پاک ترک اقتصادی تعلقات

صحافی  |  جی۔ این بھٹ

ترک وزیراعظم رجب طیب اردگان کا دورہ لاہور پاکستان اور ترک کے درمیان لازوال رشتوں کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔ حکومتی ذرائع اور اطلاعات کے مطابق انہوں نے خود دورۂ لاہور کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ لاہور میں ان کا جس گرم جوشی سے والہانہ سرکاری و عوامی سطح پر استقبال ہُوا۔ وہ پاکستان اور ترکی کے عوام میں محبت کا واضح ثبوت ہے۔ پاکستان کے ترکی کے ساتھ عرصہ دراز سے بہتر برادرانہ تعلقات قائم ہیں اور ترکی نے ہمیشہ پاکستان کی ترقی و خوشحالی کیلئے بھرپور تعاون کا مظاہرہ کیا ہے۔ صدر ایوب کے دور میں پاکستان، ایران اور ترکی کے درمیان ’’علاقائی تعاون برائے ترقی‘‘ کا ایک معاہدہ ہُوا تھا جو آر سی ڈی کہلاتا ہے۔ اس معاہدے کی رو سے ان تینوں ممالک کو باہمی تعلقات، تجارت اور سیاسی امور میں ایک دوسرے کے قریب لانے کی بھرپور کوشش کی گئی تھی اور پاکستان، ایران اور ترکی کے درمیان آر سی ڈی شاہراہ اسی جذبے کے تحت بنائی گئی جس نے ان ممالک کے درمیان تجارتی رابطوں کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا۔ اس شاہراہ کی باقیات آج بھی کراچی تا کوئٹہ اپنے سنہری ماضی کی یاد دلاتے ہیں۔ اس کے بعد تعلیمی، تجارتی اور صنعتی سطح پر دونوں ممالک میں رابطہ برقرار رہا۔ نواز شریف کے سابقہ اور موجودہ دورِ حکومت میں ان رابطوں میں بہت نمایاں اضافہ ہُوا ہے۔ ترکی کے تعاون سے ذرائع آمد و رفت اور مواصلات کے شعبوں میں تعاون کی نئی راہیں کھلیں، سفری سہولتوں کے حوالے سے پنجاب میں لاہور میٹرو بس سروس اور صفائی کے میدان میں ویسٹ مینجمنٹ کے منصوبے کامیابی سے چل رہے ہیں جبکہ تعلیمی شعبہ میں بھی کام جاری ہے، یہاں تک تو سب درست ہے۔
مگر اس دورہ کے موقع پر جس طرح وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب نے سب کام کاج چھوڑ کر مغلیہ انداز میں مہمانوں کا استقبال کیا، کروڑوں روپے بے معنی آتش بازی اور بادشاہی مسجد و شاہی قلعہ کے درمیان حضوری باغ کی بارہ دری میں مغلیہ جاہ و جلال کے ساتھ ترک مسلمانوں کی خاطر تواضع کی یہ رقم ظاہر ہے کسی کے جیب سے تو نہیں گئی ہو گی یہ سرکاری خزانے سے لی گئی ہو گی، یہ اسراف اور نمود و نمائش بے جا ہی تھی۔ بے شک ترکی سلطنتِ عثمانیہ کے دورِ زریں کا امین ہے جب پوری دنیا میں سلطنتِ عثمانیہ کا ڈنکا بجتا تھا اور سینکڑوں برس یہ خلاف مسلمانوں کے دلوں کو گرماتی رہی مگر یاد رہے رجب طیب اردگان اس شاہی جاہ و جلال کے نمائندہ نہیں ہیں، ان کا تعلق ایک عام محنت کش گھرانے سے ہے اور انہوں نے نہایت محنت اور مسلسل جدوجہد کے بعد یہ عہدہ حاصل کیا۔ اس شاہی خلت کو اتاترک مصطفی کمال پاشا نے اتار کر ترکی کے مردِ بیمار کو جو مسلسل صدمات اور شکستوں سے دنیا بھر میں رسوا ہو رہا تھا ایک نئے اور جدید تریک حکومت کی بنیاد رکھی۔ یہ وہی دور تھا جب برصغیر میں مسلمان قائداعظم محمد علی جناح کی زیر قیادت ایک نئے مستقبل کی طرف گامزن تھے، گویا یہ ایک تاریخی دور تھا جب ترکی میں اتاترک اور برصغیر میں قائداعظم مسلمانوں کو ذلت و خواری سے نکال کر آزادی اور خود مختاری کی طرف ایک نئی جدید ریاست کے قیام کی طرف لے جا رہے تھے۔ اس تناظر میں کیا ہی بہتر ہوتا کہ ترک وزیراعظم کو 24 دسمبر کی رات واپس جانے کی بجائے روک لیا جاتا اور ایک رات آرام کے بعد 25 دسمبر کو یوم قائد کے کراچی میں مزار قائد پر لے جایا جاتا۔ ترکی کے وزیراعظم کو پاکستان کے قیام اور قائداعظمؒ کی حیات سے آگاہ کیا جاتا اور مزارِ قائد پر سلامی کے بعد وہ آرام سے ترکی واپس روانہ ہو جاتے۔ مگر لگتا ہے نمائشی و رسمی استقبالیہ تیاریوں میں مصروف ہماری انتظامیہ اور اراکین حکومت کو یہ اہم یاد نہ رہی ہو گی یا پھر ترک وزیراعظم کو بھی واپس جانے کی جلدی تھی کیونکہ آجکل ان کی حکومت الزامات کی زد میں ہے، تین وزراء کرپشن پر برطرف ہو چکے ہیں، دس کے عہدے یعنی وزارتیں تبدیل ہو چکی ہیں، پورے ترکی میں عوام حکومتی کرپشن سے نالاں ہیں اور سڑکوں پر احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں جن میں عوام کی بڑی تعداد حکومت کی برطرفی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ہم جذباتی لوگ کتنا ہی ترکی کی ترقی کا پروپیگنڈا کریں مگر یہ حقیقت ہے کہ ترکی کی معیشت اس وقت ابتری کا شکار ہے، مہنگائی، غربت، بے روزگاری، کرنسی کی گراوٹ کی شرح بڑھ رہی ہے، کرپشن اقربا پروری اور معاشرتی بے راہ روی عام ہے اور یورپی یونین میں شمولیت کیلئے جس فلاحی معاشرے اور ملک کی شرائط لازمی ہیں ان پر عمل نہیں ہو سکا۔ ملک پر 210 ارب ڈالر کا قرضہ ہے۔ 30 فیصد نوجوان بیروزگار ہیں اور مالی منصوبوں میں کرپشن عام ہے۔
ان حالات میں ہمارے حکمرانوں کو سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا ہوں گے کیونکہ ترکی اور پاکستان کے معاہدوں میں کمیشن کی افواہیں عام ہیں اور طرح طرح کے کرپشن اور کمیشن کی کہانیاں سڑکوں اور گلیوں میں عوام کی نوک زباں پر ہیں۔ اس لئے محتاط رہ کر کام کرنے میں ہی بھلا ہے۔ حکومت اگر چاہے آر سی ڈی کو فعال کرنے کیلئے ایران اور ترکی کو آمادہ کرے اور اس میں افغانستان، تاجکستان، ترکمانستان، ازبکستان، کرغیزستان کو بھی شامل کر کے ایک مضبوط وسطی ایشیائی اتحاد یا بلاک کی بنیاد رکھے جو علاقائی برائے تعاون و ترقی میں ان مسلم ممالک کے درمیان ایک مضبوط کڑی کا کام دے گا اور تمام ممالک بآسانی سڑک اور ریل کے راستے مل سکتے ہیں، کئی جگہ ملے بھی ہوئے ہیں یوں باہمی طور پر ترقی و خوشحالی اور عوامی رابطوں کا نیا جہان آباد ہو گا اور پاکستان کو ان ممالک اور دیگر ممالک کو پاکستان سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا۔