ضربِ عضب کو دعوتِ غضب

کالم نگار  |  نازیہ مصطفٰی
ضربِ عضب کو دعوتِ غضب

ملک میں امن و امان کی صورتحال کو اگرچہ فی الحال قابل رشک قرار نہیں دیا جاسکتا، لیکن آج سے دو برس پہلے کے پاکستان پر اگر ایک نظر دوڑائیں تو امن و امان کی موجودہ صورتحال قابلِ رشک سے بھی کچھ زیادہ ہی محسوس ہوگی۔ یہاں پاکستان میں امن و امان کی صورتحال کا دوسال پرانا وہ نقشہ کھینچنا آسان نہیں ہے، جب ملک میں عبادتگاہیں محفوظ تھیں نہ سکول، کالجز اور یونیورسٹیاں دہشت گردوں کی مذموم کارروائیوں سے بچی ہوئی تھیں، لوگ بازاروں اور عوامی اجتماعات میں جانے سے خوفزدہ رہتے تھے، تفریحی مقامات اور پارک تک دہشت گردوں کی تخریبی کارروائیوں کا آسان ہدف بن چکے تھے، خودکش حملوں اور بم دھماکوں سے ملک کے گلی کوچے اور چرند پرند تک دہشت زدہ تھے۔ اِن حالات میں ملک میں امن قائم کرنے کیلئے اتمام حجت کے طور پر دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات کا ڈول ڈالا گیا لیکن دہشت گردوں نے اِس اقدام کو حکومت اور قوم کی کمزوری سے تعبیر کیا اور حکومت کی جانب سے کی جانے والی مذاکرات کی پیشکش کو رعونت سے مسترد کردیا۔ دہشت گردوں کی جانب سے امن مذاکرات کی پیشکش مسترد کیے جانے کے بعد حکومت نے مکمل سیاسی و عسکری اتفاق رائے سے دہشت گرددوں کے خاتمے کیلئے وہ آپریشن شروع کیا جسے ضرب عضب کا نام دیا گیا اور اب اِس آپریشن کو شروع ہوئے دو سال مکمل ہوچکے ہیں۔
15 جون 2014ء کو شروع کیے جانے والے آپریشن ضرب عضب کا بنیادی مقصد ملک میں جڑیں مضبوط کرتی دہشت گردی کی لعنت کا مکمل خاتمہ تھا۔ گزرے دو برسوں میں آپریشن ضرب عضب کے بعد ملک میں امن و امان کی صورتحال میں واضح بہتری آئی۔ ملک کی سول اور عسکری قیادت نے باہمی اتفاق رائے سے دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن ایکشن شروع کیا، جس کے نتیجے میں قبائلی پٹی اورکراچی کے زیادہ تر علاقوں میں امن قائم کردیا گیا، بالخصوص کراچی کے لوگوں نے تو سکھ کا سانس لیا جہاں ٹارگٹ کلنگ معمول بن چکی تھی اور اب اہل کراچی نے معمول کی زندگی گزارنا شروع کردی ہے۔
ضرب عضب کی حیرت انگیز کامیابیاں صرف اور صرف مکمل قومی اتفاق رائے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کی مکمل یکسوئی کے سبب ممکن ہو سکیں، جس کیلئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں، سکیورٹی اداروں، سیاسی جماعتوں، پارلیمنٹ اور عدلیہ کے کردار کی تحسین کی جانی چاہیے۔ وفاقی حکومت، سیاسی جماعتیں اور سول قیادت اگر اس آپریشن کو اپنا آپریشن نہ سمجھتیں تو شاید اِس آپریشن کے دوران وہ محیرالعقول کامیابیاں ممکن نہ ہوتیں، جنہوں نے پوری دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ پارلیمنٹ نے اِن کامیابیوں میں اگر آئین اور آرمی ایکٹ میں ضروری ترامیم کرکے اپنا حصہ ڈالا تو سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں اِن ترامیم کی توثیق کرکے اپنے حصے کا کام کیا اور پاک فوج کے جوانوں نے اپنے لہو کا نذرانہ پیش کرکے اس آپریشن کے دوران شجاعت کی ایسی داستان رقم کرڈالیں کہ جن پر قوم کو بجا طور پر فخر محسوس ہوتا ہے۔
اس آپریشن کے دوران پاک فوج کو حاصل ہونے والی کامیابیاں بڑی واضح ہیں اور آپریشن ضرب عضب کے ثمرات کا کسی دوسرے ایکشن سے مقابلہ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ قوم نے اس آپریشن کی مکمل حمایت کی اور سیاسی جماعتوں نے اپنے اختلافات بالائے طاق رکھ کر ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ آپریشن مختلف مراحل میں لانچ کیا گیا تھا، جس کیلئے مقامی لوگوں کو آپریشن زدہ علاقوں سے نقل مکانی کرنے کا بھی موقع دیا گیا۔ آپریشن کے دوران شوال میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں تباہ کردی گئیں اور حکومت کی رٹ قائم کرنے کیلئے فاٹا اور سوات میں بھی آپریشنز کیے گئے۔ اس کے علاوہ چاروں صوبوں میں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بھی کمبنگ آپریشن کیے گئے۔
رپورٹس کے مطابق اِس آپریشن کے دوران 7591 آئی ای ڈیز 35310 مارٹر گولے اور راکٹ جبکہ 2481 بارودی سرنگوں اور خودکش حملوں میں استعمال ہونے والی جیکٹیں برآمد کرکے تلف کی گئیں۔ فوج نے 253 ٹن بارودی مواد قبضے میں لے لیاجو دہشت گردوں کی پندرہ سال کی ’’ضرورت‘‘ کیلئے کافی تھا۔ دو سالہ آپریشن کے دوران 3500 دہشت گرد مارے گئے اور دہشت گردوں کی 992 پناہ گاہوں کا خاتمہ کیا گیا۔ ان کامیابیوں کے حصول کے دوران 490 فوجی جوانوں نے جام شہادت نوش کیا جبکہ 2108 فوجی جوان زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں ایسے جوان بھی شامل تھے، جنہوں نے اس جنگ میں اپنی ٹانگ، بازو، آنکھ یا اس سے بھی کہیں زیادہ کچھ کھو دیا۔ اس آپریشن کے دوران قبائیلی علاقہ جات میں حقیقی ’’نوگو ایریاز‘‘ کا بھی خاتمہ کیا گیا۔ یہ قبائیلی علاقوں میں امن قائم ہونے کا ہی نتیجہ ہے کہ آپریشن کے سبب علاقے سے نقل مکانی کرنے والے 61 فیصد آئی ڈی پیز اب اپنے علاقوں کو واپس جا چکے ہیں اور امید کی جارہی ہے کہ سال رواں کے آخر تک باقی 39 فیصد لوگ بھی اپنے علاقوں کو واپس چلے جائیں گے۔ صرف یہی نہیں کہ فاٹا میں اب امن قائم ہو رہا ہے اور لوگ اپنے گھروں کو واپس جا رہے ہیں بلکہ اِس دوران آپریشن زدہ علاقوں میں نئے سکول، مساجد اور بازار تعمیر کرنے کے علاوہ بنیادی ڈھانچہ بھی بنایا جا رہا ہے۔ مثال کے طور پر وزیرستان میں 700کلومیٹر طویل سڑکیں بھی تعمیر کی جا رہی ہیں اور2600 کلومیٹر طویل پاک افغان سرحد کو مانیٹر کرنے کیلئے مختلف مقامات پر چیک پوسٹیں بھی بنائی جا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ آپریشن ضرب عضب میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر ملک بھر میں 19347 آپریشن کئے گئے، جن میں 213 دہشتگردوں کو کیفر کردار تک پہنچایا گیا۔ کراچی میں آپریشن کے دوران مختلف دہشت گرد تنظیموں کے 1203 دہشت گردوں کو پکڑا گیا، جن میں مختلف تنظیموں اور سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے 636 ٹارگٹ کلرز بھی شامل ہیں۔
قارئین کرام! آپریشن ضرب عضب کی محیرالعقول کامیابیوں نے دہشت گردوں کو یقینی طور پر حواس باختہ کردیا تھا اور اب دہشت گردوں کو ملک بھر میں کہیں جائے پناہ نہیں مل رہی تھی، لیکن اپنی اس حواس باختگی کے دوران راہ فرار اختیار کرتے دہشت گردوں نے ایسے اہداف کو نشانہ بنانا شروع کردیا جو آسان اہداف بھی تھے اور اُن کا دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ سے کچھ لینا دینا بھی نہ تھا۔ مثال کے طور پر پہلے چیف جسٹس سندھ کے صاحبزادے بیرسٹر اویس شاہ کو اغوا کیا گیا اور اس سے اگلے روز دہشت گردوں نے معروف قوال امجد فرید صابری کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بناکر اہل کراچی کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کی، لیکن انتہاء درجے کی گرمی اور روزے کی حالت کے باوجود ہزاروں افراد نے امجد فرید صابری کے جنازے میںشریک ہوکر دہشت گردوں کو جوابی پیغام دے دیا کہ اب اُنہیں خوفزدہ یا دہشت زدہ نہیں کیا جا سکتا۔ اس طرح کی اِکا دُکا اور بزدلانہ کارروائیاں کر کے بھاگتے ہوئے دہشت گرد اب آپریشن ضرب عضب کو دعوت غضب دے رہے ہیں۔