کیا مارشل لاء ایک آپشن ہے؟

جناب الطاف حسین کی افواج پاکستان کے دیانت دار جرنیلوں کو یہ دعوت کہ وہ آگے بڑھیں اور جاگیرداروں اور وڈیروں کی زمینیں غریبوں میں تقسیم کرنے کے مقصد کے حصول کیلئے مارشل لاء لگائیں، ناقابل فہم ہے۔ اس سلسلے میں مندرجہ ذیل حقائق ذہن میں رکھنے ضروری ہیں۔
(1) الطاف حسین ایک ایسی جماعت کے رہنما ہونے کی حیثیت سے جس کے قومی اسمبلی میں 25 ممبران ہیں، ایک اہم سیاسی قائد ضرور ہیں لیکن یہ بات بھی اہم ہے کہ پچھلے 18 برسوں سے وہ پاکستانی عوام سے بالکل کٹے ہوئے ہیں اور بیرون ملک رہائش پذیر ہیں۔ اسکے علاوہ ان کی ساری تگ و دو کے باوجود ان کی جماعت ایک علاقائی جماعت ہے‘ اسکے علاوہ ہندوستان میں جا کر انہوں نے ڈنکے کی چوٹ پر تقسیم ہند کو ایک غلطی بھی کہا تھا۔ مہاجر قومی موومنٹ کو متحدہ قومی موومنٹ میں بدلنے کا ان کا عمل بہرحال قابل تحسین ہے لیکن ان کو پاکستانی عوام کے دلوں میں گھر بنانے کیلئے پاکستان آنا پڑیگا اور اپنی جماعت کے سافٹ امیج کو بہتر بنانے کیلئے دیانتداری سے مخلصانہ کوششیں کرنی پڑیں گی۔ پھر جب وہ پاکستان سے وڈیرہ کلچر ختم کرنے کیلئے باہر نکلیں گے تو عوام کا ایک سمندر انکے ساتھ ہوگا۔ چونکہ جاگیردار اور وڈیروں نے ملکی سیاست اور معیشت کو اپنے شکنجے میں لیا ہوا ہے اور الطاف حسین جب ان سے چھٹکارے کی بات کرتے ہیں تو وہ عوامی سوچ کی ترجمانی کرتے ہیں۔
(2) دوسری اہم بات یہ ہے کہ مہذب معاشروں میں عام لاء کی بات ہوتی ہے، مارشل لاء کی نہیں۔ افواج پاکستان کو ملکی باگ ڈور سنبھالنے کی دعوت دینے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ چھ لاکھ کی فوج کو موثر طریقے سے تربیت دینے، مکمل پیشہ ور بنانے اور قومی سلامتی کیلئے اسکے جن کی استعمال کے واسطے ڈیفنس پالیسی، ملٹری سٹریٹجی، لینڈ، ایئر اور نیول افواج کے آپریشن کیلئے حکمت عملیاں تیار کرنے کیلئے کل وقتی سروس چیفس کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب آرمی کمانڈر ملکی معاملات چلانا شروع کر دیتا ہے تو افواج پاکستان کی بطور قومی ادارہ اور ملکی ساکھ بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ پھر فوجی ڈکٹیٹر کی غلط پالیسیوں کا سارا نزلہ فوج کے ادارے پر گرتا ہے اور ڈکٹیٹر کی کامیابیوں کا سارا کریڈٹ وہ سیاستدان لینے کی کوشش کرتے ہیں جو آمر کو سپورٹ کر رہے ہوتے ہیں‘ اس لئے یہ گھاٹے کا سودا ہی ہے۔ لال مسجد، بگتی قتل اور ججز سے زیادتی کے الزامات جنرل مشرف پر اور ڈالر کی قیمت، زر مبادلہ کے ذخائر، جی ڈی پی اور فلائی اوور اور سڑکوں کا کریڈٹ سارے سیاست دانوں کیلئے!! مذکورہ بالا حقائق کے باوجود جب تک ہمارے ملک میں حکمرانی مضبوط نہیں ہوگی، لوگوں کو انصاف نہیں ملے گا، ان کو بھوک اور افلاس سے تھوڑی سی بھی ریلیف نہیں ملے گی، انکے بچے دودھ کیلئے اور بزرگ دوائیوں کیلئے ترستے رہیں گے اور انکی جان اور مال محفوظ نہیں ہو گی تو لوگ فوج کو ہی اپنا مسیحا سمجھتے رہیں گے۔
مسلم لیگ کے صدر جناب میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ بدترین جمہوریت بھی ڈکٹیٹرشپ سے بہتر ہوتی ہے۔ ان کا یہ کہنا تو سر آنکھوں پر لیکن اب تو ملک میں بدترین جمہوریت بھی نہیں بلکہ انارکی ہے۔ دنیا کی کسی بھی بدترین جمہوریت میں یہ ہوتا دکھا دیں جو چند دن پہلے سیالکوٹ میں دو نوجوان طلباء کے ساتھ پولیس اور ایک مجمعے کی موجودگی میں ہوا ہے اور پھر جس سنگ دلی اور بے رحمی کے اس مظاہرے کو ہمارے میڈیا نے بار بار ہر چینل پر دکھایا ہے حالانکہ ان کو پتہ ہے کہ ایک کتے کو بھی اس طرح لاٹھیاں مارنے کے عمل کو انسان نہیں دیکھ سکتا۔ میڈیا کے فی زمانہ بہترین کردار کے باوجود ان کا یہ عمل بالکل ناقابل فہم ہے۔ دنیا کی کسی بدترین جمہوریت میں کوئی یہ ثابت کر دے کہ ملک کے چیف لاء آفیسر نے یہ کہا ہو کہ سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل کرنے کیلئے آپ کو میری لاش پر سے گزرنا ہوگا۔ دنیا کی کسی بدترین جمہوریت میں یہ ثابت کر دیا جائے جس میں اسمبلی سے باہر بیٹھا ہوا ایک سیاسی جماعت کا نابالغ سربراہ بھی وزیراعظم سمیت ہر اس رکن اسمبلی کی رکنیت ختم کر سکتا ہو جو پارٹی لائن سے اتفاق نہ کرے۔دنیا کی کسی بدترین جمہوریت میں بھی نہیں ملے گا کہ جعلی ڈگری کے چارج پر عدالت سے جان چھڑا کر بھاگنے والا دوبارہ اسی اسمبلی کا رکن بن جائے اور قانون خاموش رہے!
دنیا کی کوئی ایسی جمہوری حکومت بتا دیں جس میں اتنے وزیر اور مشیر ہوں جو پاکستان میں ہیں۔ دنیا کی کوئی ایسی بدترین جمہوریت بتا دی جائے جس کے سیاستدانوں پر اربوں ڈالرز کا مال و دولت اور جائیدادیں بیرون ملک رکھنے کا الزام ہو اور جس کے ثبوت بھی کافی حد تک موجود ہوں جو سب کچھ مال حرام سے بنا ہو اور وہ سیاسی وڈیرے ملکی پہلوئوں کی بجائے اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے ہوں۔ دنیا کی کوئی ایسی کمزور ترین اور بدترین جمہوریت بتا دی جائے جس میں برسر اقتدار جماعت کی قائد بے رحمی سے قتل کر دی جائے اور وہ جماعت اپنی اس بین الاقوامی سطح کی قائد کے قتل کی سنجیدگی سے تفتیش کروانے پر بھی آمادہ نہ ہو۔
کاش ہمارے ملک میں بدترین جمہوریت ہی ہوتی تو پھر ہم اس کو بہترین بنانے کی کوشش کرتے۔ ابھی تو جنگل کا قانون ہے۔ میاں نواز شریف صاحب بتائیں طاقت کا منبع صدر ہے، وزیراعظم ہے، اسمبلی ہے یا کابینہ ہے؟ بیرونی خطرات مشرقی اور مغربی سرحدوں پر ہر وقت منڈلا رہے ہیں۔ اندرون ملک را، موساد، سی آئی اے اور بلیک واٹر کے ایجنٹوں کا جال ہے۔ سیلاب کی قدرتی آفت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ہم سب کو ایک اور آزمائش میں بھی ڈال دیا ہے اور اس پر طرہ یہ کہ ملک کے چیف ایگزیکٹو جو آئین اور قانون کے مطابق ہر چیز کا ذمہ دار ہے، کی کوئی بات سننے کو تیار نہیں حالانکہ میرا خیال ہے کلین کمیشن ایک دیانتدار حکومت کا کوئی نعم البدل نہیں ہو سکتا اور سنجیدہ طبقہ یہ بھی کہتا ہے کہ پاکستان پر اس وقت Pro India سیاسی اتحاد قابض ہے۔ 50 لاکھ کی امداد لے کر ہم اس بات کا تاثر بھی دے رہے ہیں کہ جو کچھ ہندوستان کشمیر، افغانستان، بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں کر رہا ہے وہ ہمیں منظور ہے اور سیاچن پر ہندوستان کا قبضہ بھی جائز ہے۔
قارئین! دنیا کی کسی بدترین جمہوریت میں بھی ایک وزیر کھڑا ہو کر کالا باغ ڈیم جیسے اہم قومی منصوبے کو ایک فقرے میں رد نہیں کر سکتا۔ ایک خالصتاً تکنیکی معاملے کو کسی جمہوری ملک میں کبھی ایک سیاسی ایشو نہیں بنایا گیا۔ کئی ملین لوگوں کی نقل مکانی کر کے چین نے ساری مخالفت کے باوجود تھری گارجز ڈیم (Three Gorges Dam) بنا ڈالا۔ مصر کے کرنل ناصر نے کسی کی پرواہ نہیں کی اور دریائے نیل پر اسوان ڈیم کھڑا کر دیا۔ آج ان کی قومیں خوشحال ہیں۔ ان ساری باتوں کے باوجود مارشل لاء کی بات تو سرے سے ہی ناقابل قبول ہے لیکن موجودہ نظام بھی ہمیں ڈبو دیگا اور انجام مارشل لاء جیسا ہی ہوگی اس لئے حل صرف ایک ہی ہے۔ سیاستدان آپس میں ملکر اگلے انتخابات تک ایک قومی حکومت بنا لیں۔ لیکن ملک میں مارشل لاء نہیں لگنا چاہئے، یہ ہمارا آپشن (Option) نہیں!!!