زرداری کا بروقت دورہ¿ ایران

کالم نگار  |  پروفیسر سید اسراربخاری

ایران ہمارا برادر اسلامی ملک ہے اور پیارا ہمسایہ بھی۔ اور تب سے تو اس کے ساتھ ہمارا تعلق ہی کچھ اور نوعیت کا ہو گیا جب اُس نے کہا : اقبال، اقبالِ ما است (اقبال ہمارا اقبال ہے) ۔ ایران حضرت عمرؓ کی مفتوحات میں سے ہے اور تب سے یہ ملک اسلام کی دولت سے مالا مال ہوا۔ امام خمینی نے تو یہاں تک اپنی ایک کتاب میں لکھ دیا تھا کہ اگر حضرت عمرؓ ایران فتح نہ کرتے تو ہم اسلام سے محروم رہتے۔ مردِ حُر آصف علی زرداری ایک ایسے وقت میں دورہ ایران پر ہیں جب پاکستان اسی امریکہ کے زیر اثر ہے جس کے سامنے ایران سینہ تان کر کھڑا ہوا ہے اور اُس کی کسی دھمکی کو پرِ پشہ کے برابر وقعت نہیں دیتا۔ ایران نے ہر مشکل گھڑی میں ہماری پشت مضبوط کی ہے، اس کے ثبوت پاکستان بھارت جنگوں میں دیکھنے کو ملے، اب جبکہ ایران ہمیں سستی بجلی دینے کو تیار ہے اور کچھ فاصلے تک لائن بھی اُس نے بچھا دی ہے تو وہ کونسی جانی پہچانی قوت ہے جس نے اس سہولت کو ہائی جیک کر لیا اور یہ لائن راستے ہی میں دم توڑ گئی، اب مردِ حُر اپنی کرامت دکھائیں اور اسے مکمل کروائیں تاکہ یہ لوڈشیڈنگ کا بحران سستے داموں ٹل جائے اور سب سے بڑا کارنامہ تو یہ ہو گا کہ آصف زرداری صدر پاکستان، پاکستان ایران گیس پائپ لائن جس کا بھارت سے کوئی تعلق نہ ہو اُس پر کام شروع کرا دیں اور کسی کی مداخلتِ بے جا کو راہ نہ دیں۔ اس پائپ لائن سے دونوں ملکوں کی نہ صرف دوستی آہنی بن جائے گی بلکہ دونوں کو مالی طور پر خاطر خواہ فائدہ بھی ہو گا، اگر ہمیں سستی گیس مل رہی ہے تو اس کو کالا باغ ڈیم کا تنازعہ بنانے کی کیا ضرورت ہے۔ ہم مردِ حُر کو مشورہ دیں گے کہ اگر وہ بجلی اور گیس کی ایران سے سستی فراہمی کو ممکن بنا دیں تو یہ اُن کے سیاسی حال اور مستقبل کے لئے امرت دھارے کا کام دے گا، مگر ہم باردگر یہ عرض کرتے چلیں کہ ایران سے گیس کی سپلائی میں بھارت شامل نہیں ہونا چاہئے، اس لئے کہ آصف علی زرداری نے پیپلز پارٹی کو انتہائی نازک لمحات میں اپنے پا¶ں پر کھڑا کیا، اگر اُن کے ہیرو بابائے ایٹم بم ہیں، تو وہ ایران کے دورے میں اپنے دونوں ہدف پورے کر کے آئیں یہ بات اُن کی سیاسی ساکھ کو سیسہ پلائی دیوار بنا دے گی۔ جو ملک ہمیں تباہ کرنے پر تُلا ہوا ہے ہم اُس کو کیوں اس حال میں فائدہ پہنچائیں کہ وہ مذاکرات کرتا ہے مسئلہ کشمیر حل نہیں کرتا، گویا اُس نے ہمارے ساتھ ایک ظالمانہ مذاق شروع کر رکھا ہے جس کے ذریعے وہ بڑی سنجیدگی کے ساتھ اپنے مقاصد پورے اور ہمارے ادھورے چھوڑ دیتا ہے۔ اگر اس گیس پائپ منصوبے میں بھارت کو شامل کرنے کے لئے اس کا گارڈین امریکہ دبا¶ ڈالے، تو مردِ حُر کو اُسے ہرگز قبول نہیں کرنا چاہئے، اس لئے کہ جو ملک ہمارے وطن کو ریگستان بنا رہا ہے، دھمکیاں دیتا ہے، ہماری شہ رگ قبضے میں رکھ کر ہاتھ میں امن کی آشا لئے ہوئے ہے اور مختلف حیلے حوالوں سے ہماری معیشت کو تباہ کرنے کے درپے ہے ہم اُس کی معیشت کو اگر ترقی دینے کا سامان کریں گے تو یہ دشمن کو مزید طاقتور بنانے کی کوشش ثابت ہو گی۔ اس لئے مشتری ہوشیار باش کے مصداق صدر گرامی قدر کو اپنے دورے کو پاکستان ایران مفاد، تعلق تک ہی محدود رکھنا چاہئے۔ ویسے بھی وہ دشمن جس نے ہمارے ملک کو دو ٹکڑے کیا اُس کی پائپ لائن کا ہماری سرزمین سے گزرنا ایک طرح سے اُسے یہاں ایک مقام دینے کے مترادف ہے اور بھارت کو گیس پائپ لائن دینا عرب کا اونٹ بھی بن سکتا ہے۔ ہاں اگر بھارت نے ہمیں تسلیم کیا ہوتا اور مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کر چکا ہوتا تو ہم اُس کی امن کی آشا کو نراشا نہ سمجھتے، مگر مکاری و عیاری پر مبنی مذاکرات جاری رکھ کر اُس نے ہمیں 63 برس سے انتقام کا نشانہ بنایا ہوا ہے اور ہم سے تین جنگیں لڑ چکا ہے جو اُس نے ہم پر مسلط کیں، یہ تو اب اُس کے مذموم مقاصد پر ہمارا ایٹم بم گرا ہے تو وہ رُکا ہوا ہے وگرنہ یہ اسلحے کے انبار کیوں لگاتا۔ ایران کا دورہ آصف زرداری کی ایک ایسی مفید کوشش ہے جس کی ستائش کرنی چاہئے۔ اگر اسی طرح وہ آس پاس کے اسلامی ملکوں کے ساتھ روابط بڑھاتے گئے تو اُمید کی جا سکتی ہے کہ اس طرح اسلامی بلاک نہ سہی کم از کم اسلامی یونین تو بن سکتی ہے۔ ایران کے دورے کی کامیابی کا تمام تر انحصار اس بات پر ہے کہ ایرانی گیس پاکستان سے آگے نہ جانے پائے۔ ہمارے ہاں بجلی کا بحران ڈیموں کی تعمیر سے ہی ٹل سکتا ہے اور وقتی طور پر ایران کی سستی بجلی فراہم کرنے سے یہ شبِ تاریک روشن ہو سکتی ہے۔ قوم توقع رکھتی ہے کہ مردِ حُر گیس پائپ لائن بغیر بھارتی اشتراک کے اور ایران سے بجلی کی فراہمی کے معاہدے طے کر کے آئیں گے۔ یہ کامرانی پیپلز پارٹی کے مستقبل اور صدر پاکستان کے بارے میں قوم کے اندر اُن کے لئے قدر کے جذبات پیدا کرے گی۔