رمضان مبارک میں سستے رہائشی پلاٹوں کا جمعہ بازار

کالم نگار  |  فاروق عالم انصاری
رمضان مبارک میں سستے رہائشی پلاٹوں کا جمعہ بازار

عمران خان نے ڈرون حملوں کی مذمت کرتے ہوئے حکمرانوں سے پوچھا تھا کہ کیا غلامی اور جنگ کے درمیان بھی کوئی چیز ہوتی ہے؟ میرا دوست جاوید نواز چودھری بھی اسی ذائقہ کا ایک سوال پوچھ رہا تھا۔ کیا سوشلزم اور سرمایہ داری کے درمیان کوئی مقام آتا ہے کہ تمام بے گھر پاکستانیوں کو کم از کم دو دو مرلے کا رہائشی پلاٹ میسر آ سکے؟ اس ریٹائرڈ سیشن جج کو فراغ سرکاری گھروں کے بعد اب چھوٹے گھروں سے پالا پڑا۔ ان کے دو بیٹے کرایہ کے گھروں میں رہتے ہیں۔ قدرے دیانتدارانہ محتاط سروس کے بعد ایسے مسائل لازم ہوتے ہیں۔ وہ دیر کے بعد میرے ہاں تشریف لائے تھے۔ سو ہم بڑی دیر تک باتیں کرتے رہے۔
دوپہر شام ہوئی‘ شام شب تار ہوئی
اور کھلتے رہے‘ کھلتے رہے باتوں کے گلاب
پوچھنے لگے: ’’کیا مادر وطن سوتیلی بھی ہو سکتی ہے؟‘‘ سوالات تھے کہ بس امڈے چلے آ رہے تھے۔ جواب اسے خود سوجھایا میں نے دیا‘ مجھے کچھ یاد نہیں۔ بس جواب یاد رہ گیا۔ ’’ہاں! مادر وطن سوتیلی ہو سکتی ہے۔ جو مادر وطن اپنے بے گھر شہریوں کو دو دو مرلے کا رہائشی قطعہ اراضی بھی فراہم نہ کرے اس کے سوتیلے پن میں کیا شبہ ہو سکتا ہے‘‘۔ چند برس پہلے کالم نگار ایاز امیر نے کاکول ملٹری اکیڈمی میں رئیل اسٹیٹ ایک مضمون کے طور پر پڑھانے کی تجویز دی تھی۔ آج ہمارا پورا ملک اسی کاروبار کے خبط میں مبتلا ہے۔ میرے سامنے ایک تازہ اخبار پڑا ہے۔ لاہور شہر کے تمام رہائشی علاقوں کے رہائشی پلاٹوں کی قیمتیں درج ہیں۔ پوش علاقوں میں پانچ مرلہ رہائشی پلاٹ کی قیمت ایک کروڑ کو چھو رہی ہے۔ ارزاں علاقوں میں بھی قیمت پندرہ بیس لاکھ روپے سے کم نہیں۔ ان علاقوں میں رہ کر آپ محض لاہور شہر میں رہنے کی غلط فہمی پال سکتے ہیں۔ ورنہ یہ علاقے مال روڈ کی نسبت مریدکے‘ شیخوپورہ‘ بھائی پھیرو اور قصور سے زیادہ قریب ہیں۔ اب تو شاعر شعیب بن عزیز بھی اپنے لاہور سے آئے ہوئے مہمانوں سے اختر شیرانی کے سے لہجے میں پوچھنے لگے ہیں‘ کس حال میں ہیں یاران وطن؟ بحریہ ٹاؤن کے پڑوس میں رہتے ہوئے وہ اچھی طرح جان گئے ہیں کہ اب وہ لاہور میں نہیں رہے۔ اب سوال زیربحث تھا کہ کیا سرکار کیلئے ان پلاٹوں کی قیمت کنٹرول کرنا ممکن ہے؟ ہاں کیوں نہیں۔ اگر سرکار گندم کی قیمت پر کنٹرول نہ رکھے تو رہائشی پلاٹوں کی طرح گندم کی قیمت بھی شُتر بے مہار ہو کر ایک لاکھ روپے من تک پہنچ سکتی ہے۔ ان دنوں ہمارے تمام غیر حکومتی سیاسی ندی نالے ایک ہی سمت بہہ رہے ہیں۔ یہ سب میاں نوازشریف کی تبدیلی چاہتے ہیں۔ میں سوچتا ہوں کہ اگر میاں نوازشریف وزیراعظم نہ رہے تو پھر کیا ہو جائیگا؟
رات کٹنے کے منتظر ہو عدم
رات کٹ بھی گئی تو کیا ہو گا
گھمبیر ملکی مسائل کی طرف کسی کا دھیان ہی نہیں۔ تبدیلی کیلئے کوئی لگن کسی سیاسی جماعت میں دور دور تک دکھائی نہیں دیتی۔ تبدیلی لانے کی دعویدار جماعت کے عبوری انتظامات میں بھی کوئی تبدیلی نہیں۔ وہی سیکرٹری جنرل‘ وہی وائس چیئرمین۔ بے تحاشا بڑھتی آبادی کی طرف کسی کا دھیان نہیں۔ پاکستان کی آبادی میں روزانہ دس ہزار ایک سو نو‘ افراد کا اضافہ ہو رہا ہے۔ ملک کی مجموعی آبادی میں اضافے کے ساتھ شہری آبادی میں اضافے کا رحجان خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے۔ ہر سال شہری آبادی میں چھبیس لاکھ افراد کا اضافہ ہو رہا ہے۔ اس وقت پاکستان دنیا کے چھ بہت زیادہ آبادی والے ملکوں میں شامل ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ تیل سے مالا مال ملکوں کے سوا کوئی ملک اپنی آبادی میں کمی کے بغیر خوشحال نہیں ہو سکتا۔ اک زمانے میں بنگلہ دیش کی آبادی ہم سے زیادہ تھی۔ اب وہ اسے کنٹرول کر چکے ہیں۔ اب ان کی آبادی ہم سے کم ہے۔ ان کے محکمہ خاندانی منصوبہ بندی کو ان کے مذہبی رہنماؤں کا تعاون حاصل ہے۔ ان کے آبادی کنٹرول کرنے کی دوسری اہم وجہ تعلیم ہے۔ ان کی تعلیمی ترقی کے احوال یوں ہیں: پار برس میں میں نے ویلز میں اپنے زیرتعلیم بیٹے بیرسٹر وقاص فاروق سے پوچھا تھا ’’آپ کی کلاس میں کتنے پاکستانی زیرتعلیم ہیں‘‘۔ ’’صرف دو۔ میں اور سندھ سے طٰہٰ جتوئی‘‘ اس کا جواب تھا۔ میرا اگلا سوال بنگلہ دیش کے بارے میں تھا۔ میرا منہ حیرت سے کھلے کا کھلا رہ گیا‘ جب اس نے مجھے بتایا کہ چودہ بنگلہ دیشی طالب علم ادھر زیرتعلیم ہیں اور ان میں کچھ لڑکیاں بھی شامل ہیں۔ ماہ رمضان کی رحمتوں کا نزول جاری ہے۔ آسمانی رحمتوں اور برکات کے اس مہینے کو آپ افطاریوں اور رمضان کے سستے جمعہ بازار والا مہینہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ افطاریوں کی منظر کشی مجید لاہوری کے لفظوں میں:
دن کو جاری لنچ بھی سگریٹ بھی لیکن شام کو
دعوت افطار میں جانے کا موسم آ گیا
رہے رمضان کے سستے جمعہ بازار‘ رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی حکمران جماعت کے ان سستے جمعہ بازاروں کے دورے شروع ہو جاتے ہیں۔ اخبارات کے صفحے وزیروں مشیروں اور ممبران اسمبلی کے دوروں کی تصاویر سے بھر جاتے ہیں۔ پاکستان کی نصف سے زیادہ آبادی خط افلاس سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے۔ ان سکے بند غریب اور مفلوک الحال لوگوں کو ماہ رمضان کی برکات اور رحمتوں کے خزانوں میں سے صرف سڑکوں کنارے افطاریوں کے دسترخوانوں پر ٹرخایا جا رہا ہے۔ ہماری خیرات کی شرح بھی کچھ کم نہیں‘ پانچ کھرب سالانہ یا شاید اس سے بھی کچھ زیادہ۔ اب تو جناب عمران خان کے ’’لطف و کرم‘‘ سے ہمارے دینی مدرسے بھی ہماری خیرات سے بے نیاز ہو گئے ہیں۔ خاں صاحب نے ہمیں بہت بڑی مذہبی ذمہ داری سے رہائی دلا دی ہے۔ اب ہمارے لئے ممکن ہے کہ ہم اپنی ساری خیر خیرات بے گھروں کیلئے رہائشی پلاٹوں کے حصول میں لگا دیں۔ پھر ہمیں رہائشی پلاٹوں کیلئے زمین بھی کسی غیر ملک سے امپورٹ کرنے کی ضرورت نہیں۔ اتنی مہنگائی کے باوجود ہماری زرعی زمین کی قیمت اب دس پندرہ ہزار روپے فی مرلہ سے زیادہ نہیں۔ ان رہائشی پلاٹ بنانے میں صرف سیوریج کے ٹانکے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگرچہ غریبوں کی بستیاں پہلے ہی اس سیوریج کی سہولت سے محروم چلی آ رہی ہیں۔ کیا ہماری سرکار اور سماجی فلاحی انجمنیں ماہ رمضان میں سستے رہائشی پلاٹوں کے رمضان جمعہ بازار لگانے کا اہتمام کر سکتی ہیں؟ دیکھئے جلدی کیجئے۔ رمضان مبارک کی رخصتی میں چند روز ہی رہ گئے ہیں۔