سیلاب کے بارے میں وائس چانسلرز کی ویڈیو کانفرنس کا منظر

پاکستان میں سیلاب سے جو تباہ کاری ہوئی ہے اور جو تباہ کاری ہو رہی ہے اس کا دوسرا اہم مرحلہ اس تباہی اور آفت سے ہونے والے نقصان کا اندازہ کرنا ہے تاکہ امدادی اور بحالیاتی کام کو تیزی اور سرگرمی سے اس طرح مکمل کیا جائے کہ اشیائے خورد و نوش، ادویات اور دیگر موسمی امداد متاثرین تک بروقت پہنچ سکے چنانچہ اس عظیم ذمہ داری سے عہد برآ ہونے کے لئے پاکستان کے دیگر تمام طبقات کی طرح شعبہ تعلیم بھی پوری طرح متحرک نظر آ رہا ہے۔ جس کا ایک ثبوت پاکستان کی مختلف یونیورسٹیز کے وائس چانسلرز حضرات کی وہ فلڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کانفرنس اور ویڈیو ورکشاپ بھی تھی جو 25 اگست 2010ءکو یونیورسٹی آف وٹرنری اینڈ انیمل ہسبنڈری سائینسز لاہور میں منعقد ہوئی۔ انتظامات کے اعتبار سے وہ کانفرنس اور ورکشاپ نہایت اہم تھی کیونکہ اس میں وٹرنری یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے علاوہ پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر، یو ای ٹی کے وائس چانسلر، زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر، یونیورسٹی آف گجرات کے وائس چانسلر اور کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے پرووائس چانسلر کے علاوہ سیکرٹری زراعت پنجاب اور پنجاب اسمبلی کے سپیکر بھی موجود تھے۔ ویڈیو فوٹو سرکٹ کے ذریعے پشاور یونیورسٹی اور علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلرز کے علاوہ ہائر ایجوکیشن کمشن اسلام آباد اور کراچی کی شخصیات نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور وہ تمام سکرین پر نظر بھی آ رہی تھیں مگر صوتی نظام زیادہ بہتر نہیں تھا لہٰذا وہ ویڈیو ورکشاپ اصولاً تکلفات کی گرفت میں رہی اور اس کے وہ نتائج سامنے نہ آ سکے جن سے کم از کم میڈیا کو آگاہ کیا جانا مقصود ہو گا کیونکہ جس طرح تفصیل کے ساتھ اس کانفرنس اور ویڈیو ورکشاپ میں شریک وائس چانسلرز، سیکرٹری زراعت فلڈ ریلیف کمشنر پنجاب اور سپیکر پنجاب اسمبلی کو وہ بتانا چاہئے تھا کہ پاکستان یا کم از کم پنجاب کے کون کون سے علاقے سیلاب کی تباہ کاری سے متاثر ہوئے ہیں اور ان میں امدادی سامان اور دیگر امدادی کام کی رفتار کیا ہے وہ تشنہ اظہار رہی۔ کسی شخصیت نے بھی ایسے امدادی اور نقصاناتی اعداد و شمار پیش نہ کئے جن سے اندازہ ہو پاتا کہ جن اداروں کے سربراہ اس کانفرنس سے مربوط تھے اور جن کے دکھاوے کے لئے میڈیا کو بھی طلب کر لیا گیا تھا وہ ادارے اگر کوئی امدادی کام کر رہے تھے تو وہ اپنے اس امدادی کام کو کس طرح جاری رکھے ہوئے تھے۔ وٹرنری یونیورسٹی کی طرف سے جو پریس ریلیز جاری کیا گیا وہ بھی اتنا جامع اور معلومات افزا نہ تھا کہ اس کو پڑھ کر میڈیا یا میڈیا سے مربوط عوام کی معلومات میں اضافہ ہوتا البتہ اس ویڈیو ورکشاپ کے کنڈکٹر اور وٹرنری یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے اپنی لکھی ہوئی انگریزی تقریر کے ذریعے بتایا کہ سیلاب نے جونہی پنجاب کے بعض علاقوں کو ایک آفت کی طرح آ لیا تو یونیورسٹی نے فوری طور پر آٹھ آٹھ رضاکاروں پر مشتمل پانچ ٹیمیں مختلف امدادی کام سرانجام دینے کے لئے محکمہ لائیو سٹاک کی رہنمائی میں پنجاب کے مختلف آفت و سیلاب زدہ علاقوں میں بھیجیں اور جب وہ ایک ہفتہ کام کر لیتیں تو ان کی جگہ متبادل ٹیمیں کام سنبھال لیتیں۔ آج کی کانفرنس اور ویڈیو ورکشاپ میں یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر کہیں موجود نہیں تھے جبکہ چند روز قبل انہوں نے ٹیلی فون پر ”لاہوریات“ کو بتایا کہ وہ 20 لاکھ روپے سے زیادہ مالیت کا امدادی سامان لے کر مظفر گڑھ اور راجن پور کے سیلاب زدہ علاقوں کی طرف بڑھ رہے تھے مگر جب اس کارخیر کے عوض ان کی ستائش کرنے کی کوشش کی گئی کہ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز نے امدادی کام کے ضمن میں ایک گراں قدر مثال قائم کی ہے تو انہوں نے فرمایا کہ وہ 20 لاکھ روپے سے زیادہ کا سامان یو ایچ ایس نے تو نہیں ”میں نے ذاتی سطح پر جمع کیا اور اب سیلاب زدہ علاقوں میں پہنچنا چاہتا ہوں۔ اس طرح وٹرنری یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے اپنی کارگزاری کی جو رپورٹ پیش کی وہ بھی کچھ حوصلہ افزا تھی۔ انہوں نے بتایا کہ مظفر گڑھ اور راجن پور کے سیلاب زدہ علاقوں میں ان کی امدادی ٹیمیں ابھی تک مصروف ہیں اور پورا سٹاف اور سٹوڈنٹس قابل ستائش انداز میں کام کر رہے ہیں۔ وٹرنری یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے مظفر گڑھ اور لیہ کے علاقوں کا خود بھی دورہ کیا اور اپنی آنکھوںسے دیکھا کہ سیلاب سے اتنی بڑی تباہی ان علاقوں میں پہلے کبھی نہیں آئی تاہم بڑے منظم طور پر ”فلڈ ریلیف کیمپ“ کام کر رہے ہیں اور بچے اپنے شناختی کارڈ دکھا کر دودھ، جوس اور دیگر اشیائے خورد و نوش حاصل کر رہے ہیں۔ وٹرنری یونیورسٹی کے فائنل ایئر کے طلبا نے (جو اب ڈاکٹر ہو جانے والے ہیں) اب تک تقریباً 60 ہزار سے زیادہ مویشیوں کا علاج کیا ہے۔ اس یونیورسٹی سے مربوط خاندانوں اور وٹرنری فارما سیوٹیکل انڈسٹری کے مالی تعاون سے 15 لاکھ روپے کی ادویات بھی فراہم کی گئیں۔ اس ویڈیو ورکشاپ میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی کے سپیکر نے کہا کہ پاکستان میں ایک ایسی آفت آئی ہے کہ جس کے ازالے کے لئے ہم سب آج یہاں اکٹھے ہوئے ہیں چنانچہ ہر پاکستانی کا فرض ہے کہ وہ اپنے متاثرہ بھائیوں کا دکھ بانٹنے کے لئے اپنا بہترین امدادی کردار ادا کرے مگر وہ کسی ایک فرد کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ اس کام کو کر گزرنے کے لئے من حیث القوم ہمیں امدادی کام میں جت جانا ہو گا اور زندگی کے تمام شعبوں کو اس امدادی مہم اور جدوجہد میں شامل ہو جانا ہو گا۔ اس تباہ کن سیلاب سے کتنا نقصان ہوا ہے فی الحال اس کا اندازہ کرنا تو مشکل ہے مگر پاکستان جیسے زرعی ملک میں ”لائیو سٹاک“ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے اور غذائی کمی کا ازالہ بھی کرنا ہو گا۔