پاک سعودیہ دوستی

محمد شفیق خان
پاکستان سے سعودی حکمران اور عوام یکساں طور پر محبت کرتے ہیں۔ پاکستانیوں کا دکھ ان کا دکھ اور پاکستانیوں کی خوشی ان کی اپنی خوشی ہوتی ہے۔ پاکستان کے عوام و خواص بھی سعودی عرب کے تمام باشندوں سے انتہا درجے کی محبت کرتے اور ان کو احترام کا اعلیٰ مقام دیتے ہیں۔ قیام پاکستان سے لے کر آج تک سعودی حکمران اور عوام پاکستان پر محبتیں نچھاور کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ شاہ فیصل مرحوم تو برملا پاکستان کو اپنا ملک بتاتے اور اسلام کا قلعہ قرار دیتے تھے۔ جب ”مشرقی پاکستان“ بنگلہ دیش بنا تو شاہ فیصل شہید ہی تھے جو دھاڑیں مار مار کر روئے تھے اور فرما رہے تھے آج میرا کوئی بیٹا ہلاک ہو جاتا مجھے اتنا دکھ نہ ہوتا جتنا پاکستان کے ٹوٹنے کا ہوا ہے“ اور جب پاکستان نے ایٹمی دھماکہ کیا تو سعودی عرب کے عام لوگ بھی خوشی سے اچھلنے اور نعرہ ہائے تکبیر بلند کرنے لگے تھے جیسے وہ خود ایٹمی طاقت بن گئے ہیں۔سقوط ڈھاکہ کے بعد مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) میں پھنسے ہوئے پاکستانیوں کو پاکستان میں لا کر بسانے کیلئے سعودی عرب کے ادارے رابطہ عالم اسلام نے 15 ملین ڈالر کی خطیر رقم سے ”رابطہ ٹرسٹ“ قائم کیا جس کے اس وقت چیئرمین پاکستان کے وزیراعظم (نواز شریف) تھے جبکہ اس کے ممبران میں راجہ ظفر الحق، چودھری شجاعت، میاں شہباز شریف اور مجید نظامی جیسی شخصیات تھیں۔ اس رابطہ ٹرسٹ کے تحت میاں چنوں اور دیگر علاقوں میں بستیاں قائم کر کے کتنے ہی پاکستانیوں کو لا کر بسایا گیا۔ باقی جو رہ گئے وہ ہماری اپنی کوتاہی کی وجہ سے رہ گئے ورنہ سعودی عرب کی دی ہوئی خطیر رقم آج بھی بنک اکاﺅنٹس میں موجود ہے۔
خادم الحرمین شریفین شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز جب ولی عہد تھے پاکستان تشریف لائے تو ان کے اعزاز میں شالیمار باغ لاہور میں ایک شاندار استقبالیہ دیا گیا، وہاں انہوں نے بے تکلفانہ انداز میں برملا کہا تھا ”پاکستان ہمارا دوسرا گھر ہے“۔پاکستان اور سعودی عرب کے باہمی تعلقات آسمانوں سے زیادہ بلند، سمندروں سے زیادہ گہرے اور پہاڑوں سے زیادہ مضبوط ہیں“۔ اسی طرح کے دلی جذبات کا اظہار بارہا ولی عہد سلطان بن عبدالعزیز اور سعودی وزیرداخلہ نائف بن عبدالعزیز کر چکے ہیں۔ آزاد کشمیر اور سرحد میں جو تباہ کن زلزلہ آیا، اس وقت سعودی ٹی وی نے سعودی عوام کو اعانت کےلئے پکارا تو شاہ فہد مرحوم کی بیوہ محترمہ نے اپنا سارا زیور امدادی فنڈز میں جمع کرا دیا تھا۔ سعودی حکومت نے دنیا بھر میں سب سے زیادہ رقوم اور سامان فراہم کیا تھا مگر سعودی عوام و خواص نے انفرادی طور پر بھی دل کھول کر حصہ ڈالا۔ سب سے زیادہ انفرادی رقوم سعودی شہزادے ولید نے دی تھیں کہ جن کی مقدار اربوں تک جا پہنچتی ہے۔ رابطہ عالم اسلامی اور اس کی ذیلی آرگنائزیشن ”اسلامک ریلیف آرگنائزیشن“ نے زلزلہ اور اس کے علاوہ بھی پاکستانیوں کے دکھ بانٹے ہیں۔ خادم الحرمین شریفین شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے بھی جیب خاص سے 50 لاکھ ریال پہلی جنبش کے طور پر دیئے۔ اس کے بعد یہ سلسلہ ایسا بابرکت ثابت ہوا کہ صرف ایک دن میں80 کروڑ تک کی خطیر رقم تک جا پہنچا۔ اجلے اور دل دردمندں کے مالک سعودی سفیر محترم الشیخ عبدالعزیز بن ابراہیم الغدیر نے دن رات سیلاب زدگان کی خدمت میں اس طور گزارے کہ پاکستانی ان کی دل سے قدر کرنے لگے ہیں۔ محترم سفیر نے ایک موقع پر (جبکہ پاکستانیوں کی طرف سے ان کا شکریہ ادا کیا گیا) کہا تھا پاکستانی عوام کو ہمارا شکریہ ادا کرنے کی قطعاً ضرورت نہیں۔ پاکستان ہمارا اپنا وطن ہے جس کی خدمت کرنا ہم پر واجب ہے۔
سعودی علمائے کرام و مشائخ عظام بھی ہمیشہ پاکستان کیلئے دعا گو رہتے ہیں۔ امام کعبہ فضیلة الشیخ عبدالرحمن السدیس نے جمعة الوداع کے موقع پر اور پھر27 ویں کی شب کو خصوصی طور پر پاکستان کی سلامتی اور پاکستانیوں پر رحمت و برکات کی دعائیںکیں اور گڑگڑا کر سیلاب کی مشکلات کو دور کرنے اور آسانیوں کے نزول کیلئے اللہ کے حضور دست بدعا رہے۔
اس مخلص دوست، ہمدرد اور محسن برادر ملک کے لئے تو ہمارے حکمرانوں اور حکومتی اداروں کو دیدہ و دل فرش راہ کئے رکھنا چاہئے۔ کراچی میں سعودی قونصلیٹ پر دستی بموں سے حملہ کیا گیا۔ چند روز بعد ہی سعودی سفارت کار حسن القحطانی کو قاتلانہ حملے میں شہید کر دیا گیا۔ یہ انتہائی افسوسناک واقعات ہیں جن کا مداوہ ملزموں کو کیفر کردار تک پہنچا کر ہی کیا جا سکتا۔