پاکستان کو گھیرنے کی بھارتی اور افغانی مشترکہ کوشش

کالم نگار  |  اسلم لودھی
پاکستان کو گھیرنے کی بھارتی اور افغانی مشترکہ کوشش

ایٹمی اثاثوں کی وجہ سے بھارت خود تو پاکستان پر حملہ کرنے کی جرات نہیں کرسکتا لیکن وہ اپنی شاطرانہ خارجہ پالیسی اور مکروہ ہتھکنڈوں کی بدولت پاکستان کو چاروں اطراف سے گھیرے میں لینے کی ہر ممکن جستجو کررہا ہے جس کی ایک کوشش تو ایرانی بندرگاہ چاہ بہار کو افغانستان کے راستے وسطی ایشیائی ریاستوں تک رسائی حاصل کرنا ہے تو دوسری جانب امریکہ کے ساتھ حالیہ دفاعی معاہدہ ہے جس کے تحت بھارت اور امریکہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایک دوسرے کے دفاعی اثاثے ٗ فوج اور سرزمین استعمال کرسکیںگے ۔
پاکستان کی سا لمیت کو نقصان پہنچانے کا یہ پہلا موقعہ نہیں ہے بلکہ 9/11 کے وقت جب امریکہ کی آنکھوں میںخون اترا ہواتھا اس وقت بھی بھارت نے اپنی افواج اور دفاعی اثاثے امریکہ کے سپرد کرکے یہ کہہ تھا کہ پاکستان دہشت گردوں کا گڑھ ہے اس کو ختم کرنے کے لیے امریکہ کو اپنی فوج لانے کی ضرورت نہیں ہے یہ کام وہ بھارتی فوج سے بھی لے سکتا ہے ۔ شاید اسی تناظر میں جنرل پرویز مشرف نے امریکہ کا ساتھ دینے کی حامی بھری تھی۔
اس کے باوجود کہ امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کی فوجیں پندرہ سال سے افغانستان میں ہر قسم کا اسلحہ اور دفاعی حربہ استعمال کرکے ناکام ہوچکی ہیں جس کا برملا اظہار خود امریکی جرنیل اپنے رپورٹوں میں کرچکے ہیں ۔ اس کے برعکس پاک فوج جو گزشتہ پندرہ سالوں سے حالت جنگ میں ہے اس نے دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں پے در پے فوجی آپریشن کرکے ناممکن کو ممکن بنا کر افغان سرحد تک کا علاقہ کلیئر کروالیا ہے ۔اب جبکہ قبائلی علاقوں میں زندگی معمول پر آرہی ہے اس خدشے کے پیش نظر کہ فرار ہونے والے دہشت گرد ایک بار پھر واپس قبائلی علاقوں میں نہ آجائیں پاکستان نے اپنی 2600 کلومیٹر افغان سرحد پر دفاعی پوسٹیں اورگیٹ نصب کرنے کا جو کام شروع کیا ہے اس پر بھارت کے ایما پر افغانستان کے پیٹ میں شدید درداٹھ رہا ہے بلکہ طورخم سرحد پر کتنے ہی دن دونوں افواج کی جانب سے جھڑپیں جاری رہیں اور کشیدگی اب بھی موجود ہے ۔ یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ افغان فوج میں اتنی جرات نہیں کہ وہ پاک فوج کے ساتھ جنگ لڑ سکے لیکن بھارتی فوج اور خفیہ ایجنسی را اور دبے لفظوں میں امریکہ افغانستان کو اپنی حمایت کا یقین دلاکرپاکستان کے خلاف اکسا رہاہے ۔
اس کا مقصد سوائے اس بات کے کچھ نہیں کہ پاک فوج کو افغان سرحد پر مصروف کرکے بھارتی فوج کو یلغار کا موقعہ فراہم کیاجاسکے ۔ کیونکہ پاکستان جیسے چھوٹے ملک کے لیے 2600 کلومیٹر افغان سرحد اور 1700 کلومیٹر بھارتی سرحد کا بیک وقت دفاع بہت مشکل ہوگا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک بار پھر پاکستان کے تمام کالجز اور یونیورسٹیوںمیں این سی سی (طلبہ کی فوجی ٹریننگ ) شروع کرلی جائے تاکہ مشکل وقت میں یہ نوجوان فوج کے شانہ بشانہ دفاع وطن کے تقاضے پورے کرسکیں۔
امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کو پاک فوج کی کامیابیاں ہضم نہیں ہورہیں وہ چاہتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح پاک فوج کو افغانستان میں سرپرپیکار طالبان کے خلاف بھی جنگ میں پھنسا کر اپنی بدترین شکست کے غم کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ بھارت کو بھی ریلیف فراہم کیاجائے۔ اس نازک گھڑی میں جبکہ مشرقی اور مغربی سرحدوں پر برابر جنگ اور کشیدگی کے بادل منڈلا رہے ہیں ۔عمران ٗ پیپلز پارٹی اور ڈاکٹر طاہر القادری کو تمام تر اختلافات کو فراموش کرکے ایسا کردار ادا کرنا چاہیئے جو قومی یکجہتی اور اتحاد کا موجب بنے ۔ کیونکہ اس لمحے پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت پر بہت بڑا امتحان آن پڑا ۔
اس کے باوجود کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف اس امتحان سے بڑی حد تک عہدہ برآ ہورہے ہیں لیکن میاں نوازشریف کو پاکستان واپس آکر دو ٹو ک الفاظ میں امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کو یہ باور کروانا ہوگا کہ پاکستانی فوج کرایے کی فوج نہیں ہے وہ پاک سرزمین کا دفاع تو کامیابی سے کرسکتی ہے لیکن اسے افغانستان میں ہونے والی خانہ جنگی کی دلدل میں دھکیلا نہیں جاسکتا ۔ مزید دہشت گردوں کی نقل و حمل روکنے کے لیے پاکستان اپنی افغان سرحد پر مینجمنٹ اور تعمیرات کرنے کا حق رکھتا ہے ۔
اگر امریکہ کا موقف یہ ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں سے دہشت گرد افغانستان میں جاکر وارداتیں کرتے ہیں تو اسے افغان سرحد کو مکمل طور پر سیل کرنے کے اقدامات کی حمایت بھی کرنی چاہیئے ۔لیکن امریکہ کی ذومعنی خاموشی اور دہشت گردوں کے خلاف مزید کارروائی کرنے کی ہدایت سمجھ سے بالاتر ہے ۔ یاد رہے کہ پہلی اور دوسری جنگ عظیم بھی اس قدر طویل نہیں تھیں جس قدر طویل دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ ہوچکی ہے ۔ پاک فوج کے افسروں اور جوانوںنے ان دیکھے دشمن کے خلاف ایک ہاری ہوئی جنگ کو کامیابی میں تبدیل کرکے ایسا کارنامہ انجام دیا ہے جس کا اعتراف بین الاقوامی عسکری تاریخ میں فخر سے ہمیشہ کیا جاتارہے گا ۔
جہاں تک افغان سرحد دفاعی گیٹ اور تنصیبات کی تعمیر کا تعلق ہے بھارت خود 1700 کلو میٹر پر خار دار تاریں لگا کر کرچکا ہے ایران نے بھی پاکستان کے ساتھ ملنے والی سرحد پر گیٹ اور تنصیبات قائم کررکھی ہیں یہی گیٹ اور تنصیبات پاکستان افغانستان سے ملنے والی سرحد پر تعمیر کرنا چاہتا ہے میں سمجھتا ہوں کہ افغانستان کو پاکستان کا مشکور ہونا چاہیئے کہ مستقبل میں پاکستان کی جانب سے افغانستان میں کوئی دہشت گرد نہیں جائے گا۔
لیکن بھارتی بہکاوے پر افغان حکمران کھلی دھمکیاں دے رہے ہیںان دھمکیوں کے پس منظر میں وہی بھارتی حکمت عملی دکھائی دیتی ہے کہ پاکستان کو سینڈوچ بنا کر مشرق اور مغرب دونوں جانب سے دفاعی اعتبار سے پریشان کردیا جائے ۔مشکل کے ان لمحات میں پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت قومی یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے موثر حکمت عملی اپنانا بہت ضروری ہے۔ جہاں حکمران جماعت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے وہاں اپوزیشن جماعتوں کو اپنی ذمہ داری کا بخوبی احساس کرنا چاہیئے ۔