لندن کلب یا این ایس جی میں پاک بھارت شمولیت

کالم نگار  |  عزیز ظفر آزاد
لندن کلب یا این ایس جی میں پاک بھارت شمولیت

بابائے قوم حضرت قائداعظم نے روز اول سے ہی مملکت خداداد کے تمام حکومتی امور کے خدوخال واضح کئے۔ فروری 1948ء میں اپنی نشری تقریر میں فرمایا "پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اصل الاصول تمام اقوام عالم کے لئے دوستی اور خیر سگالی کا جذبہ ہے۔ ہم دنیا کے کسی ملک یا قوم کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں رکھتے۔ ہم قومی اور بین الاقوامی معاملات میں دیانت اور انصاف کے اصولوں پر یقین رکھتے ہیں۔ ہم دنیا میں امن اور خوشحالی کے اضافے اور ترقی کے لئے اپنی جانب سے زیادہ سے زیادہ کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہیں۔ پاکستان دنیا کی مظلوم اور کچلی ہوئی اقوام کو اخلاقی اور مادی امداد دینے سے کبھی نہیں ہچکچائے گا۔ پاکستان اقوام متحدہ کے منشور میں درج شدہ اصولوں کا حامی اور علمبردار ہے " بانی پاکستان نے جس طرح خارجہ پالیسی کے رہنما اصول بتائے اسی طرح دفاع وطن کے حوالے سے بھی بڑے حساس جذبات رکھتے تھے۔ آپ نے متعدد مرتبہ دفاع کے حوالے سے بری بحری اور فضائی افواج سے خطاب فرمایا۔ حضرت قائداعظم نے معروف بحری بیڑے دلاور کے افتتاح پر 23 جنوری 1948 میں فوجی جوانوں سے کہا " ہر چند کہ ہم اقوام متحدہ کے منشور کی پوری تائید کرتے ہیں پھر بھی اپنے دفاع کی طرف سے غافل نہیں رہ سکتے۔ کیونکہ اقوام متحدہ کا ادارہ کتنا ہی مضبوط کیوں نہ ہوجائے اپنے وطن کی دفاع کی بنیادی ذمہ داری ہماری ہی رہے گی اور اس کے لئے ضروری ہے کہ پاکستان تمام خطرات اور آنے والے حوادث سے مقابلہ کرنے کیلئے بالکل تیار رہے۔ اس ناقص اور خام دنیا میں کمزوری اور نہتا پن دوسروں کو حملے کی دعوت دینے کے مترادف ہے لیکن امن عالم کی بہترین خدمت اسی طرح ہو سکتی ہے کہ ہم ان لوگوں کو جو ہمیں کمزور سمجھ کر ہم پر حملہ کرنے یا چھا جانے کی نیت رکھتے ہوں کوئی موقع نہ دیں۔ یہ صرف اس وقت ہو سکتا ہے جب ہم اتنے مضبوط ہو جائیں کہ کسی کو ہماری طرف سے بری نیت سے دیکھنے کی جرات نہ ہو سکے۔
ان پاکیزہ خیالات و افکار پر ملک خداداد کی بنیاد رکھی گئی تاکہ یہ خطہ امن عالم کی علامت بن کر ابھرے۔ ہر محکوم اور مظلوم کی آواز بنے مگر ہماری اشرافیہ میں ایسے افراد کی کمی نہ تھی جو ریاست کی بنیادی تصور و تشخص کو بگاڑنا اور بدلنا چاہتے تھے۔ آج اقوام عالم میں ہماری پسپائی اور رسوائی ایک طرف تو اسی اشرافیہ کی بدعملی کا نتیجہ ہے اور دوسری جانب بانیان پاکستان کے اصولوں اور فرمودات سے انحراف ہے۔ ایک جانب ہمارا ہمسایہ بھارت روز اول سے ہمارے وجود کو مسمار اور نابود کرنا چاہتا ہے۔ وہ ہمیں نیپال، بھوٹان کی طرح طفیلی ریاست بنانے پر تلا ہے۔ جسے 1970ء میں سازشوں اور عسکری قوت کے بل بوتے پاکستان کو دولخت کر کے بھی چین نہ آیا اور 1974ء میں پوکھران کے علاقے میں ایٹمی دھماکہ کر کے دنیا کو عالم حیرت میں ڈال دیا۔ آج جس تنظیم کا امریکہ بھارت کو ممبر بنانا چاہتا ہے یہ تنظیم انہی بھارتی دھماکوں کے سدباب کے سبب معرض وجود میں آئی۔ پہلے پہل اس کو لوگ لندن کلب کے نام سے یاد کرتے تھے۔ نیوکلیئر سپلائی گروپ بنانے والوں میں دیرینہ بھارتی دوست سوویت یونین اور موجودہ بھارتی سرپرست امریکہ سمیت برطانیہ مغربی جرمنی فرانس اور جاپان شامل تھے مگر آج 48 ممالک پر مشتمل تنظیم بھارت کو امریکہ کی لاکھ جدوجہد کرنے کے باوجود شامل کرنے کو تیار نہیں۔ جنوبی افریقہ، ترکی، نیوزی لینڈ، آسٹریا اور چین نے کھلم کھلا بھارتی جارحانہ عزائم کو بے نقاب کرتے ہوئے بھرپور مخالف کا مظاہرہ کیا۔ حالانکہ امریکہ کے سیکرٹری جان کیری نے رکن ممالک کو تحریری ہدایات ارسال کیں۔ این ایس جی میں بھارت کی شمولیت کی مخالف نہ کی جائے مگر بھارت کا شامل نہ ہونا دلیل ہے کہ امریکہ کی گرفت عالمی اداروں پر کمزور پڑتی جا رہی ہے۔ جہاں تک پاکستان کی اس بین الاقوامی ادارے میں شمولیت کا سوال ہے تو تاریخ شاہد ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ جوہری عدم پھیلائو پالیسی پر سرگرم رہا۔یاد رہے کہ 1999ء میں بھارت کو دی گئی وہ مشہور تجویز بھی دنیا پر عیاں ہے جس میں بھارت کو سی ٹی بی ٹی پر مشترکہ دستخط کی دعوت دی گئی۔ اسی سال پاک بھارت مذاکرات میں سٹرٹیجک ہتھیاروں کو بنانے سے پرہیز کرنے کی تجویز بھی سب کے سامنے ہے۔ پاکستان نے اپنے طور پر 2000 میں نیشنل کمانڈ اتھارٹی کا قیام کر کے بہت خدشات کا خاتمہ کیا۔ 2002ء میں ایٹمی مواد کے کنونشن میں شامل ہوا۔ دوسری طرف بھارت سپر سونک انٹر سیپٹر میزائل کے تجربات میں مصروف ہے۔ جہاں آر ایس ایس جیسی خطرناک عزائم رکھنے والی تنظیم کی حمایتی حکومت ہو وہ عالمی امن خصوصاً ہمسایہ ممالک اور خود بھارتی عوام کے لئے کسی خطرے سے کم نہیں۔ بھارت میں ایٹمی مواد کی چوری ایٹمی ری ایکٹر پلانٹ اور تحقیقی اداروں میں فنی خرابی اور غیر ذمہ دارانہ رویوں کے سینکڑوں واقعات رقم ہیں۔ بھارت میں موجود انتہا پسند قیادت کو مضبوط کرنے میں امریکہ کا چین کے حوالے سے مفاد دکھائی دیتا ہے مگر پر امن دنیا خصوصاً بھارت کے ہمسایہ ممالک اور بھارتی جنتا کے لئے کسی عذاب سے کم نہیں۔
قارئین کرام! پاک سرزمین حضرت علامہ اقبال کے تصور اور قائد کے فرمودات کا ثمر عظیم ہے۔ اس کی ترقی اور خوشحالی کا راز ان پر عمل میں پنہاں ہے ناکہ امریکہ چین یا کسی عالمی طاقت کے حاشیہ بردارکے کردار ادا کرنے میں ہے۔