ہم اپنے قائد کے قرضدار ہیں

کالم نگار  |  رابعہ رحمن

قائدِ اعظم کی شخصیت کو قلم کی دسترس میں لانے کیلئے پہلے تو اُن کی محبت،عظمت اور کردار کے حصار میں خود کو گرفتار کرنا ازحد ضروری ہے وگرنہ اُنکے کردار و افکار کو بیان کرنا ناممکن ہے۔ قائدِ اعظم کی ذاتِ اعلیٰ و ارفع اس لیے تھی کہ اُنہوں نے خود کو پاکستان میں گم کر دیا تھا۔اُنکی آخری ایام میں صحت کی تشویشناک صورتحال کو دیکھ کر جب اُنہیں آرام کا مشورہ ملتا تو وہ فرماتے۔۔
(کیا تم لوگوں نے کبھی دیکھا یا سُنا ہے کہ کسی جنرل نے چھٹی لی ہو جبکہ اُسکی فوج میدانِ جنگ میں اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہی ہو)اُس عظیم نیک سیرت بانیِ پاکستان نے اپنی فہم و فراست کی دلیلیں صرف پاکستان کیلئے وقف کر دیں تھیںاور پھر پاکستان کیلئے ہر پل ہر لمحے کی کوششوں اور ہر فرد کے عزم و استقلال نے یوں شطرنج کی چال بدلی کہ پاکستان وجود میں آگیا اور قائدِ اعظم نے فرمایا کہ "اب جبکہ پاکستان وجود میں آگیا ہے تو اس نئی اسلامی مملکت کو اپنی آرزئوں کیمطابق دنیا کی عظیم ترین مملکت بنانے کی دشوار مہم میں سب سے پہلے ضروری ہے کہ آپ وطن دوستی کے ساتھ پُر خلوص اور تعمیری کوششیں ،اصلاح اور درستی کیلئے وقف کر دیں۔نظم و ضبط کا گہرا احساس، اعلیٰ کردارِ حقیقی اور عمل پر آمادہ کرنیوالی تعلیم کا حصول اپنا مقصدِ اولیں بنا لیں۔
قائدِ اعظم محمد علی جناح کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا مگر اسلامی مملکت ابھی تیرہ ماہ کا بچہ تھی کہ یتیم ہو گئی۔ یتیمی میں اُسے غیر یقینی کیفیات کا سامنا کرنا پڑا اور تحفظات کے چھن جانے کا خوف اُسکے وجود میں سرایت کر گیا۔۔۔پھر پاکستان کیساتھ واقعی لاوارث اور یتیموں کا سلوک کیا گیا۔۔۔کوئی ایک معاملہ اُٹھاتا تو لیاقت علی خان کی کچھار میں پھینک دیتا۔۔۔کوئی دوسرا معاملہ اُٹھاتا تو بھٹو کے سر تھونپ دیتا۔۔۔۔جب پاکستان کو ایک کٹھ پتلی بنا لیاگیا تو اُس کا ایک بازو کاٹ کر دشمن نے اُسے اپاہج کر دیا۔۔۔کشمیر کے جلتے ہوئے گھرانے راکھ ہونے لگے۔۔۔وہ ترانے،نغمے، لباس، رنگ و روپ کے خزانے، سبزوادیاں اور سنہری نہریں سب کی سب رام رام کہتے ہندوئوں نے اپنی بغلوں میں دبا لیں اور آج تک دبائے بیٹھے ہیں۔ پھر سیاچین گلیشئر کی فلک بوس، برف پوش پہاڑیاں اور گہری موت کی طرح خاموش اور تاریک وادیاں کتنے لہو کے کنوئیں اپنے اندر چھپائے بیٹھی ہیں۔ اس پر بھی تو بس کہاں سیاسی فہم و فراست کا فقدان آج بھی پاکستان کی جان کا دشمن بنا ہوا ہے۔نہ صوبوں میں اتفاق ہے نہ وفاق میں،دھرنوں اور ریلیوں کا رَن پڑا ہوا ہے۔ گھر میں زندگیاں غیر محفوظ ہیں اور راستوں میں بے امان ہیں کیا یہ قائدِ اعظم کا پاکستان ہے۔ قائدِ اعظم کو جب بَنوں کے دورے میں ایک شخص نے تلوار پیش کی تو کہا ( یہ وہ تلوار ہے جو مغلوں نے ہمارے بزرگوں کو خدمات کی بنا پہ عطا کی تھی) تو قائدِ اعظم نے بر جستہ جواب دیا کہ (یہ وہ تلوار تو نہیں ہے جو بعد میں آپکے بزرگوں نے سکھوں اور ہندوئوں کے حوالے کر دی تھی) تو کیا آج کا وقت آج کے سنگین حالات اُسی برجستہ جواب کے تناظر میں من و عن واضح نہیں ہو رہے، کیا آج واقعی ہماری باگ دوڑ ہمارے دشمن ممالک نے سنبھال رکھی ہے۔
ہمارے قائد زندگی کے آخری لمحات تک اپنے وطن کیلئے اصول و قوانین، نظم و ضبط،باہمی یگانگت پہ غور کرتے رہے جب ناسازی طبیعت کے باعث مشورہ دیا گیا کہ یکم جولائی 1948 میں کراچی میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی افتتاحی تقریب میں جانا نقاہت اور بیماری کے باعث ملتوی کر دیں تو فرمایا کہ ۔۔۔ کانگرس اور ہندو پشین گوئی کر چکا ہے کہ پاکستان ایک دیوالیہ ملک ہو گا اور یہ کہ ہمارے لوگ تجارت، صنعت،جہاز رانی ،انشورنس اور بینکنگ کو نہیں چلا سکیں گے تو ہمیںآج ثابت کرنا ہے کہ ہمارے پاس نہ صرف سیاسی شعبے میں ذہانت موجود ہے بلکہ مالیات میں بھی ہمارے پاس با صلاحیت افراد کی کمی نہیں۔ لہذا میری موجودگی ازحد ضروری ہے۔ مجھے اپنا فرض بہرحال ادا کرنا ہے۔اتنے عظیم رہنما کے عظیم ملک کے عہدیدار اور سیاسی اہلکار آج اتنے بے حس کیونکر نظر آتے ہیں ۔۔کیا وہ نہیں جانتے کہ اعلیٰ عہدہ اور پوزیشن جس قسم کی بھی قیمت و قربانی کا مطالبہ کرتی ہے اُسے ہر حال میں چکانی پڑتی ہے۔ ہمارے قائدِ اعظم محمد علی جناح نے پاکستان کے ساتھ عشق کی حد تک وابستگی او ر اسکے مسائل سے شدید انہماک کی وجہ سے ہمیشہ اپنی ذات کی نفی کی اور وہ نفی پاکستان اور کروڑوں مسلمانوں کے وجود کی سلامتی کا باعث بن گئی مگر آج کرسیوں کی کھینچا تانی ایک دوسرے پہ الزامات کی بھرمار۔۔۔آپس کی نااتفاقی ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی بہیمانہ کوششیں اس ملک کے بانی کے اور اس ملک کی بقاء پہ قربان ہو جانے والے معصوم بچوں عورتوں اور بزرگوں کیلئے نالہ شیون کا سبب بنی ہیں۔جبکہ نوزائیدہ مملکت کیلئے بانی پاکستان کی زندگی بہت اہمیت کی حامل تھی مگر اپنی بیماری سے نہ گھبراتے ہوئے قائد نے فرمایا ۔۔کہ (مجھے کوئی خوف نہیں رہا آدمی آتے جاتے رہیں گے لیکن پاکستان مضبوطی سے قائم ہو چکا ہے۔ اب ہمیں فوج کو منظم اور مسلح کرنے اور ملک کے دفاع کو مضبوط بنانے کی سر توڑ کوشش کرنی ہے۔ میرے دل کو اطمینان ہے اب برِ اعظم ہند میں مسلمان غلام نہیں اور وہ قوم جس کو برطانوی سامراج اور ہندو بنیا ازم نے قرطاسِ ہند سے حرفِ غلط کی طرح مٹانے کی سازشیں کر رکھی تھیں آج اس کا اپنا ایک ملک، ایک جھنڈا،اپنا سکہ اور اپنا آئین ہے۔ خدا کے اس انعامِ عظیم کی حفاظت ہر مسلمان پر فرض ہے اور اگر پاکستانی نیک نیتی، دیانتداری، خلوص، نظم و ضبط اور اعمال و افعال صالح سے دن رات کام کرتے رہے اور ان میں بدی،نفاق،جاہ طلبی اور ذاتی مفاد کا جذبہ نفر یں پیدا نہ ہوا تو انشاء اللہ تعالیٰ یہ ملک امن و آشتی،تہذیب و تمدن،ثقافت و شرافت کا مرکز ہو گا اور اُسکی حدود سے ترقی کی شعاعیں نکل کر ایشیائی ممالک کی راہنمائی کریں گی)۔ یہ وہ وقت تھا جبکہ ہمارے قومی رہنما کی سانس بات کرتے کرتے پھول جاتی اور وہ نقاہت سے اپنے جسم کو تکیے کا سہارا دینے کیلئے اُٹھ بھی نہ سکتے تھے۔تو اے مسلمانو اپنے رہنما کی اس قربانی کو رائیگاں نہ جانے دو۔۔۔اس ملک کو عظیم تر بنانے کیلئے اپنی ذات کی نفی کر دو۔۔۔اپنے دشمن کو پہچانو اور دوستوں کے ساتھ ایسے مضبوط ہاتھوں کی دیوار بنا دو کہ جو سیسہ پلائی ہوئی قلعہ کی دیوار ثابت ہو۔