کیا مسائل کا حل ریلی ۔۔۔ دھرنوں سے ممکن ہے؟

کالم نگار  |  مسرت قیوم

’’تحریک انصاف‘‘ نے مہنگائی کے خلاف ’’عمران خان‘‘ کی قیادت میں ریلی نکالی --- عین اُس وقت کراچی میں متحدہ بلدیاتی آرڈنینس کے خلاف سراپا احتجاج تھی جبکہ دوسری طرف ’’سرحد‘‘ میں ایک سیاسی گروہ نے جوابی طور پر مہنگائی کے خلاف مظاہرہ کرنے کا اعلان کر دیا ۔۔۔انہی لمحات میں ’’دفاع پاکستان کونسل‘‘ کے مطالبات اور مزید مظاہروں کی اطلاع بھی موصول ہو رہی تھیں۔ ’’خان صاحب‘‘ بڑے اچھے طریقے سے عوام کے سُلگتے ہوئے دُکھ کو حکومت تک پہنچانے میں کامیاب رہے۔ جس کا نیتجہ یہ نکلے گا کہ اب ’’حکومت ‘‘ لازمی طور پر ’’مہنگائی‘‘ کے خاتمہ کیلئے مؤثر کوشش کرے گی۔ عوامی حلقوں میں پھیلتی ہوئی اُس خبر کو اس وقت بیحد مایوسی کا سامنا کرنا پڑا جب ’’جاوید ہاشمی‘‘ کنٹینر پر سامنے آئے تو دل کو یک گونہ اطمینان کا احساس ہُوا۔ عوام پُریقین ہیں کہ ’’جاوید ہاشمی‘‘ بڑھاپے کی اس شادی کو اب طلاق نہیں دیں گے۔ عوامی نمائندے ہونے کے واسطے احتجاج جمہوری حق سہی مگر کیا سڑکوں پر احتجاج، دھرنا، ریلی کسی بھی مسئلہ کو حل کر سکنے کی سکت رکھتے ہیں۔ ہمارے مطابق یہ ’’ پریشر لیور‘‘ کے طور پر حکومتی و کاروباری سرگرمیوں کو مفلوج، معطل تو کر سکتے ہیں اور ویسے بھی ایسا ’’Tool‘‘ کبھی کبھار ہی مؤثر ہوتا ہے مگر اس کو روٹین کا عمل بنا دینے سے گاڑی آگے نہیں بڑھتی، گاڑی کو ریورس گئیر لگتا ہے۔ کیا عوامی نمائندوں کا عوامی مسائل کے حل کیلئے صحیح فورم ’’پارلیمان‘‘ نہیں؟ سنگین مسائل کی موجودگی میں اس طرح کہ الیکشن کے نتیجہ میں ایک منتخب حکومت کام کر رہی ہے۔ اتنی ہنگامہ خیزی کیوں؟ چھوٹی سی بات کو بتنگڑ بنا کر سڑکیں بلاک کرنے سے ملک خوشحالی کی طرف نہیں بلکہ پہلے سے بھی زیادہ بدحالی کی وادی میں لُڑھکے گا۔ پوچھنا یہ ہے کہ اگر سیاستدانوں نے عوامی مسائل، قومی امور’’پارلیمان‘‘ میں بیٹھ کر قانون سازی کے ذریعہ حل نہیں کرنے تو پھر ان ’’اسمبلیوں‘‘ کا جواز ختم ہو جاتا ہے تو وہاں ان پر اُٹھنے والے ’’اربوں روپے‘‘ بھی اپنا مصرف جائز ثابت کرنے پر دھبہ لگا رہے ہیں۔
’’بقول شخصے‘‘ اِس ریلی کا توڑ کرنے کیلئے ’’ریس کورس میں یوتھ میلہ شروع کروا دیا گیا۔ یہ حلقے سراپا سوال ہیں کہ ناچ گانے اور کھیل کے ذریعے عوامی مسائل سے تو جہ ہٹانے کا اہتمام جمہوریت کے کس جزو کی تکمیل کرتا ہے؟ جبکہ ہمارا کہنا تھا کہ ’’یوتھ میلہ‘‘ تو باقاعدہ طے شدہ وقت کے اندر منعقد ہو رہا ہے۔ مجموعی صورت یہ ہے کہ حکومت، اپوزیشن، تاجر، میڈیا کوئی بھی تو پیچھے ہٹنے یا مہلت دینے کو تیار نہیں۔ سنبھل کر چلنے پر راضی نہیں۔ زمینی حقائق کے برعکس اقدامات، قومی مفاد کے منافی فیصلے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کا حربہ ہے۔ بادی النظر میں پُرانا ’’مُک مکا‘‘ہی چل رہا ہے۔ کیا حل یہ ہے کہ ’’کنسرٹ‘‘ کروا دیا جائے۔ مہنگائی، انرجی بحران ڈرون حملے، دہشت گردی کا مقابلہ، شور شرابے، قوالی دھرنوں سے؟ دوسروں کو ’’تماشا‘‘ کا الزام لگانے والے ’’قومی اسمبلی‘‘ کے ساتھ پورے ملک میں تماشا لگا رہے ہیں۔ کروڑوں روپے ان فضولیات پر صرف کر دینے والے بجلی ، گیس کے بلز میں ’’ایک روپے‘‘ کا ریلیف بھی عوام کو فراہم کرنے پر 65 سالوں سے کسی بھی مرحلہ پر آمادہ نہیں ہوتے۔ ہماری قومی سیاست میں کوئی نیا پن نہیں مہنگائی بھی نیا نعرہ نہیں۔ پچھلے دور میں اسی نعرے کو ’’موجودہ قیادت‘‘ نے سابقہ حکومت کے خلاف استعمال کیا تھا۔ لہٰذا حکومتی اہلکار شور مچانے یا بے سروپا بیانات کی بازی جتینے کی بجائے اس کے حل کی تدبیر کیلئے تمام ’’سیاسی زعماء کرام‘‘ کی ایک کانفرنس بلائیں۔ سیاسی جماعتں ’’منتخب ایوانوں‘‘ کے تقدس کو بہرحال ملحوظ رکھتے ہوئے اِس کی عزت و توقیر بڑھانے میں اپنا حصہ ڈالیں بلکہ مہنگائی کے تدارک کے لئے ’’قیادت‘‘ کو چاہئے کہ ’’تیل اور گیس‘‘ کی قیمتوں کو ایک سال کیلئے کم کر کے منجمد کر دے ’’سیاسی جماعتیں‘‘ عوام کو بوقت چُنائو صرف ’’ووٹ دینے والی مشین‘‘ تصور نہ کریں بلکہ اس ’’مشین‘‘ کی حفاظت کریں۔ ’’پی آئی ٹی‘‘ کی ریلی کے دوران ’’پی ٹی وی نیوز‘‘ پر پنجاب اور خیبر پی کے صوبہ میں اشیائے صرف کی قیمتوں کا موازنہ کیا جا رہا تھا۔ شام تک قیمتوں کے تقابل کی پٹی چلتی رہی۔ یہ کام کس وفاق گریز قوت کا وطیرہ تو ہو سکتا ہے مگر ایک وفاق پرست منتخب حکومت کا رویہ نہیں۔ ایسا موازنہ پہلی مرتبہ دیکھا گیا۔ ہم نہیں سمجھتے کہ قیادت صوبائی منافرت اور تعصبات کو اُبھارنے میں اپنا حصہ ڈالے گی۔ پورے ملک کو یکساں طور پر مہنگائی کا سامنا ہے۔ یہ ملک کے کسی ایک حصے یا شہر کا معاملہ نہیں۔ عوام کی روزمرہ زندگی کو تہ و بالا کر کے رکھ دینے والی گرانی کے آگے صرف حکومت ہی بند باندھ سکتی ہے۔