میڈیا کو کتنا آزاد ہونا چاہئے؟

طارق جان ......
یہ سوال کہ صحافت کتنی آزاد ہونی چاہئے، بذات خود اس امر کی دلیل ہے کہ اس کی آزادی اپنی نفس ذات میں کچھ ایسے مضر پہلو رکھتی ہے جو تکلیف دینے لگی ہے۔ وہ مضر پہلو کیا ہیں۔ انہیں جاننے کیلئے یہ ضروری ہے کہ یہ معلوم کیا جائے کہ میڈیا کن لوگوں کے تصرف میں ہے؟ ہمارے ہاں میڈیا میں پانچ قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں۔
… سینہ کوب، جو ہر وقت اپنے اوپر کربلا طاری رکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ قوم بھی ان کی سینہ کوبی کے عمل میں شامل ہو جائے۔
…قنوطیئے یا یاس زدہ جنہیں یاس اور دکھ کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔
… تشکیک پسند یا سنکی جو ہر بات کو جھٹکتے ہیں اور معاشرہ کے مثبت پہلوئوں کو نظرانداز کر کے منفی ذہن پھیلاتے ہیں۔
… برخود غلط، جو مقام اولیٰ پر بیٹھ کر بات کرتے ہیں اور اپنا حق سمجھتے ہیں کہ عوام کو ان اخلاقی قدروں سے محروم کر دیں جو ان کے تاریخی تشخص کو موجودہ زمانہ میں ممکن بناتے ہیں اور اس طرح ایک اجنبی معاشرتی ایجنڈے کو ان پر مسلط کر دیں۔
… رجائیے یا رجائیت پسند، جو تنقید کرنے سے گریز نہیں کرتے لیکن دور سرنگ کے پار انہیں روشنی بھی نظر آتی ہے۔
انکے علاوہ مالکان کا طبقہ ہے جنہیں الاماشااللہ دولت اور طاقت کے حصول سے غرض ہے۔ انکے اخبارات میں کیا شائع ہو رہا ہے یا ٹی وی پر کیا آ رہا ہے، یہ شاید ان کی دلچسپی کے زمرے میں نہیں آتا۔
ان میں سے پہلے چار بظاہر نفسیاتی عوارض میں مبتلا نظر آتے ہیں لیکن ایسا ہے نہیں سینہ کوبی ہو یاس زدگی، سنکی پن ہو یا تشکیک پسندی یا پھر برخود غلط ذہنیت، سب شعوری طور پر اختیار کئے ہوئے راستے ہیں۔ دیوانہ بکار خود ہوشیار کے مصداق، ان کی دیوانگی دانستہ مسلط کردہ ہے۔ وہ آزادی رائے سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے وطن عزیز کی اساسیات کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔
یہ نفسیاتی جنگ کا مسلمہ قاعدہ ہے کہ ایک دشمن ملک دوسرے کیخلاف جسے وہ زیرکرنا چاہتا ہے یاس، محرومی، تشکیک، سنکی پن اپنے وجود سے نفرت، شکستگی، عدم خوداعتمادی اور مستقبل کے بارے میں مایوسی پھیلائے اور معاشرے کے مختلف گروہوں میں منافقت، تنگ دلی اور عصبیت کو ہوا دے تاکہ ایک ہی وطن کے باسی ایک دوسرے سے محاذ آرائی کے راستے پر چل پڑیں اور اس طرح ملکی وحدت کو منتشر کر دیں۔
اسی طرح طے شدہ اساسی امور کو بار بار چھیڑیں تاکہ جس چیز نے انہیں باندھا ہوا تھا وہ متنازع ہو کر بے اثر ہو جائے۔ اس کیلئے ظاہر ہے میڈیا ہی کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔ سیکولر لابی کے جو لوگ یہ کام کر رہے ہیں وہ جانے پہچانے ہیں۔
جہاں تک حکومت اور میڈیا کے ابدی تنازعے کا تعلق ہے، ہمارے ہاں میڈیا کو اسی وقت پابند کیا جاتا ہے جب حکومت کی طر ف سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ میڈیا اپنی حدود کا احترام کرے اور ایسے ہی وقت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ میڈیا غیرذمہ داری کا مظاہرہ کر رہا ہے۔
پیپلز پارٹی حکومت کا مسئلہ کچھ اور ہے وہ غلط کام بھی کرنا چاہتی ہے اور اس پر کسی طرف سے گرفت بھی پسند نہیں کرتی‘ اس لئے جب کسی غلط کام کی نشاندہی کی جاتی ہے تو اس کا رویہ ایسا ہے جیسے چور چوری کرتے ہوئے پکڑا گیا ہو۔ پیپلز پارٹی حکومت کا مسئلہ ایک اور بھی ہے۔
’’ماضی میں وہ دو دفعہ اقتدار میں آئی۔ ہر دو بار وہ خیانت، بدنظمی اور چوری کی مرتکب ہوئی، نتیجتاً اسے نکالا گیا لیکن چونکہ میڈیا میں اس وقت وسعت نہیں تھی بالخصوص الیکٹرانک میڈیا میں، وہ اندھیرے میں وارداتیں کرتی رہی اور عوام بے خبر رہے۔ بے نظیر بھٹو کی حکومت میں جب اس کی حد درجہ خراب کارکردگی پر گرفت کی گئی اور مختلف کہانیاں مرکزی کرداروں کے حوالے سے گردش کرنے لگیں تو کسی نے ان سے کہا کہ عوام میں ان کی ساکھ گر رہی ہے تو انکے منہ سے بے ساختہ یہ تاریخی فقرہ نکلا ’’آپ فکر نہ کریں۔ ہمارے ووٹر اخبارات نہیں پڑھتے۔‘‘
ابھی بھی غالباً پیپلز پارٹی کی یہی سوچ ہے۔ وہ عوام کو بے وقوف سمجھتی ہے، اسکا خیال ہے کہ اگر میڈیا بیچ میں نہ پڑے تو عوام کو بے وقوف بنا کر رکھا جا سکتا ہے۔ یہی کم و بیش علاقائی اور لسانی جماعتوں کا بھی رویہ ہے۔ یہ رویہ اپنی جگہ لیکن بہرطور حقیقت یہی ہے کہ طاقتور میڈیا اور وہ بھی اتنا وسعت پذیر جتنا آج ہے اور جس کی غیرمشروط آزادی اور توانائی پر امریکہ اور یورپ حیران ہیں۔ حکومت کیلئے مسئلہ بن گیا ہے۔
بقول ایک وزیر مملکت کے حکومت میڈیا پر خود کش حملے کر رہی ہے اور جواباً انہوں نے ٹارگٹ کلنگ شروع کر دی ہے۔ یہ اچھی صورتحال نہیں لیکن وجہ ظاہر ہے جب برسراقتدار لوگ یہ کہیں کہ ہمارے اوپر تنقید مت کرو اور میڈیا یہ کہے ہمیں حق ہے کہ ہم جو کہیں اور جیسے کریں آپ ہمیں روک نہیں سکتے یا یہ کہ میڈیا نے آزادی چھین کرلی ہے تو پھر یہ بعدالمشرقین کا مسئلہ ہے جس پر پل نہیں بنایا جا سکتا۔
بدقسمتی سے ہمارے ہاں مسخرہ پن کچھ زیادہ ہی ہے۔ ہر کوئی اپنے لئے اختیارات سے متجاوز حق مانگتا ہے۔ بالفاظ دیگر، وہ غیرمشروط آزادی اپنے لئے مانگتا ہے اور پابندی دوسروں کیلئے‘ مثلاً کئی دہائیوں سے برسراقتدار لوگ میڈیا کیلئے ضابطہ اخلاق کی بات کرتے ہیں مگر کوئی خاکہ جس پر میڈیا عمل کر سکے پیش نہیں کرتے۔ جب معاملہ میڈیا پر چھوڑا جائے کہ وہ خود کسی ضابطہ اخلاق کا پابند ہو تو وہاں سے بھی پیش رفت نہیں ہو پاتی لیکن یہ مسئلہ اتنا بھی پیچیدہ نہیں کہ اس کا حل نہ ڈھونڈا جا سکے، البتہ چند شرائط ہیں جن کو دونوں فریقین کو تسلیم کرنا پڑیگا۔ پہلے قدم پر حکومت کو چاہئے کہ وہ میڈیا کا حق تسلیم کرے کہ وہ اسکے غلط طرز عمل کو عوام کے سامنے پیش کریگا۔
حکومت کا میڈیا کی تنقید پر مبالغہ آمیز حد تک حساس ہونا بذات خود ایک بیماری کی علامت ہے، جسے دور کرنا نہ صرف میڈیا کا فرض ہے بلکہ عوام کا حق بھی ہے۔ سمجھدار حکومتیں جو عوام کے سامنے اپنے آپکو جوابدہ محسوس کرتی ہیں وہ نہ صرف صحیح مشورہ کی طالب ہوتی ہیں بلکہ اپنے طرز عمل کے ہر وقت احتساب کی بھی متمنی ہوتی ہیں تاکہ خرابی کا سدباب کیا جا سکے۔ اسی طرح وہ عدلیہ کو بھی اپنا معاون سمجھتی ہیں، میڈیا اور عدلیہ کے اشتراک سے اچھی حکمرانی ممکن بنائی جاتی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے پیپلز پارٹی ہمیشہ تضادات کا شکار رہی ہے، وہ جاگیرداروں اور وڈیروں کی حکومت کو عوام کی حکومت کہتی ہے۔ وہ لاقانونیت کرتی ہے اور قانون کی گرفت سے بچنے کیلئے عوام کی دہائی دیتی ہے۔ اسکے نزدیک ’’عوام کی عدالت‘‘ اگر انہیں ووٹ دیدے تو پھر وہ تنقید اور قانون دونوں سے بالا ہیں۔ یہی وجہ ہے وہ میڈیا سے سینگ لڑاتے ہیں، عدلیہ کو آنکھیں دکھاتے ہیں اور فوج پر چنگھاڑتے ہیں۔
حکومت اور میڈیا کے تنازع میں ایک اور افسوس ناک پہلو یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ حکومت اپنی کارکردگی پر تنقید کے بارے میں تو شمشیر برہنہ ہے لیکن جب میڈیا کا ایک حصہ خود پاکستان کے وجود پر تیغ زنی کرتا ہے اور بار بار کوشش کرتا ہے کہ برطانوی ہند کی تقسیم کو غلط ثابت کرے تو حکومت کو کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ حالانکہ قوانین موجود ہیں جن کے تحت ایسے اخبارات اور ٹی وی چینلز کو سزا دی جا سکتی ہے۔ یہ پہلو اس لئے بھی افسوسناک ہے کہ حکومت کا اولین دستوری فریضہ مملکت کی حفاظت اور استحکام ہے۔
میڈیا کے رویے میں بھی خامیاں ہیں جن کی وجہ کچھ مفروضے اور کچھ تلخ حقیقتیں، مثلاً میڈیا کو یہ خناس ذہن سے نکال دینا چاہئے کہ آزادی غیرمشروط ہوتی ہے۔ ایسی آزادی اس کرہ ارض پر کہیں بھی نہیں کیونکہ ایسی آزادی کا مدار نہ ہو بالآخر افراتفری کی طرف لے جاتی ہے جس سے معاشرے اور قومیں کمزور ہوتی ہیں۔ اس طرح میڈیا کو اس پہلو پر بھی توجہ دینی چاہئے کہ اگر انکے حقوق ہیں تو اس ریاست اور مسلمان معاشرہ کے بھی کچھ حقوق ہیں جس کے وسائل سے وہ مستفید ہوتے ہیں۔ بہرحال آزادی کی بھی کچھ حدود و قیود ہوتی ہیں بالخصوص پاکستان ایسے اسلامی جمہوری ملک میں!
میڈیا اور حکمرانوں کے اس تنازعہ میں ایک تیسرا فریق بھی ہے اور وہ عوام پاکستان ہیں جو فی الحال خاموش ہیں مگر اندر سے پریشان ہیں۔ اخبارات کے بعض کالم اور ٹی وی کے بعض ٹاک شوز اور ڈرامے ان کے ذہن میں کئی سوالات اٹھاتے ہیں جن کا جواب انہیں نہیں مل رہا۔ وہ سوچتے ہیں یہ کیسے لکھنے والے اور باتیں کرنیوالے لوگ ہیں اور کس ملک کے باسی ہیں کہ اپنے ملک کے وجود کو اسکی مسلم شناخت کو، اس کی اخلاقی قدورں کو للکارتے پھرتے ہیں اور یہ کون مالکان اور کارندے ہیں جو انہیں ایسی گفتگو کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
بات کھول کر بیان کی جائے تو پوچھا جا سکتا ہے کہ میڈیا کو کس نے یہ اختیار دیا ہے کہ وہ پاکستان بطور ریاست کو مطعون کریں یا یہ کہیں کہ پاکستان کی ضرورت نہیں تھی اور یہ کہ پاکستان کی تخلیق مذہبی تنگ نظری کی مرہون ہے، یا یہ کہ پاکستان سامراجی سازش کا نتیجہ ہے، وگرنہ استغفراللہ ہندو اور مسلمان ایک قوم تھے۔ ایسا کفر سیکولر حضرات ہی تخلیق کر سکتے ہیں۔ اسی طرح میڈیا کو کس نے یہ حق دیا ہے کہ وہ نظریہ پاکستان کو اس صدی کا سب سے بڑا جھوٹ قرار دے، اور اس طرح وہ اس تاریخی اجماع کو توڑنے کی کوشش کرے جسے خود پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی نے قرارداد مقاصد کا نام دیا اور بعد میں اسے ذوالفقار علی بھٹو نے 1973ء کے دستور میں رہنما اصول کا مقام دیا۔ یعنی ایسے اصول جن سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کی سمت کا تعین ہوتا ہے۔ بالفاظ دیگر وہ تمام دستوری موضوعات جو قومی اجتماع کے نتیجہ میں 1947ء کے عشرے میں طے ہو گئے تھے انہیں بار بار ٹاک شوز اور پرنٹ میں زیربحث لانا، ان پر طعن اور طنز کرنا دنیا کے کس جمہوری اور دستوری قواعد میں درست سمجھا جاتا ہے۔
یہ حق نہ دستور پاکستان میڈیا کو دیتا ہے اور نہ ہی معاشرتی و سیاسی تقاضے۔ میڈیا کا یہ کہنا کہ یہ ہمارا بنیادی حق ہے ایک کمزور موقف ہے کیونکہ کوئی بنیادی حق اپنے اطلاق اور عمل پذیری میں ایک مخصوص متن رکھتا ہے جس سے کاٹ کر اس کا اظہار ایک مہمل حرکت بن جاتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں کوئی معاشرہ اسی وقت بنیادی حقوق دیتا ہے۔ جب اسے یقین ہو کہ ایسا حق اس کی بقاء سلامتی، استحکام اور انصاف قائم رکھنے میں معاون ہو گا لیکن اگر یہی حق معاشرے میں انتشار پھیلانے، اس کی قوت مدافعت کو کمزور کرنے اور اسے احساس کمتری اور یاس میں مبتلا کرنے کیلئے استعمال ہو تو پھر یہ سند جواز کھو بیٹھتا ہے۔ اسکی سیدھی سادی مثال حق احترام زندگی ہے۔
ریاست کا فرض ہے کہ وہ اپنے شہری کو تحفظ ذات دے لیکن اگر وہی شہری کسی کو قتل کرتا ہے یا ریاست کیخلاف ہتھیار اٹھاتا ہے تو وہی ریاست اسے خود مارنے پر تل جاتی ہے۔ یہی حال آزادی رائے کا بھی ہے۔
ظاہر ہے ایسی صورتحال جو متضاد کے ٹکرائو کے باعث بنی ہو ‘ کے حل کا ایک ہی راستہ ہو سکتا ہے کہ موضوعی موقف کی بجائے معروضیت کو پیش نظر رکھا جائے کیونکہ معروضیت سے ہی ہمیں وہ میزان مل سکتی ہے جس سے ہم انفرادی اور ادارتی رویوں کو صحیح یا غلط کہہ سکتے ہیں۔
یہ معروضیت اس صورت میں ممکن ہو گی جب ہم اسے دستور پاکستان سے لیں گے۔ دستور پاکستان میں شق 2۔ الف 227، 31، اور 40، اس ضمن میں بڑی اہم ہیں جن سے معاشرے اور ریاست کے مختلف شعبہ جات اور اداروں میں ہم آہنگی پیدا کی جا سکتی ہے اور اس طرح انتشار اور تباہی سے بچا جا سکتا ہے۔ ان شقوں کے مطابق پاکستانی ریاست پر لازم ہے کہ وہ مسلمان شہریوں کیلئے ایسا ماحول پیدا کرے کہ وہ اپنی زندگیاں اسلامی قدروں کیمطابق گزاریں لیکن ہمارے ہاں اسلامی نظام پر تبریٰ بھیجا جاتا ہے اور لادین نظریات کی ترویج کھلم کھلا کی جاتی ہے۔ بہت سی علاقائی پارٹیوں بشمول ایم کیو ایم نے اور خود پی پی پی نے سیکولرازم اور لسانیت پر مبنی سیاست شروع کی ہوئی ہے۔
یہ شقیں ہمیں یہ بھی بتاتی ہیں کہ مسلمان معاشرہ میں فحاشی کی حوصلہ شکنی کی جائیگی۔ ریاست بذریعہ تعلیم، میڈیا اور قانون ملک میں وحدت پیدا کرے لیکن یہاں لسانی سیکولر گروہوں نے ملک کو لسانیت کے نام پر تقسیم کرنے کا کام شروع کیا ہوا ہے اور اب تو ایک دوسرے کو دشنام طرازی اور زبان اور علاقے کے نام پر مارا بھی جا رہا ہے۔
آئین پاکستان یہ بھی تاکید کرتا ہے کہ خارجہ پالیسی کا رجحان مسلم ممالک کی طرف سے ہونا چاہئے اور ان سے برادرانہ تعلقات اور اسلامی بنیادوں پر اتحاد اور وحدت ہونی چاہئے مگر ہمارے ہاں میڈیا نے الاماشااللہ ’’امن کے نام‘‘ پر مہم شروع کی ہوئی ہے کہ کسی نہ کسی طرح پاکستان کو انڈیا کی جھولی میں ڈال دیا جائے۔ ایسے تضادات میں کوئی قوم آگے نہیں بڑھ سکتی۔ اس ضمن میں یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ آزادی رائے جو کسی آئینی اور اخلاقی دائرہ میں ہو وہ نعمت خداوندی ہے‘ اس لئے اسکے اظہار کیلئے ضروری ہے کہ اسکی پشت پر ایک مضبوط ناقابل تنسیخ دستاویز ہو جس سے ہر کوئی فرد اور ادارہ رجوع کر کے ہدایت لے سکے اور جسے کوئی حکومت یا عدالت نہ منسوخ کر سکے نہ اس پر پابندیاں لگا سکے۔
میڈیا کیلئے ممکنہ ضابطہ اخلاق
پریس ہمارا وہ اہم ترین ادارہ ہے جو اہم قومی مسائل پر عوامی رائے کی تشکیل کرتا ہے۔ اگر اس کا انداز ملک دشمنی کا آئینہ دار اور سنکی ہو اور یہ ایک مسلسل مہم چلائے رکھے جس سے کہ ہماری پاکستانی قومیت پر ابہام کے سائے گہرے ہوتے رہیں تو اس سے لوگوں کا اپنے ملک اور اسکے مستقبل پر اعتماد کمزور ہوتا جاتا ہے۔ اس سے ہماری قومیت کی یہ عجیب تصویر بنتی ہے اور جمہوریت کا ہمارا یہ نرالا شعور بھی سامنے آتا ہے کہ ہم خواہش تو رکھتے ہیں کہ ہم ایک مہذب معاشرہ کے طور پر زندہ رہیں لیکن آزادیء اظہار کے نام پر افراتفری کا طوفان بھی برپا کئے رکھتے ہیں۔ میڈیا، خواہ اخباری ہو یا الیکٹرانک، لازماً ایک ضابطہ اخلاق کا حامل ہونا چاہئے جس کی پوری سختی سے پیروی ہو۔ مملکت کے مفاد کا تقاضا ہے کہ ذیل کا مجوزہ ضابطہ اخلاق اختیار کیا جائے۔ اس ضابطہ کی بنیاد پاکستان ضابطہ فوجداری شق 123۔اے اور دستور پاکستان کی شق 2۔ الف، 31، 40اور 227ہونی چاہئے۔ ان کی روشنی میں جو ضابطہ اخلاق بنے گا۔ وہ مندرجہ ذیل پہلوئوں کا احاطہ کریگا۔
… میڈیا کسی اخبار، رسالے یا ٹی وی چینل کو ایسے کسی بیان یا تحریک کی اشاعت کی اجازت نہیں دیگا جو پاکستان کی تخلیق یا اسکے جغرافیہ اور اقتدار اعلیٰ کے منافی ہو۔
…میڈیا پاکستان کو ہندوستان میں ضم ہونے یا اس سے کسی طرح کے الحاق کے تصور کو پھیلانے میں کوئی مدد نہیں دیگا۔ پریس نہ تو خود یہ سوال اٹھائے گا نہ ایسے کسی مباحث کی حوصلہ افزائی کریگا جس میں پاکستان کے مقصد تخلیق کو محل اعتراض بنایا گیا ہو اور اسکی بقا پر بہتان طرازی کی گئی ہو۔
… میڈیا کوئی ایسی چیز شائع نہیں کریگا جو کسی فرد، یا پوری قوم یا معاشرے کے کسی گروہ کو اس طرح متاثر کرتا ہو کہ جس سے پاکستان کی سلامتی پر حرف گیری ہوتی ہو یا اس کا اقتدار اعلیٰ خطرے میں پڑتا ہو۔
… میڈیا کوئی بالواسطہ یا بلاواسطہ تعاون ایسے گروہوں کو فراہم نہیں کریگا جو نفرت اور نسلی اور لسانی عصبیت کی سیاست کرتے ہوئے وفاق سے علیحدگی کی بات کرتے ہوں اور جس سے مسلم شعور و آگہی متصادم ہوں۔
…میڈیا فحش اشتہارات اور تفریحی پروگراموں میں لچر پن اور عریانی سے گریزکریگا۔ ہندوستانی فلمیں اور ڈرامے نہیں دکھائے گا۔
… میڈیا دستور میں واضح طور پر بیان شدہ اسلامی نظریہ کو مختلف فیہ بنانے یا اسکی تخریب کے درپے نہیں ہو گا۔
… میڈیا نہ تو کوئی ایسی بات لکھے گا نہ ہی نسلی اور فرقہ وارانہ احساسات کی حوصلہ افزائی یا ایسے گروہ کی حمایت کریگا جن کا عمل پاکستانی قومیت کیخلاف نفرت کی سیاست کی گواہی دیتا ہو۔
… میڈیا اپنی رپورٹنگ میں اس امر کا اہتمام کریگا کہ اس میں توازن ہو، ناانصافی نہ ہو۔ میڈیا کو یہ بھی ممکن بنانا ہو گا کہ رپورٹر خبر کو سیکولرازم، لسانیت یا گروہی تعصبات کا فریم نہیں دیگا۔
… میڈیا ہر اس شخص یا ادارے کو اپنے صفحات میں جگہ دیگا جس کا خیال ہو کہ اسکی ایذا رسانی ہوئی ہے یا اسکی ایسی غلط تصویر کشی ہوئی ہے جس کی اصلاح وہ سمجھتا ہو کہ ضروری ہے۔
یہ ایک سہل قابل عمل ضابطہ اخلاق ہے کیونکہ اس کا خمیر قومی دستور سے اٹھایا گیا ہے۔ اگر اس قسم کے ضابطے کی پابندی نہ کی گئی تو خدشہ ہے کہ غیرمنضبط آزادیٔ رائے ملک میں انتشار اور اعتماد کا بحران پیدا کر دیگی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ عوام اپنے نظریے اور اقدار کو خطرے میں دیکھ کر ’’انتہا پسندی‘‘ کی راہ اختیار کر لیں اور ملک خدانخواستہ خانہ جنگی میں دھنستا چلا جائے۔