رﺅف طاہر کے کالم کے جواب میں

محمد انور نیازی
رﺅف طاہر ایک سینئر اور منجھے ہوئے کالم نگار ہیں ۔ ایک مدت سے ان کے ساتھ یاداللہ ہے ۔ 22 اور 23 جون کے نوائے وقت میں ان کا کالم ”اعلان لاہور اور مسئلہ کشمیر .... پروفیسر غفور احمد کی گواہی “ کے عنوان سے دو اقساط میں شائع ہواجس میں انہوں نے سید منور حسن سے منسوب ایک بیان ”نوازشریف کا بیان حقائق کے منافی ہے اعلان لاہور میں تو کشمیر کا نام تک نہیں تھا“ کو ہدف بنایا ہے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ”1999 ءمیں واجپائی کے دورہ ¿ لاہور کے موقع پر مسئلہ کشمیر حل ہونے کے قریب پہنچ گیاتھا ۔ بھارتی وزیراعظم سے بہت سے معاملات طے پاگئے تھے لیکن جنرل پرویز مشرف اور تین دیگر جرنیلوں کی کارگل کارروائی نے اسے ناکام بنادیا۔“
میاں نوازشریف نے جو دعویٰ کیا ہے کیا واقعی مسئلہ کشمیر حل ہو جاتا اور ہندو بنیا واقعی مسئلہ کشمیر حل کرنے میں سنجیدہ تھا ۔اگر بھارت کے ساتھ مذاکرات کی ساٹھ سالہ تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو اس کا جواب نفی میں ہے ۔ محض کسی اعلامیے میں یہ بات شامل کرا لینا کہ مسئلہ کشمیر بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے گا ، کوئی کامیابی نہیںہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بھارتی جب بھی مذاکرات کی میز پر بیٹھتے ہیں اور کشمیر پر بات ہوتی ہے تو ان کی ایک ہی رٹ ہوتی ہے کہ” کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اس پر تو بات نہیں ہوسکتی البتہ آزاد کشمیر جو پاکستان کے زیر کنٹرول ہے پاکستان نے اس پر غاصبانہ قبضہ کر رکھاہے اس پر بات ہو سکتی ہے ۔“ جنرل پرویز مشرف جب بھارت کے دورے پر گئے تھے تو اس و قت بھی کہا گیا کہ مذاکرات میں مسئلہ کشمیر پر پیش رفت ہو رہی ہے لیکن جب اعلامیہ تیا رکیا جانے لگا تو بھارت نے اس میں کشمیر کاذکر تک کرنے سے انکار کردیا تھا ۔ در اصل میاں نوازشریف صاحب بھارت کے بارے میں دل میں نرم گوشہ رکھتے ہیں وہ اسے اپنا دشمن بھی نہیں سمجھتے اور ان کا یہ بیان ریکارڈ پر ہے کہ ” بھارت اور پاکستان کے درمیان ویزے کی پابندی ختم ہونی چاہیے اور آزاد انہ آناجانا ہو نا چاہیے ۔“ خدا جانے میاں صاحب کس دنیا میں رہتے ہیں کہ بھارت جو نہ صرف پاکستان کے حصے کے دریاﺅں پر ناجائز ڈیم بنا کر پاکستان کو صحرا بنانا چاہتاہے اور افغان حکومت سے مل کر افغانستان سے پاکستان کی طرف بہنے والے دریائے کابل کے پانی کو بھی روکنے کی کوشش میں ہے نیز افغانستان میں دو درجن قونصل خانے کھول کر پاکستان کے اندر تخریبی کارروائیاں کر رہا ہے اور پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرناچاہتاہے اس کے باوجود میاں نوازشریف صاحب بھارت کو دشمن سمجھنے کے بجائے اس پر صدقے واری ہو رہے ہیں۔
رﺅف طاہر بھائی تحریر فرماتے ہیں ” واجپائی کی آمد کے موقع پر جماعت اسلامی نے یوم سیاہ منایا تھا ..... پہلے دن کی شام مسجد شہدا کے باہر پرجوش مظاہرین کو دن بھر کے ہنگاموں کے بعد نئی ڈیوٹی سونپی گئی ، واجپائی کا قافلہ شاہی قلعہ جانے والا ہے اس راستے میں پھیل جاﺅ اور مزاحمت کرو ۔ عشائیے میں اسلام آباد میں موجود سفیروں کو بھی مدعو کیا گیا تھا ان میں سعودی عرب سمیت اسلامی ملکوں کے سفیر بھی تھے ۔ راستے میں ان کے ساتھ جو سلوک ہوا اس حوالے سے سعودی سفیر کے صدمے کی نوعیت الگ تھی ۔ وہ تو سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ پاکستان کی شاہراہوں پر ان کے ساتھ بھی یہ سلوک کیا جاسکتاہے ..... “پروفیسر غفور صاحب کے بقول ”شاہی قلعہ کے قریب آدھی رات تک پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں ہوتی رہیں ۔ ایک پٹرول پمپ ، پولیس چوکی اور متعدد گاڑیاں نذر آتش کر دی گئیں ...
“حکومت پنجاب کے ترجمان نے کہاکہ ”جماعت اسلامی کے کارکنوں نے سفارتکاروں سے بدکلامی کی اور ان کی گاڑیوں اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا اگر 21 فروری کو بھی جماعت اسلامی کا یہی رویہ رہا تو ”بندوبست “ کریں گے۔ اور اگلے دن واجپائی کی روانگی پر ایک ”پرجوش “ مظاہرے کے لیے کمربستہ کارکنوں کا لٹن روڈ پر جو” بندوبست “کیا گیا وہ اپنی جگہ افسوسناک تھا۔“
اس طویل اقتباس میں رﺅف طاہر بھائی نے پروفیسر غفور احمد صاحب کی کتاب سے حوالہ دے کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ سفیروں اور دیگر مہمانوں کی گاڑیوں پر جماعت اسلامی کے کارکنوں نے حملہ کیا اور ان کی گاڑیوںکو نقصان پہنچایا ۔ پروفیسر غفور احمد صاحب نے” مظاہرین “کا لفظ استعمال کیا ہے ان مظاہرین میں جماعت اسلامی کے کارکنوں کے علاوہ عام شہری بھی شامل تھے اور ایجنسیوں کے لوگ بھی سادہ کپڑوں میںتھے ۔ جماعت اسلامی کے کارکنوں نے سفیروں کی گاڑیوں پر ڈنڈے نہیں برسائے تھے یہ شر پسند عناصر اور ایجنسیوں کے لوگ تھے ۔ الزام جماعت اسلامی کے کارکنوں پر لگایا گیا ۔ جماعت اسلامی کی گزشتہ تاریخ گواہ ہے کہ اس کے کارکنوں نے مظاہروں میں کبھی تشدد کا راستہ اختیار نہیں کیا اس کے مظاہرے پرامن ہوتے ہیں اور اس دوران بازار کھلے رہتے ہیں کیونکہ دکاندار جانتے ہیں کہ جماعت اسلامی کے کارکن پرامن مظاہرے کرتے ہیں جن میں کبھی کسی کی نکسیر تک نہیں پھوٹی ۔
(جاری)
جماعت کا یوم سیاہ بھی پرامن تھا اور دوسرے روز کوئی مظاہرہ نہیں تھا صرف احتجاجی جلسہ تھا جو جماعت اسلامی کے دفتر کے باہر بند گلی میں ہو رہاتھا اس جلسے میں تقاریر ہورہی تھیں کہ پر امن بیٹھے ہوئے سامعین پر ایلیٹ فورس نے پہلے آنسو گیس کے شیل پھینکے اور پھر شرکاءپر لاٹھیوں سے ہلہ بول دیا ۔ کئی گھنٹے آنسو گیس کے شیلوں کی بارش کی جاتی رہی ۔ جماعت اسلامی کی قیادت اور صحافی دفتر جماعت کے ایک کمرے میں محبوس ہو کر رہ گئے ۔ رﺅف طاہر صاحب اس میں موجود تھے ۔ ایلیٹ فورس نے پرامن لوگوں پر بڑے وحشیانہ انداز میں لاٹھیاں برسائیں ۔ 80 سال کے بوڑھوں کو بھی معاف نہیں کیا ۔ دو تین بار لیاقت بلوچ صاحب نے باہر نکل کر ذمہ داران سے بات چیت کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے ۔ ایلیٹ فورس کو فری ہینڈ دے دیا گیا تھا کہ ان کے ساتھ جو مرضی سلوک کرو ، تم آزادہو ۔ قومی اخبارات کے سینئر صحافیوں کے وفد نے آ کر ان کے ہاتھ روکے ۔ اس بہیمانہ تشد د کی فلم بھی بنی جو میاں نوازشریف کے والد گرامی کو بھی ارسال کی گئی ۔ میاں نوازشریف جب اقتدار سے محروم کر دیے گئے تو کچھ عرصہ بعد انہوں نے قاضی حسین احمد کے نام معذرت کا خط بھی لکھا جو ان کی بیگم کلثوم نواز لے کر قاضی حسین احمد کے گھر تشریف لائیں۔ میاں نوازشریف نے لانڈھی جیل سے اس موقع پر گرفتار ہونے والے جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما حافظ محمد ادریس کو خط لکھا اور ناروا سلوک پر معذرت کی۔ یہ خط اخبارات میں چھپ چکاہے جبکہ میاں شہبازشریف نے بھی ان سے براہ راست زبانی معذرت کی ۔
رﺅف طاہر صاحب کے یہ الفاظ کہ ” اگلے دن واجپائی کی روانگی پر ایک اور ”پرجوش “ مظاہرے کے لیے کمر بستہ کارکنوں کا لٹن روڈ پر جو ” بندوبست “ کیا گیا وہ اپنی جگہ افسوسناک تھا“حقائق کے خلاف ہے ۔ وہاں صرف احتجاجی جلسہ تھا اور کسی مظاہرے کا کوئی پروگرام نہیں تھا ۔ جماعت کا پہلے دن کا مظاہرہ بھی پرامن تھا اور کارکنوں کو پرامن رہنے کی تلقین کی گئی تھی ۔ جماعت اسلامی کے کارکنوں پر سفیروں کی گاڑیوں پر پتھراﺅ اور بدسلوکی محض الزام تھا یہ کام شرپسند وں نے کیا تھا جس کا بدلہ جماعت اسلامی کے پرامن اور نہتے کارکنوں پر ”بدترین ریاستی دہشتگردی “ کے ذریعے لیا گیا جس کا کوئی بھی جواز حکومت کے پاس نہیں تھا۔