مقدمہ¿ بنگلہ دیش

بریگیڈئر (ر) محمود الحسن سید
ایبٹ آباد، مہران بیس کراچی اور خروٹ آباد کے واقعات کے بعد مسلح افواج کو کافی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان واقعات کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے اور اس سلسلے میں تمام ذمہ دار افراد کے خلاف ملکی قانون کے مطابق سخت ترین کارروائی کی جانی چاہئے لیکن اپنی افواج کو بحیثیت مجموعی تذلیل اور بے جا تضحیک کا نشانہ بھی نہ بنایا جائے ۔ اس سلسلے میں ایک سیاست دان نے سابقہ مشرقی پاکستان میں افواجِ پاکستان کے بارے میں جن خیالات کا اظہار کیا وہ صرف نہ مناسب تھے بلکہ حقیقت پر مبنی نہیں تھے۔ یقینا ان کو عوامی لیگ کے غنڈوں کی طرف سے پاکستانی افواج اور ان کے اہلخانہ کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کا قطعی علم نہیں، دراصل یہ عمل اور ردعمل کا معاملہ تھا جس سے موصوف آگاہ نہیں ہیں۔ مشرقی پاکستان کی ملک سے علیحدگی کے بارے میں چند گزارشات درج ذیل ہیں اور یہ راقم کے ذاتی مشاہدے پر مبنی ہیں۔
1971ءمیں بنگلہ دیش کا قیام پاکستانی تاریخ کا نہایت اندونہاک واقعہ ہے۔ اس سانحے کی وجوبات کا تعین کرنے کےلئے ”حمودالرحمن کمشن“ تشکیل دیا گیا جسکی رپورٹ کی تفصیلات و سفارشات سے آج تک کسی حکومت نے عوام کو آگاہ نہیں کیا جس وجہ سے اصل حقائق پر سے پردہ نہ اُٹھ سکا اور اس سلسلے میں مختلف قیاس آرائیاں اور افواہیں گردش کرتی رہتی ہیں۔ اس سانحے کے بارے میں اکثر مسلح افواج کو مکمل طور پر موردِ الزام ٹھہرایا جاتا ہے لیکن یہ خیال حقیقت پر مبنی نہیں۔ اصل صورتحال یہ ہے کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا کوئی ایک فرد یا تنظیم مکمل طور پر ذمہ دار نہیں یہ معاملہ بے حد پیچیدہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جنرل یحییٰ خان اور جنرل نیازی اپنی زندگیوں کے آخری لمحوں تک غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کرتے رہے جس کو ہر حکومت نے نظر انداز کیا کیونکہ اس میں ”بہت سے پردہ نشینوں کے بھی نام آتے ہیں۔“
1947ءسے 1971ءتک کے واقعات کا جائزہ
-1 مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے سلسلے میں ہمارے ازلی دشمن بھارت نے کلیدی کردار ادا کیا جس میں اسے امریکہ کی مکمل حمایت حاصل تھی۔ 1971ءکے الیکشن کے دوران جب راقم کو چند ماہ مشرقی پاکستان میں بھارت کے ساتھ ملحقہ سرحدی علاقوں میں فرائض انجام دینے کا موقع ملا تو یہ دیکھ کر بے حد حیرت ہوئی کہ اُن علاقوں میں تقریباً 80 فیصد سکولوں میں ہندو استاد تعینات تھے اور ان کو ایک خطیر رقم بھارت سے خفیہ طور پر موصول ہوتی تھی اور وہ طالب علموں کو مغربی پاکستان کے بارے میں بدظن کرنے میں مصروف رہتے اور 1971ءمیں یہی طالب علم مکتی باہنی کی صورت میں بھارتی افواج کے شانہ بشانہ ہماری مسلح افواج کے خلاف برسر پیکار رہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ان کی تعداد تقریباً ڈیڑھ لاکھ کے قریب تھی۔ اصل میں بھارت نے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا کام 1947ءکے فوراً بعد شروع کر دیا تھا، بعد میں اس نے ہمارے یہاں سیاسی انتشار کا مکمل فائدہ اٹھا کر مشرقی پاکستان کے عوام میں نفرت پھیلائی اور پھر ان ہی کے تعاون سے اپنی فوج کو مکتی باہنی کے بھیس میں مشرقی پاکستان اُتارا۔ عوامی مدد اور تائید کی غیر موجودگی میں ہماری افواج دشمن کا مقابلہ نہ کر سکیں گے گو کہ وہ ہر محاذ پر بہت بہادری سے لڑیں۔
-2 قائد ملت لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد ملک میں ایک بڑا سیاسی خلا پیدا ہوا جو کہ پُر نہ ہو سکا۔ سپیکر قومی اسمبلی مولانا تمیز الدین کو قتل کر دیا گیا اور ملک میں آئے دن حکومتیں بدلتی رہیں۔ اسی دوران ایک حاضر سروس جنرل کو سیکرٹری دفاع تعینات کر کے فوج کو اقتدار پر قبضے کی راہ دکھائی گئی اور اس طرح 1958 ءمیں مارشل لا لگ گیا اس کے بعد جنرل یحییٰ خان اقتدار میں آئے اور انہوں نے اپنی مخصوص کمزوریوں کی وجہ سے حالات کو اس نہج پر پہنچا دیا جہاں سے واپسی ممکن نہ تھی یعنی پوائنٹ آف نو ریٹرن کی صورت حال پیدا ہو گئی اسی دوران 1971ءکے جنرل الیکشن کے نتائج کے حوالے سے حکومت بنانے کا حق مشرقی پاکستان کے لیڈرز کا تھا لیکن پی پی پی جس کو مغربی پاکستان میں اکثریت حاصل تھی اس کےلئے قطعی تیار نہیں تھی۔ اس سلسلے میں جناب ذوالفقار علی بھٹو نے ”ادھر ہم اور اُدھر تم“ کا نعرہ بلند کیا اور یہ تک کہا کہ ”جو مشرقی پاکستان جائے گا اس کی ٹانگیں توڑ دی جائیں گی “ بعد میں دوران جنگ مسٹر بھٹو نے یو این او میں پولینڈ کا پیش کردہ امن مسودہ پھاڑ دیا اور بعد میں بیماری کا بہانہ کر کے جنگ بندی کی عالمی کوششوں کو کامیاب نہ ہونے دیا۔ عام خیال یہ ہے کہ انہوں نے خود مغربی پاکستان میں اقتدار میں آنے کےلئے یہ حکمت عملی اختیار کی۔ علاوہ ازیں مغربی پاکستان سے کسی سیاست دان نے مشرقی پاکستان میں امن و امان بحال کرنے کےلئے کوئی قابل ذکر کوشش نہ کی، دراصل اس مسئلے کا حل صرف سیاسی بنیادوں پر ہی ممکن تھا۔
-3مشرقی پاکستان میں شکست کی دوسری بڑی اور اہم وجہ وہاں ہماری عسکری کمزوری تھی۔ بھارت کی 14 ڈویژن فوج جس کو ایسٹرن کمانڈ کے علاوہ بحری اور ہَوائی افواج کی مکمل مدد حاصل تھی کے مقابلے میں وہاں ہماری صرف 3 ڈویژن فوج تھی، ہماری ہَوائی افواج نہ ہونے کے برابر تھیں اور بھارتی ائر فورس بغیر کسی رکاوٹ کے آزادی سے میدان جنگ میں اپنی زمینی افواج کی مدد کرتی رہیں۔ علاوہ ازیں عوام کی تمام تر امداد بھارتی افواج کو حاصل تھیں۔ نیز بھارت نے اس دوران گنگا جہاز کا ڈرامہ رچا کر مشرقی پاکستان کا مغربی حصے سے بھارت کے ذریعے ہَوائی رابطہ منقطع کر دیا جس کی وجہ سے وہاں موجود مسلح افواج کی امداد اور کمک بہت بُری طرح متاثر ہوئی۔ ان نامناسب حالات میں ہمارے فوجی ہر جگہ بے جگری سے لڑے جہاں تک پاکستانی افواج کے ہتھیار ڈالنے کا تعلق ہے تو یہ واقعہ بہت ہی افسوسناک اور پاکستانی مسلح افواج کی روایات کے خلاف تھا لیکن اس کےلئے صرف مسلح افواج کو موردِ الزام ٹھہرانا درست نہیں اس میں سیاسی عمائدین بھی برابر کے شریک تھے اور اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ جنگ بندی کو قبول کر لینے کی صورت میں ہمیں آبادی کے تناسب کی بنیاد پر بنگلہ دیش کے حصے کے 55 فیصد اثاثے اس کے حوالے کرنے پڑتے تھے۔ اس صورتحال کا واحد حل مشرقی پاکستان کی علیحدگی ہی کی صورت میں ممکن تھا جس کے اعتراف کی جرا¿ت کسی سیاسی لیڈر میں ابھی تک پیدا نہیں ہوئی۔ جناب ذوالفقار علی بھٹو کی پولینڈ کی جنگ بندی کی کوشش کو ناکام بنانے میں یہی حکمتِ عملی کارفرما تھی۔
قارئین! ملک کی مسلح افواج پر جائز تنقید ایک مثبت اور تعمیری عمل ہے لیکن اس سلسلے میں بے جا الزام تراشی اور تضحیک سے گریز بھی بے حد ضروری ہے۔ بنگلہ دیش کے وجود میں آنے کی متعدد وجوہات تھیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس سانحے کا تجزیہ کر کے اپنی غلطیوں کا جائزہ لیں اور ان کو دہرانے سے گریز کریں۔ آج جو کچھ بلوچستان میں ہو رہا ہے وہ 1971ءکے واقعات سے زیادہ مختلف نہیں ہے لیکن کیا ہمارے موجودہ حکمرانوں کو اس کا احساس ہے؟ وہ صرف اپنی کرسی کے تحفظ اور دولت اکٹھی کرنے میں مصروف ہیں۔ وقت تیزی سے گزر رہا ہے اور اگر ہم نے اس سلسلے میں ضروری اقدامات نہ کئے تو خدانخواستہ باقی ماندہ پاکستان میں بھی مشرقی پاکستان ہی جیسی صورت حال پیدا ہو سکتی ہے جس سے ہمارا ایک حصہ ہم سے الگ ہو گیا تھا اور ہم ”سانپ گزر جانے کے بعد لکیر کو پیٹ رہے ہیں۔“