے۔ ایرانیوں نے عربوں کو مطمئن کرنے کی لاکھ کوشش کی مگر امریکی ومغربی دنیا عرب ایران اختلاف پر تیل چھڑکتے رہتے ہیں، مگر سب سے زیادہ وہ ظلم ا مریکہ پاکستان کے ساتھ کررہا ہے کہ ایران ہو یا عرب دنیا یہ سب مسلمان ممالک ہیں اور پاکستان کے دوست ہیں اور ان کے دائرہ کار اور دائرہ اثر کے اندر آتے ہیں۔ دوستی، تحفظ اور مذہب سب ایک ہے اور علامہ اقبال اس اتحاد کا خواب دیکھ چکے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام ایران اور عربوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے کافی تھا۔ جس سے ان ممالک کو کوئی خوف نہ تھا مگر ان طالع آزماﺅں اور امریکی کی بالادستی کو برقرار رکھنے کے لئے پاکستان کو پھنسائے رکھا، اس کے اندر خلفشار، بدامنی اور دہشت گردی پیدا کی تاکہ وہ اپنا فطری اور برادرانہ کردار ادا نہ کرسکے۔ افسوس تو یہ ہے کہ پاکستان اس صورت حال کو سمجھ تک نہیں رہا ہے۔