آپ ہی اپنی اداﺅں پہ ذرا غور کریں

کالم نگار  |  سعید آسی

بھٹو کی طرح تختہ¿ دار تک جانے اور عوامی لیڈر بننے کیلئے عوام کے پاس جانے کا درس صدر آصف علی زرداری ایوان صدر اسلام آباد کے کسی محفوظ کمرے میں بیٹھ کر مزار قائد کراچی میں منعقدہ پیپلز پارٹی کے ایک جلسہ¿ عام سے اپنے ٹیلی فونک خطاب کے ذریعہ دے رہے تھے تو مجھے ان کی ”سیاسی اداکار“ والی ٹرم کا مفہوم بھی بخوبی سمجھ آگیا۔مرحوم ذوالفقار علی بھٹو میں بے شمار بشری کمزوریاں تھیں اور ان کے اقوال و کردار میں تضاد بھی نمایاں تھا۔ میں ایک طالب علم کی حیثیت سے بھی ان کے دور اقتدار کا ناقد رہا ہوں۔ ان کے دور اقتدار کے حوالے سے میں نے 1974ءمیں جب میں گورنمنٹ کالج ساہیوال میں گریجویشن کررہا تھا، ایک طویل نظم ”چاہے دیس بھی ہو کنگال، بھٹو جئے ہزاروں سال“ تحریر کی اور معروف شاعر حفیظ جالندھری کو بھجوا دی۔ انہوں نے اس نظم کی ستائش میں چار صفحات پر مبنی اپنا جوابی خط مجھے بھجوایا تو مجھے اندازہ ہوا کہ بھٹو مرحوم کی ”اداﺅں“ سے دل گرفتگی کی حدیں کہاں تک پہنچی ہوئی ہیں۔ اس سب کے باوجود مجھے مرحوم بھٹو کو حقیقی عوامی لیڈر قرار دینے میں کوئی جھجک محسوس نہیں ہو رہی کیونکہ ان کی شخصیت چاہے جتنی بھی لچھے دار تھی۔ وہ بہرصورت ہر ایشو کو عوام کے پاس خود لے کر جاتے تھے۔ وہ عوامی جذبات اور ان کی کمزوریوں سے بھی بخوبی آگاہ تھے اس لئے وہ صحیح معنوں میں عوام کی نبضوں پر ہاتھ رکھ کر پبلک جلسوں میں خطاب کیا کرتے تھے اور جلسہ گاہ میں موجود لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا لیتے تھے، 1967ءمیں پیپلز پارٹی تشکیل دینے کے بعد شائد ہی کوئی موقع ایسا آیا ہو کہ انہوں نے اپنی زندگی کو لاحق کسی خطرے کی بنیاد پر کسی پبلک جلسے میں عوام کے پاس جانے سے گریز کیا ہو۔پی این اے کی تحریک ریاستی جبر و تشدد کے ردعمل میں پرتشدد بھی ہو چکی تھی اور بھٹو مرحوم کے خلاف عوامی نفرت کو ابھارنے میں بھی خاصی موثر ثابت ہو رہی تھی، ایسی فضا میں کسی پبلک جلسہ میں بھٹو مرحوم کے ساتھ کوئی شرارت یا پرتشدد کارروائی ہوسکتی تھی مگر انہوں نے خود کو عوام سے دور رکھنے کیلئے اپنے گرد کسی قسم کا حصار قائم کیا نہ کسی جلسے میں جانے سے گریز کیا۔ جن حالات میں بھٹو مرحوم کو پھانسی کی سزا ہوئی، وہ ان کے اور ان کے خاندان کیلئے انتہائی کٹھن حالات تھے۔ وہ چاہتے تو ان حالات سے سمجھوتہ کرکے اپنے اور اہل خانہ کیلئے آسودگی حاصل کرلیتے، ملک میں رہ کر یا جلا وطن ہو کر، ان کیلئے دونوں آپشن موجود تھے مگر چاہے اپنی انا یا کسی اور زعم میں، انہوں نے جنرل ضیاءکے مارشل لاءکے ساتھ کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا اور ایسے سمجھوتوں کی پیش کشوں کو وہ اہانت کے ساتھ ٹھکراتے رہے تاآنکہ وہ تختہ¿ دار تک پہنچ گئے۔صدر آصف علی زرداری اسی بھٹو مرحوم کی پارٹی کے شریک چیئرمین کی حیثیت سے ان کے نقش قدم پر چلنے اور ان کی طرح تختہ¿ دار تک جانے کی بات کر رہے ہیں تو اس معاملہ میں ان کے قول و کردار میں موجود کھلے تضاد کو دیکھ کر یقینا غیرجانبدار سیاسی مبصرین کو بھی ہنسی آگئی ہوگی۔ جنہیں منصب صدارت پر فائز ہونے کے بعد اب تک ایوان صدر سے کسی عوامی جلوس کی شکل میں باہر نکلنے، بھٹو مرحوم کی طرح کسی بھی پبلک مقام پر، کسی گلی، کسی بازار میں عوام کے پاس جا پہنچنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ جو ایوان صدر کے اندر سے ہیلی کاپٹر پر سوار ہو کر انتہائی محفوظ کئے گئے کسی دوسرے مقام پر پہنچتے ہیں اور پھر بھی اپنے گردا گرد اتنامضبوط حصار بنواتے ہیں کہ کسی انسان کے تو کجا، کسی چیونٹی کے بھی ان تک پہنچ کر پر مارنے کی گنجائش نہیں رہتی اور پھر واپسی کیلئے ہیلی کاپٹر تک کا سفر بھی وہ بلٹ پروف گاڑی میں بلٹ پروف جیکٹ پہن کر طے کرتے ہیں، وہ بھٹو کے سیاسی جانشین بننے کے داعی ہیں اور عوامی لیڈر بننے کیلئے عوام کے پاس جانے کا درس دے رہے ہیں۔ ایک الطاف بھائی نے لندن میں بیٹھ کر ٹیلی فونک خطابات کے ذریعہ عوام کے ساتھ رابطے کا سلسلہ برقرار رکھا ہوا ہے اور دوسرے اب مقبول عوامی جماعت کے شریک چیئرمین اور صدر مملکت جناب آصف علی زرداری ملک میں موجود رہ کر بھی اپنی پارٹی کے پبلک جلسوں میں ٹیلی فونک خطاب کے ذریعے عوام سے رابطہ برقرار رکھنے کے داعی ہیں۔ یہ پبلک جلسہ بھی پیپلز پارٹی کے یوم تاسیس کے سلسلہ میں منعقد ہوا تھا جس میں پارٹی لیڈر کی بنفس نفیس موجودگی ضروری تھی تاکہ ان کے پارٹی کارکنوں کو نیا حوصلہ ملے مگر انہوں نے ایوان صدر سے کراچی کی جلسہ گاہ تک ہیلی کاپٹر کے ذریعہ پہنچنا بھی اپنے لئے غیر محفوظ سمجھا اور ایوان صدر کے ایک کمرے میں بند ہو کر اس جلسہ سے ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے اپنی ”خطابت“ کا جوش نکال لیا۔ پھر وہ کہتے ہیں کہ سیاسی اداکار موجودہ نظام (ان کے اقتدار) کا خاتمہ چاہتے ہیں مگر ہم کسی سازش سے ڈرنے والے نہیں، اگروہ قائل ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ، پارلیمنٹ اور اپوزیشن ان کے اقتدار کے خلاف کسی سازش میں مصروف نہیں تو پھر یہ کون سے سیاسی اداکار ہیں جو انہیں ایوان اقتدار کی بلند و محفوظ فصیلوں میں بھی چین سے نہیں بیٹھنے دے رہے....
آپ ہی اپنی اداﺅں پہ ذرا غور کریں
ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی