میگی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے گی

کالم نگار  |  نازیہ مصطفٰی

78 سالہ ’’میگی گاماگے‘‘ کولمبو ڈسٹرکٹ کے ایک گاؤں روون پورہ میں رہتی ہے۔سادہ سی ساڑھی میں ملبوس سیاہ رنگت کی میگی گاماگے طبعاًبھی بہت سادہ ہے، چودہ سال پاکستان میں رہنے کی وجہ سے اردو بول اور سمجھ لیتی ہے۔میگی کو اسی کی دہائی کے آخری دو برسوں میں اسلام آباد کے وزیراعظم ہاؤس میں خادمہ کی حیثیت سے کام کرنے کا موقع ملا، ان گزرے برسوں کی یادوں کا بہت بڑا خزانہ میگی کی ملکیت ہے۔ چھ برس پہلے آج ہی کے روزرات کے وقت ٹی وی پر سنہالی زبان میںخبریں شروع ہوئیں تو پہلی ہیڈ لائن سن کر ہی میگی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی، ہیڈلائن میگی کی سابق مالکہ کے قتل کی خبر تھی، جسے سرِعام قتل کردیا گیا تھا۔ دادی کو روتے دیکھ کر گھر میں کھیلتے ننھے بچے پریشان ہوگئے تو میگی نے اپنی یادوں کے خزانوں کا منہ کھول دیا۔’’ہماری سابق مالکہ ایک بہت بڑی عورت ہونے کے باوجود انتہائی پیار کرنیوالی اور سادہ مزاج خاتون تھی۔ مالکہ کو کھانے میں دالیں پسند تھیں جبکہ لباس سادہ پہنتی تھیں۔ کام کے معاملے میں نظم وضبط کی پابند تھیں، لیکن ملازموں سے اُسکا رویہ حاکمانہ نہیں تھا،شور اور چیخ پکار نہیں کرتی تھیں‘مالکہ کو ملازمین کے تہواروں کا پتہ چلتا تو خوش ہوتیں،’ عیدی ‘ بھی دیتیں اور چھٹی بھی دیتی تھیں، مالکہ بلیاں پالنے کی بہت شوقین تھیں، اُنکے ایک کمرے میں پچیس کے لگ بھگ بلیاں تھیں جن کا وہ بہت خیال رکھتی تھیں اور ان سے کھیلتی تھیں‘‘۔صحافی کو اپنی مالکہ کے بارے میں بتاتے ہوئے میگی کی آنکھوں میں برسات اُتر آئی تھی۔بلیوں سے پیار کرنیوالی میگی کی یہ مالکہ کوئی اور نہیں پاکستان اور عالم اسلام کی پہلی خاتون وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو تھیں، جنہیں ٹھیک چھ سال پہلے آج ہی دن راولپنڈی میں انتخابی جلسے سے واپسی کے بعد قتل کردیا گیا۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ محترمہ بینظیر بھٹو غریب کا درد رکھنے وا لی ایک بہادر سیاستدان تھیں۔ راولپنڈی کے واقعہ سے صرف اڑھائی ماہ پہلے وہ طویل جلاوطنی ختم کرکے کراچی پہنچیں تو انکے استقبالی جلوس میں خودکش دھماکے ہوگئے۔بینظیر کو دھمکیاں تو پہلے بھی مل رہی تھیں، لیکن اس واضح حملے کے بعد بھی بینظیر بھٹو خوفزدہ نہ ہوئیں۔اکتوبر2007ء کے تیسرے ہفتے کی ایک رات ملاقاتیں ختم ہوچکیں تو محترمہ نے مخدوم امین فہیم سمیت دوسرے سیاستدانوں کو بھی رخصت ہونے کو کہا اور خود بھی اُٹھ کھڑی ہوئیں، جب سب رخصت ہوچکے تو محترمہ نے ناہید خان کو بتایا کہ انکا ابھی اور فورا پروگرام سیہون شریف جانے کا ہے اور کسی کو اسکی اطلاع نہیں کرنی۔ ناہید خان نے کہا کہ اتنی رات گئے بغیر سیکیورٹی کے دو خواتین کیسے سفر کریں گی؟ بی بی نے کہا ’’کچھ نہیں ہوتا، تیار ہوجاؤ، میں نے ذوالفقار مرزا کو فون کرکے فورا بلاول ہاؤس بلوالیا ہے، ہم انکے ساتھ چلیں گے‘‘۔ناہید خان کہتی ہیں کہ ’’ہم ساری رات سفر کرکے علی الصبح سیہون شریف پہنچے، وہاں بی بی نے دعا کی اور ہم واپس آگئے، بی بی نے تنِ تنہا سیہون شریف جانے کا فیصلہ کراچی میں بہت بڑے خودکش حملوں کے چند روز بعد کیا، وہ ایک نڈر خاتون تھیں، میں نے ایک لمحہ کو بھی ان کے چہرے پر خوف کا تاثر نہیں دیکھا، محترمہ کا عقیدہ تھا کہ موت زندگی کی حفاظت کرتی ہے‘‘۔ یہ بہادر اور نڈر رہنماء خودکش حملے کے نتیجے میں خالق حقیقی سے جا ملی تو برسوں سے انصاف، امن،روٹی، کپڑے اور مکان کیلئے ترستی مخلوق کی امیدیں دم توڑ گئیں۔
محترمہ بینظیر بھٹو کے قتل پر عالمی میڈیا نے بھی اُنہیں شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔ دنیا بھر کے اخبارات میں محترمہ بینظیر بھٹو کی شخصیت پر ہزاروں کالم،مضامین، تجزیے اور اداریے لکھے گئے۔ دی آسٹریلین نے اپنے اداریے میں لکھا کہ ’’ مغرب کیلئے بینظیر بھٹو جمہوریت کے استحکام کی ایک کرن تھیں،وہ افغانستان سے دہشت گردی کے خاتمہ کی عالمی کوششوں میں اچھی معاون ثابت ہوسکتی تھیں‘‘۔ دی واشنگٹن پوسٹ نے لکھا کہ ’’بینظیر بھٹو کے قتل نے امریکی صدارتی انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کو سخت امتحان میں ڈال دیا‘‘۔ گارڈئین نے لکھا ’’بینظیر بھٹو کا قتل اتنا ہی ہولناک تھا جتنا کہ تصور کیا جاسکتا ہے، تمام خامیوں کے باوجود وہ ایک بہادر اور طلسماتی خاتون تھیں، ان کی موت نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کیلئے ایک بہت بڑا سانحہ ہے‘‘۔دی نیویارک ٹائمز نے لکھا کہ ’’بینظیر بھٹو خامیوں سے بھرپور اور بے شک ایک بہادر رہنما تھیں‘‘۔ دی کینبرا ٹائمز نے لکھا کہ ’’بینظیر بھٹو کروڑوں پاکستانیوں کیلئے امید کی ایک کرن تھیں‘‘۔سان فرانسسکو کرونیکلز نے لکھا کہ ’’دو بار پاکستان کی وزیراعظم رہنے والی، جمہوریت کی روحِ رواں اور پاکستانی عوام کیلئے ’مقدر کی بیٹی‘ کا اعلان کرنے والی ایک مثالی رہنماء بینظیر بھٹو اب دنیا میں نہیں رہی اور اس کے ساتھ ہی پاکستان میں جمہوریت کے استحکام کی امیدیں بھی دم توڑ گئیں‘‘۔
قارئین محترم! اس بات پر سبھی متفق ہیں کہ محترمہ ایک نڈر، بہادر اور بے باک سیاست دان تھیں، جو پہلے ضیاء الحق کے مارشل لا میں ذرا بھی نہیں گھبرائیں اور پھر پرویز مشرف کی فوجی حکومت کا بھی ڈٹ کر مقابلہ کیا۔تمام تر دھمکیوں کے باوجود محترمہ نے اپنی منزل کھوٹی نہیں ہونے دی، محترمہ نے اپنی جان قربان کرنا گوارہ کرلیا، لیکن بزدلی کو اپنے قریب بھی نہیں پھٹکنے دیااور تمام تر خطرات کے باوجود ہمیشہ عوام میں رہنے کی کوشش کرتی رہیں، لیکن کتنے افسوس کی بات ہے کہ عوام کے دلوں میں ایک جاوداں مقام بنانے والی بہادر خاتون سیاستدان کے ورثا ء پانچ سال تک ’’بِلوں‘‘ سے باہر نہیں نکلے اور بلوں سے باہر نہ نکلنے کا جو انجام ہوا، وہ آج سب کے سامنے ہے کہ پیپلز پارٹی ایک تیسرے درجے کی سیاسی جماعت بن کر رہ گئی ہے؟ یہ کتنا بڑا المیہ ہے کہ پنجاب، خیبر پختونخواہ اور بلوچستان جیسے تین اہم صوبوں میں چار لاشوں کی وارث پاکستان پیپلز پارٹی اب خود ایک زندہ لاش کی صورت میں پھر رہی ہے۔یہ سانحہ نہیں تو اور کیا ہے کہ وفاق کی جماعت کہلانے کی دعویدار پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو نے ’’ایس‘‘ والی شرٹ پہن کر دراصل خود کو سندھ تک محدودکرلیا ہے۔پیپلز پارٹی کے اس انجام کی خبر روون پورہ سری لنکا پہنچے گی تو یہ بینظیر بھٹوکے قتل کے بعد میگی کیلئے یقینا دوسرا بڑا سانحہ ہوگا، جس نے وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں دو سال تک بلاول بھٹو کو اپنی گود میں کھلایا تھا، وہ میگی جس نے محترمہ کے ساتھ رہتے ہوئے پورے پاکستان کا دورہ کیا اورخیبر سے کراچی تک عوام کی آنکھوں میں پیپلز پارٹی کیلئے محبت کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا ایک سمندر دیکھا تھا،پیپلز پارٹی کے صرف لاڑکانہ تک سکڑجانے کی خبر ملے گی تو میگی ایک بار پھر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے گی۔