صدر پاکستان کا احترام!

سید روح الامین ۔۔۔
برمنگھم میں ہمارے صدر پاکستان پر جوتا پھینک کر پیپلز پارٹی کے کارکن نے صدر زرداری کی جس طرح کھلم کھلا توہین کی یقیناً اس کی یہ ایک انتہائی نازیبا حرکت تھی۔ ہمیں بھی بہت دکھ ہوا لیکن شاید جوتا مارنے والے کو یہ معلوم نہیں تھا کہ صدر پاکستان بہت مضبوط اعصاب کے مالک ہیں۔ ان کی طرف ایک جوتا کیا ہزاروں جوتے بھی اگر پھینکے جائیں تو ان کی بلا سے۔ تقریر ہم نے بھی ٹی وی پر ان کی سنی اور حسب روایت بہت لطف اندوز بھی ہوئے۔ ان کے خطاب کو سننا، سمجھنا اور برداشت کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ دوران تقریر صدر زرداری نے کہا کہ وہ ایک ہی سوچ ہے جس نے بھٹو فیملی کو ختم کیا ہے۔ جس سوچ نے بھٹو کو مارا، اسی سوچ نے مرتضیٰ، شاہنواز اور اب بے نظیر کو شہید کیا اور مزید یہ کہا کہ میں تو محترمہ نصرت بھٹو کو بھی شہیدوں میں شمار کرتا ہوں۔ اب بھی اگر کوئی صدر زرداری کی بھٹو فیملی سے وفاداری پر شک کرے تو اس کی مرضی، صدر زرداری شاید دنیا میں پہلے ایسے ”عظیم“ داماد ہوں گے جنہوں نے اپنی ساس جو کہ ابھی زندہ ہیں انہیں بھی شہادت کا درجہ دے دیا ہے۔ یہ ان کی ”بی بی صاحبہ“ اور بھٹو فیملی سے وفاداری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
اب اگر یار لوگ یہ کہیں کہ مرتضیٰ کے قتل کے تمام نامزد ملزمان صدر زرداری کے عہد میں باعزت بری ہو گئے ہیں تو صدر صاحب کو تو الزام نہیں دیا جا سکتا۔ جہاں تک محترمہ بے نظیر کی شہادت کا تعلق ہے اس حوالے سے صدر صاحب حالانکہ کئی بار کہہ چکے ہیں کہ ہمیں قاتلوں کا علم ہے۔ اس کے باوجود انہوں نے پاکستانی پولیس پر اعتماد نہیں کیا اور اقوام متحدہ کی ٹیم کو قومی خزانے سے اربوں ڈالر دیے تاکہ وہ منصفانہ تحقیق کرے۔ بالآخر صدر زرداری کے بارے ٹیم کو لکھنا پڑا کہ زرداری صاحب یا ان کی فیملی کا محترمہ کے قتل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہمیں اقوام متحدہ کی ٹیم پر بے حد افسوس ہے کہ انہوں نے ہمارے صدر پاکستان کے بارے میں ایسا لکھنے کی ضرورت کیوں محسوس کی۔ کیا انہیں صدر صاحب پر کوئی شک تھا یا کیا صدر پاکستان نے صرف یہ لکھوانے کے لئے انہیں اتنی بھاری رقم دی۔ صدر پاکستان کا مقصد تو صرف شفاف تحقیقات کرانا تھا۔ لہٰذا اس میں وہ کامیاب ہو گئے۔
تین سال سے عوام مہنگائی، بیروزگاری، لوڈ شیڈنگ، کرپشن، لاقانونیت، کے عذاب میں مبتلا ہیں تو اس میں صدر صاحب کا تو کوئی قصور نہیں۔ وہ تو سارے ”اختیارات“ وزیراعظم گیلانی کو دے چکے ہیں اور گیلانی صاحب نے بھی تو تین سال دل موہ لینے والی باتیں کر کے گزار ہی لئے ہیں نا۔
سیلاب کی تباہ کاریوں سے نبرد آزما ہونے کے لئے صدر صاحب نے بیرون ملک چندہ اکٹھا کیا۔ وہ قوم کی خوشحالی کی خاطر بھیک مانگنے سے بھی نہیں گھبراتے۔ چاہے آگے ان کو جوتے ہی کیوں نہ کھانے پڑیں۔ اب بہت امداد مل چکی ہے اور مل رہی ہے۔ اگر یہ امداد ان آفت زدہ لوگوں تک نہیں پہنچ پاتی تو یہ قصور بھی صدر پاکستان کا تو نہیں۔ ان کا کام تو بینکوں میں لا کر دینا ہے۔ آگے وزیروں، مشیروں کا کام ہے۔ صدر صاحب تو ان الزامات سے بچنے کے لئے ایوان صدر سے باہر ملک میں کہیں جاتے ہی نہیں۔ ایوان صدر سے جب بھی نکلتے ہیں۔ بیرون دوروں پر جانے کے لئے۔ پھر بھی ہر کام میں ان پر الزام تراشی کرنا مناسب نہیں۔ صدر زرداری کا احترام کرنا پاکستانی قوم کے لئے ضروری ہے۔ آخر وہ محترمہ کی شہادت کے بعد بھی انہی کے تاحیات شوہر ہیں اور انہیں استثنیٰ بھی حاصل ہے۔