تو سدا سلامت رہے میری ماں

کالم نگار  |  عتیق انور راجہ
تو سدا سلامت رہے میری ماں

دنیا کی محبت کو اگر ایک لفظ میں سمیٹنا ہو تو وہ لفظ بلاشبہ ماں ہی ہو سکتا ہے۔ماں جسے سنتے ہی سکون اور تحفظ کا احساس ہوتا ہے۔ ماں اللہ پاک کی ایک نعمت ہے۔مشکل سے مشکل حالات میں ایک ماں اپنے بچوں کے سر پر اپنی محبت کی چادر تانے کھڑی رہتی ہے۔وہ خوش قسمت لوگ ہیں جنہیں اپنے ماں باپ کی خدمت کا موقع ملتا ہے اور وہ خدمت کا ایسا حق ادا کرتے ہیں کہ ان کے ماں باپ ان سے راضی ہو جاتے ہیں۔جب ماں باپ راضی ہو جائیں تو اللہ پاک بھی اپنے ایسے بندوں سے راضی ہوجاتا ہے۔ دنیا کے ہر مذہب میں ہر معاشرے میں ہر دور میں ماں کو بہت عزت والا مقام حاصل رہا ہے۔آج کی ترقی یافتہ اور مہذہب کہلانے والی قومیں ماووں کی محبت کا ایک دن منا کر ماںباپ سے محبت کا حق ادا کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ماں کی محبت کو ایک دن میں ,پھولوں کے گلدستہ میں یا چند لفظوں میں بیان کیا ہی نہیں جاسکتا ہے۔یہ ایسا انمول رشتہ ہے جس کا متبادل اس دنیا میں کوئی ہے ہی نہیں۔اللہ پاک نے جب بندوں سے اپنی محبت کو بیاں کرنا چاہا۔تو حکمت والے رب نے کہا کہ میں تمیں ایک ماں سے ستر گنا زیادہ محبت کرتا ہوں۔نبیؐ کے پاس ایک صحابی تشریف لائے اور پوچھا کہ مجھ پر سب سے زیادہ خدمت کا حق کس کا ہے۔کریم آقاؐ نے فرمایہ تیری ماں کا۔پوچھنے والے نے پھر پوچھا آپؐ نے پھر فرمایا کہ تیری ماں کا۔اس نے تیسری بار بھی یہی سوال کیا تو اسے یہ ہی جواب ملا کہ تجھ پر سب سے زیادہ حق تیری ماں کا ہے۔اس کے بعد باپ کا اور بعد میں باقی دوسرے رشتہ داورں کا۔کبھی ماں کے قدموں میں جنت کا وعدہ ہے۔تو کہیں سرکار خود فرماتے ہیں کہ کاش لوگوں آج میری ماں زندہ ہوتی اور میں نماز پڑھ رہا ہوتا۔سورہ فاتحہ کی تلاوت کر رہا ہوتا۔کہ اچانک میری ماں مجھے نماز پڑتے ہی آواز دیتی تو لوگوں سن لو میں نماز چھوڑ کہ پہلے اپنی ماں کی بات سنتا۔قران میں ارشاد باری ہے کہ جب تمہارے ماں باپ دونوں یا ان میں سے کوئی ایک بڑھاپے کو پہنچ جائے تو ان کی خدمت میں کوئی کسر نہ چھوڑنا اوران کی خدمت کرتے وقت انہیں اف تک نہ کہنا۔
دنیا میں ہر کسی کو ہی اپنی ماں سے پیار ہوتا ہے۔ہر کوئی ماں باپ کی محبت کے قصیدے سناتا رہتا ہے۔مگر یہ بھی اللہ کاخاص فضل ہوتا ہے۔کہ وہ ہمیں کسی نیک ماں باپ کے گھر پیدا کرتا ہے۔ میری ماں نے گو کہ دنیاوی تعلیم تو حاصل نہ کی تھی مگر اپنے ماں باپ سے معقول دینی تعلیم کے ساتھ اپنی روایات کا پاس رکھنا ضر ور سیکھ لیا تھا۔میں نے اپنی زندگی میں آج تک جب بھی اپنی ماں سے کبھی بات کی ہے تو مجھے نہیں یاد کہ میری ماں نے بسم اللہ کہے بغیر کوئی جواب دیا ہو۔ہر حال میں اللہ کی ذات پر بھروسہ رکھنا اور ہر وقت اپنے ہاتھ دعا کے لیے اٹھائے رکھنا۔دعا مانگتے وقت سب کی خیر مانگنا سب کا بھلا چاہنا یہ میری ماں کی ایک ایسی عادت رہی ہے۔جو کسی حالت میں بھی تبدیل نہیںہوئی۔میں نے اپنی ماں کبھی بھی کسی کے بارے میںکچھ غلط کہتے نہیں سنا ہے۔بلکہ وہ اپنے پرائے سب رشتوں کا لحاظ رکھتے ہوئے اپنی زندگی میں خوش رہنے والی ایک صابر و شاکر خاتون ر ہیں۔آج سے دس سال پہلے میری والدہ محترمہ کو برین ہمریج ہوا تو بہت دن ہم نے ان کے ساتھ لاہور میں انہیں سخت تکلیف میں دیکھا۔دو تین دن بے ہوش رہنے کے بعد اللہ پاک نے کرم فرمایا اور لاہور جنرل ہسپتال میں ڈاکٹر انور چوہدری جیسے فرشتہ صفت انسان نے ہماری امی جان کے دماغ کا کامیاب آپریشن کیا۔آپریشن کے بعد ڈکٹر صاحب نے کہا تھا کہ آپ لوگوں پر اللہ کا خاص کرم ہے کہ جس حالت میں آپ کی والدہ تھیں ان کا صحت یاب ہونا بہت مشکل تھا۔برین ہمریج کے ساتھ والدہ محترمہ کو بائیں طرف فالج بھی ہوگیا تھا۔جس کا علاج ڈاکٹر صاحب نے یہ بتایا کہ آپ لوگ جتنی زیادہ خدمت کرو گے جتنا زیادہ ان کا خیال رکھو گے ان کے چلنے پھرنے کے اتنے ہی چانسس ہوں گے۔بے شک یہ ایک امتحان تھا ہمارے لیے ہماری فیملی کے لیے کہ ایک طرف ہمارے بیمار اور ضعیف والد اور دوسری طرف فالج کا شکار ہماری والدہ۔یہ اللہ پاک کا خاص کرم ہے کہ ہمارے بھائی نوید عامر جس نے وقت ابھی گریجوایشن مکمل کر کے آگے مزید پڑھنے یا کوئی نوکری تلاش کرنی تھی۔وہ والد صاحب کے ایک حکم پر گھر صرف ماں کی خدمت میں مصرو ف ہوگیا اور ایسی خدمت کی کہ ایک سال کے بعد ہماری والدہ نے سہارے کے بغیر چلنا شروع کر دیا۔ہمارے بھائی نے والد صاحب کی اور والدہ کی ایسی خدمت کی پورے علاقے میں ایک مثال قائم کردی۔تین سال پہلے جب ہمارے ابو جی اس دنیا سے رخصت ہوئے تو آخری وقت وہ ایک طرف اپنی ساری اولاد سے خوش تھے تو ساتھ ہی چھوٹے ویر نوید عامر کا خیال رکھنے کی تاکید بھی کرتے رہتے تھے۔
دس سال بعد پچھلے دنوں ایک بار پھر ہماری والدہ کو دماغ کے علاج کے لیے لاہور لے کر جانا پڑا ہے۔اب کی بار بھی ہمارے لیے فرشتہ صفت انسان ڈاکٹر انور چوہدری ثابت ہوئے ہیں۔ایک اور کامیاب آپریشن نے ہمارے سروں کی چھت کو سلامت رکھا ہے۔ہمارے دلوں سے ڈاکٹر صاحب کے لیے بے شمار دعائیں جاری ہیں۔جس وقت والدہ ہسپتال پہنچیں تو بہت سے احباب ان کی صحت کے لیے مسلسل دعا گو رہے ہمیں ابھی بھی والدہ کی مکمل صحتیابی کے لیے دعاؤں کی بہت ضرورت ہے۔اللہ پاک سب کے سروں پر ان کے ماں باپ کا سایہ سلامت رکھے۔