میثاق جمہوریت اور سیاسی گُرو

کالم نگار  |  مطلوب احمد وڑائچ

یہی وجہ ہے کہ بعد میں میں نے چند روز بعد وائی ایم سی ہال میں ہونے والے یومِ حمید نظامی پر بھٹو کو دعوت دی کہ وہ اس پلیٹ فارم کو لاہور میں اپنے مقصد کے لیے استعمال کر سکتا ہے اور بعدازاں اس تقریب سے ذوالفقار علی بھٹو نے شروعات کرکے تاریخ رقم کی اور آج بھی حمید نظامی ہال کی دیواروں پہ لگی اس تقریب کی تصاویر اس تمام تفصیلات کی زندہ گواہ ہیں۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اقتدار میں آ کر اسی میرے دوست ذوالفقار علی بھٹو نے برسوں تک نوائے وقت کے اشتہار بند کیے رکھے مگر میں نے اپنے دوست بھٹو شہید سے کبھی گلہ یا تقاضا نہ کیا۔ایک بار کسی مشترکہ دوست کے ساتھ چائے کی پیالی پر بلایا اور اشتہارات کی بندش کی بات کی تو نظامی صاحب نے انہیں اس موضوع پر بات کرنے سے روک دیا۔ بھٹو صاحب تو اب نہیں ہیں وہ مشترکہ دوست آج بھی زندہ سلامت ہے۔ اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے نظامی صاحب نے کہا کہ پھر یہ ان دنوں کی بات ہے جب سینیٹر آصف علی زرداری مشرف کے دورِ حکومت میں پابندِ سلا سل تھے اور میاں نوازشریف اپنی فیملی کے ساتھ سرور محل جدہ میں مقیم تھے۔ نظامی صاحب کو جدہ جانے کا اتفاق ہوا ،مقصد اس سفر کا اپنے دوست اور رفیق میاں محمد شریف صاحب کی خیریت کا پتہ کرناتھا، وہاں شریف فیملی کے ساتھ کھانے کی میز پر میاں نوازشریف نے بڑے روکھے لہجے میں مجید نظامی صاحب سے شکوہ کیا کہ آپ نے چند روز پہلے آصف علی زرداری کو ”مردِ حُر“ کا خطاب دے کر مردہ گھوڑے میں روح پھونک دی ہے۔ جس پر نظامی صاحب نے کہا کہ میاں صاحب آصف زرداری بڑی جوانمردی سے جیل کاٹ رہا ہے جبکہ آپ سرور پیلس میں خاندان کے ساتھ مزے سے رہ رہے ہیں، آپ بھی مشکلات اور حالات کا مردانہ وار مقابلہ کرتے تو میں یہی خطاب آپ کودے دیتا جبکہ میں نے صرف آصف زرداری کی ہمت کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ مجھے 98ءکا وہ دن بھی یاد ہے جب میں سینٹ آف پاکستان کے ایک آفس میں جہاں مجھے سینیٹر آصف علی زرداری صاحب کی خواہش پر بلوایا گیا تھا۔ جہاں سینیٹر جہانگیر بدر، موجودہ سپیکر قومی اسمبلی محترمہ فہمیدہ مرزا اور اظہار امروہوی کی موجودگی میں سینیٹر آصف علی زرداری نے کہا کہ ”مطلوب وڑائچ خدا نے تمہیں میرے لیے فرشتہ بنا کر بھیجا ہے اور اب تم نے جمہوریت کی بحالی اور میری رہائی کے لیے اپنی تمام صلاحیتیں بروئے کار لانی ہیں“ جس پر میں نے تمام احباب کی موجودگی میں وعدہ کیا اور آج میں مطمئن ہوں کہ میں نے اپنے حصے کا کام کر دکھایا اور اللہ رب العزت نے میری عزت رکھی۔
محترم صدر مملکت، مجید نظامی صاحب نے آپ کو ”مردِ حُر“ کا خطاب دیا آپ کی عزت افزائی کی۔اُن حالات میں جب آپ پر کرپشن کے الزامات کی بوچھاڑ تھی، اُن حالات میں مجید نظامی صاحب نے آپ کو ایک نئی سیاسی زندگی عطاءکی۔تو صدر مملکت صاحب آپ مجید نظامی صاحب کو نظریاتی گُرو کہتے، دو قومی نظریہ کا محافظ کہتے تو کچھ اور بات تھی۔ آپ کا دیا خطاب مجید نظامی صاحب نے واپس کر دیا ہے میں نے بھی کبھی کوئی احسان آپ پر نہیں کیا جو بھی کیا وہ میرے ضمیر کی آواز تھی، جس پر لبیک کہا۔ صدر مملکت اگر آپ واقعی یاروں کے یار ہیں، احسان کو یاد رکھتے ہیں تو پھر میری بھی آپ سے یہی التماس ہے کہ پاکستان کو، میرے پنجاب کو ، اندھیروں سے نکال دیجئے۔ کالا باغ ڈیم بننے کا اعلان کر دیجئے، پھر کبھی میں آپ سے زندگی بھر کوئی تقاضا نہ کروں گا۔ صدر مملکت اقتدار کے جھروکوں سے بس ایک دفعہ پیچھے مڑ کر دیکھیے۔ کچھ دوستوں کو آپ سے اگر شکایات ہیں تو ان کا ازالہ نہ سہی مگر سننے میں کیا حرج ہے۔ صدر مملکت کیا آپ نے اپنے حصے کی کمٹ منٹ پوری کی ہیں؟ وقت بڑی تیزی سے گزر جاتا ہے اور کبھی کبھی معذرت کا موقع بھی نہیں ملتا۔ پنجاب بھی دوسرے صوبوں کی طرح پیپلزپارٹی سے پیار کرتا ہے۔ کالاباغ ڈیم کا اعلان کرکے پنجابیوں کے دل جیتے لیجئے جو دراصل پاکستانیوں کے دل جیتنے کے مترادف ہو گا۔ (ختم شد)