ہندو نفسیاتی اور سیاسی حصار کا ایک تاریخی جائزہ .... (۲)

کالم نگار  |  رانا عبدالباقی

بلاشبہ بدھ مت کو جنوبی ایشیا میں زبردست حمایت حاصل ہوئی لیکن ہندو سماج نے مہاتما گوتم بدھ کی تعلیمات کے خلاف سخت گیر رویہ برقرار رکھالیکن تیسری صدی قبل مسیح میں ہندو سماج بدھ مت کے عروج کو روکنے میں ناکام رہا جب چندرگپت موریہ کے پوتے اشوک بادشاہ نے 261 قبل مسیح میںکالنگا کی جنگ میں زبردست قتل و غارت گری کے بعد جنگ وجدل سے توبہ کی اور بودھ مذہب اختیار کر لیا ۔ اشوک نے نہ صرف بدھ مت کو اپنا یا بلکہ اُس نے خود بھی ایک بودھ راہب کی شکل اختیار کر لی اور مملکت کے دوردراز علاقوں میںبدھ مت کے پیغامات اور مجسموں کو دیواروں اور چٹانوں پر کندہ کرایا۔ یہ دور یقینا بدھ مت کے عروج کا زمانہ تھا۔
اشوک بادشاہ نے چونکہ ہندوازم کو خیر باد کہہ کر بدھ مذہب اختیار کیا تھا لہٰذا اشوک کی عوامی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے آریا ہندو سماج نے منافقانہ حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے ہندو ازم کی شدت پسندی کو ایک مرتبہ پھر سے اونچی ذات کے ہندوﺅں کے سماجی حصار میں لپیٹ لیا لیکن 413 عیسوی میں بدھ مت پر زوال کی کیفیت طاری ہونے پر اِسی ہندو سماج نے اپنے حصار سے نکل کر بدھ مت کے پیروکاروںکے خلاف پُرتشدد کروسیڈ شروع کی اور بدھ مت کو جنوبی ایشیا میں جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔ پروفیسر شریف نے المجاہد اپنی کتاب ”انڈین سیکولرازم“ میں لکھا ”تاریخی ریکارڈ سے یہ بات واضح ہے کہ ہندومت کی برتری ثابت کرنے اور بدھ مت و جین مت کو ہندوستان میں جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کےلئے ہندو کروسیڈ کے دوران آریا ہندو سماج نے ہندو آبادیوں کے سامنے بدھ مت اور جین مت کے حامیوں کو تیل کے اُبلتے ہوئے کڑاہوں میں پھینک کر اذیت ناک موت دینے سے بھی گریز نہ کیا “۔ اس حقیقت سے انکار نہیںکیا جا سکتا کہ ذات پات کے نظام نے ہندو تمدن کے حصار کے ہاتھوں میں ایک ایسا سماجی ہتھیار تھما دیا جس کے ذریعے ہندوازم نے بیرونی فاتحین کے مذاہب اور تہذیبوں کا فریب و چالاکی سے مقابلہ کرتے ہوئے اُن کے داخلی اثرات کو بھی بتدریج ہندو تمدن میں ضم کر لیا۔ لہٰذا ذات پات کی تقسیم کے اس سماجی ہتھیار کو بخوبی استعمال کرتے ہوئے ہندو دھرم نے تاریخ کے مختلف ادوار میںاپنی سماجی حیثیت کو نہ صرف قائم رکھا بلکہ دیگر تہذیبوں اور مذاہب کے خلاف جن میں مقامی طور پر ہندو شدت پسندی کے ردعمل پس منظر میں اُبھرنے والے مذاہب بدھ مت اور جین مت بھی شامل تھے کو شدت پسندی اور دہشت گردی کے ذریعے جنوبی ایشیا میں پنپنے نہ دیا ۔ لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) ا ے۔ آئی۔ اکرم اپنے تجزیاتی مضمون India Revisited میںلکھتے ہیں کہ ہندو مت کی مضبوطی اور سب کچھ اپنے اندر جذب کرنے کی صلاحیت اس حقیقت سے ظاہر ہوتی ہے کہ جو کوئی ہندوستان کو فتح کرنے کےلئے آیا اسے ہندو دھرم نے اپنے اندر جذب کر لیا اور ہندوستان آنے والے تمام فاتحین ہندو ورثہ کا حصہ بن گئے جبکہ ہندوستانی مورخ نراد چوہدری کہتے ہیں کہ ہندو مت میں شدت پسندی وقت کےساتھ ساتھ بڑھتی گئی۔ حتیٰ کہ ہندوستان آنے والی بیرونی حملہ آور قومیں بتدریج ہندو معاشرے میں جذب ہوتی گئیں اور ایک برتر برہمن حکمرانی کا معاشرہ وجود میں آتا چلا گیا۔ بہرحال جب مسلمان فاتحین نے ہندوستان کا رُخ کیا تو یہ صورتحال یکسر بدل گئی کیونکہ مسلمان ہندوستان میںآئے تو اپنے ساتھ ایک زبردست مذہبی، تہذیبی اور انسانی مساوات کا نظام لے کر آئے تھے لہذا ، برّصغیر جنوبی ایشیا میں مسلمانوں کی آمد نے ہندو سماج کی شدت پسندی میں جکڑے ہوئے حصار میں پہلا شگاف کیا جب ابتدائی طور پر بودھ مت کے پیروکاروں اور نچلی ذات کے ہندوﺅں نے کثیر تعداد میں اسلام قبول کیا ۔ اِس اَمر کی تائید ہندو دانشور نراد چوہدری اپنی کتاب Hinduism میں کرتے ہیں ”ہندو دھرم کی امتزاج کی قوت نے ہزاروں برس تک بے شمار فاتح قوموں کو اپنے اندر جذب کیا لیکن مسلمانوں کی شکل میں بالاآخر ایک ایسا خطرناک دشمن سامنے آ گیا جو کسی طرح بھی ہندو تہذیب میں جذب ہونے کےلئے تیار نہیں تھا بلکہ جس نے ہندو تہذیب کو ایک ایسے خطرے سے دو چار کر دیا جو تاریخ میںاس سے پہلے کبھی ہندو سماج کے سامنے نہیں آیا۔(جاری ہے)