جمہوریت، قربانی اور مفاہمت کا نام --- بے نظیر بھٹو

کالم نگار  |  منیر احمد خان

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بے نظیر بھٹو کی آمد شاندار اور باوقار تھی اور پھر 27 دسمبر 2007ء باعزت رخصتی بھی بہت کم افراد کو نصیب ہوتی ہے۔ کچھ لوگ بہت شان اور دھوم دھڑکے سے سٹیج پر وارد ہوتے ہیں لیکن اپنی ساکھ برقرار رکھ پاتے اور رسوا ہو کر ہی انہیں رخصت ہونا پڑتا ہے۔ بے نظیر بھٹو کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ شان و شوکت کے ساتھ سیاسی میدان میں داخل ہوئیں اور اسی طمطراق، شان و وقار، طمانیت اور فخر کے ساتھ سربلند کئے چلی گئیں۔ بے نظیر بھٹو کا دنیا کے اس سٹیج پر سامنے آنا اور پھر یکدم چلے جانا شہزادے، شہزادیوں اور پریوں کی داستان لگتا ہے۔ آج ہم ان کی برسی منا رہے ہیں۔
بے نظیر بھٹو ایک سچی، جری، صابر اور ذہین لیڈر تھیں۔ شہادت سے چند روز قبل سی این این کے نمائندے نے ان سے پوچھا کہ آپ کی زندگی کو ہر لمحہ خطرہ ہے کہ موت ہر قوت آپ کے سر پر منڈلاتی رہتی ہے۔ آپ موت کے بارے میں نہیں سوچتیں۔ بے نظیر بھٹو نے فوراً جواب دیا کہ ’’اگر میں کہوں کہ نہیں، میں موت کے بارے میں نہیں سوچتی تو میں جھوٹ بولوں گی لیکن موت کب آئے گی اور کہاں اور کیسے آئے گی خدا ہی جانتا ہے۔ لیکن میں موت سے نہیں ڈرتی اس لئے کہ زندگی اور موت خدا کے ہاتھ میں ہے جب آئے گی تو اسے کوئی ٹال نہیں سکتا۔‘‘
بے نظیر بھٹو اس ملک میں جمہوریت کی علامت تھی۔ ان کی زندگی ملک کے عوام خصوصاً غریب کی فلاح و بہبود کیلئے گزری۔ جمہوریت کو بحال کرانے کیلئے انہوں نے جیل اور جلاوطنی برداشت کی۔ 1988ء میں اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم کا اعزاز نصیب ہوا تو انہوں نے انتقام کی سیاست کو دفن کر کے مفاہمت کی سیاست کا آغاز کیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی مخالفت کرنے والوں اور جنرل ضیاالحق کا ساتھ دینے والوں کو معاف کر دیا اور اپنے ساتھ کام کرنے کا موقع فراہم کیا۔ اس طرح ان کی مفاہمت پالیسی اپنے عروج کو پہنچ گئی۔ جب انہوں نے اپنے سب سے بڑے مخالف میاں نواز شریف کے ساتھ اتحاد کر لیا۔ اس اتحاد کیلئے نوابزادہ نصراللہ خان مرحوم کا رول بڑا اہم تھا۔ انہوں نے ماضی کے بدترین مخالفوں کو اے آر ڈی کے پلیٹ فارم پر اکٹھا کر دیا۔ بے نظیر بھٹو نے اے آر ڈی میں شامل ہو کر دراصل اپنی جمہوریت سے واضح کمٹمنٹ کا اظہار کیا تھا۔ میاں نواز شریف کے ساتھ اتحاد ذاتی مفاد کیلئے نہیں بلکہ جنرل مشرف کے مارشل لاء کے خلاف تھا اور جمہوریت کو بحال کرانا تھا۔ دسمبر 2000ء کو بننے والے اتحاد نے میاں نواز شریف کی قید سے رہائی کی راہ نکالی جن کو کو فوجی آمر نے جہاز میں بھی ہتھکڑی لگوائی تھی۔ بے نظیر بھٹو دوبئی سے اے آر ڈی کی رہنمائی کرتی تھیں اور میرے ساتھ اے آر ڈی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات کی حیثیت میں رابطے میں رہتی تھیں۔ بحالی جمہوریت کیلئے پی پی پی رہنمائوں کو ڈیریکشن دیتی تھیں۔ نوابزادہ نصراللہ خان مرحوم نے بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف سے دوبئی اور جدہ جا کر ملاقات کی۔ معروف صحافی سہیل وڑائچ اور راقم بھی ان کے ہمراہ تھے۔ بے نظیر بھٹو انتہائی محبت اور عقیدت کے ساتھ نوابزادہ کیلئے لندن اور دوبئی میں ظہرانے اور عشائیے کا اہتمام کرتیں اور بھرپور خراج تحسین پیش کیا۔ اسی طرح بے نظیر بھٹو نے جدہ جا کر میاں نواز شریف سے بھی ملاقات کی۔ ان ہی ملاقاتوں کی وجہ سے میثاق جمہوریت تیار ہوا جس پر لندن میں اے آر ڈی رہنمائوں نے دستخط کئے۔
بے نظیر بھٹو اپنے دشمنوں کو معاف کر دیتی تھی۔ وہ سمجھتی تھیں کہ ملک کی مضبوطی کیلئے، جمہوریت کے دوام کیلئے، عوام کی فلاح و بہبود کیلئے اور معاشی استحکام کیلئے مفاہمت پالیسی بہت ضروری ہے۔ 2008ء میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت بے نظیر بھٹو کے خون کی بدولت اور ’’مفاہمت پالیسی‘‘ کی وجہ سے بنی، یہ علیحدہ بات ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن بے نظیر بھٹو کے خون پر بننے والی حکومت نے ملک و قوم اور پی پی پی کا بیڑہ غرق کر دیا۔ جھوٹ اور کرپشن کو اقتدار کی منزل بنا دیا گیا۔ پی پی پی کے کارکنوں اور ان کا حق دینے کی بجائے بیگانوں اور مفاد پرستوں کو بڑے بڑے عہدوں پر نوازا گیا۔ بڑے بڑے عہدوں پر براجمان حکمران عوام تو ایک طرف پی پی پی کے کارکنوں سے بھی دور ہو گئے۔ پیپلز پارٹی کو عوامی پارٹی کی بجائے دوستوں اور رشتہ داروں کی پارٹی بنا دیا گیا۔ ملک کے ایک وزیراعظم نے ملتان اور دوسرے نے گوجر خان جبکہ وفاقی وزیروں نے اپنے آپ کو صرف اپنے حلقوں کی حد تک محدود کر لیا۔ اس طرح وزیراعظم اور وفاقی وزیر ملک کی بجائے حلقوں کے مفادات کی نگرانی کرنے پر لگ گئے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بے نظیر بھٹو کی پارٹی سکڑتی گئی۔ جس مفاہمت پالیسی کی بنیاد بے نظیر بھٹو نے رکھی تھی اس کو جھوٹ اور مفاد کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔
بے نظیر بھٹو کو خراج عقیدت صرف اس طرح نہیں پیش کیا جا سکتا کہ ہم ان کے نام کی شمع روشن کریں، ان کے نام کی تختیاں لگائیں، اداروں کو بے نظیر بھٹو کے نام پر رکھ دیں بلکہ صحیح معنوں میں خراج تحسین پیش کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ہم ملک یک بات کریں، جھوٹ اور کرپشن کی سیاست کو دفن کریں، عوام کے ساتھ ساتھ کارکنوں کو ان کا مقام دیں۔ بے نظیر بھٹو کا دن منانے یہ طریقہ نہیں نہ ہم سیاست کا مرکز ایک صوبہ بنا لیں، اس سوچ کو ختم کرنا ہو گا کہ اگر زیادتی ہوئی تو ہم اپنے صوبے سے گیس بند کر دیں گے۔ صوبائی سوچ کو پروان چڑھانا بے نظیر بھٹو کے اصولوں کی نفی ہے۔ بے نظیر بھٹو نے جیل برداشت کر لی، جلاوطنی قبول کی اور اقتدار سے محروم ہونا گوارہ کر لیا لیکن قومی سوچ کو کبھی نہیں چھوڑا۔ مجھے آج بھی بے نظیر بھٹو کا معقولہ یاد آتا ہے وہ کہتی تھیں کہ ’’آپ کسی شخص کو جلاوطن تو کر سکتے ہیں لیکن اس کے نظریے اور بنیادی تصور کو نہیں، اسے جیل میں تو بند کر سکتے ہیں لیکن اس کے خیال یا تصور کو نہیں۔ اسی طرح آپ کسی شخص کو جان سے تو مار سکتے ہیں یا پھانسی پر چڑھا سکتے ہیں لیکن اس کی سوچ اور نظریے کو نہیں۔‘‘
بے نظیر بھٹو ایک سوچ کا نام تھا، ایک فکر کا نام تھا، جمہوریت کا نام تھا، مفاہمت کا نام تھا، عوامی فلاح و بہبود کا نام تھا اور عدلیہ اور میڈیا کی آزادی کا نام تھا۔ آئیے بے نظیر بھٹو کی روح کو تسکین پہنچانے کیلئے ان کے دئیے ہوئے راستے کو مشعل راہ بنائیں۔