جسٹس (ر) میاں نذیر اختر کی طرح شہباز شریف کا ساتھ دیں

نواز خان میرانی ۔۔۔
کسی کو کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ کسی کی نیکی کو سیاست کی نذر کرتے ہوئے اپنے دنیاوی آقا کی خوشنودی کی خاطر تنقید و تخریب کا باعث بنائے جبکہ قادر مطلق اور شہنشاہوں کا شہنشاہ تو کسی کی چھوٹی سے چھوٹی نیکی کو بھی ضائع نہیں کرتا بلکہ آخرت کی زندگی میں (بشرطیکہ اپنے مرنے اور اجرو ثواب پر یقین ہو) اسے ایسے درجات عطا فرماتا ہے کہ اسکے مقدر سنور جاتے ہیں اور کبھی اپنی ناسمجھی اور کم علمی کی بنا پر ایسے کلمات ادا کر جاتا ہے جو خدائے بزرگ و برتر کی نہ صرف ناراضگی کا سبب بن جاتے ہیں بلکہ انسان اپنی عاقبت بجائے سنوارنے کے بگاڑ بیٹھتا ہے۔
شہباز شریف جن کے کام کو جنرل پرویز کیانی سے لیکر اندرون اور بیرون ملک سراہا جا رہا ہو اسے بھی بجائے تعریف کرنے یا اگر تعریف کا ظرف موجود نہ ہو تو بجائے خاموشی اختیار کرنے کے سیاسی بیان بازی کی نذر کر دیا جائے۔ شہباز شریف کے سیاسی حریف کا یہ بیان کہ ہوائی جہاز یا ہیلی کاپٹر سے اترنے کے بعد گدھا گاڑی پر بیٹھ کر سیلاب زدگان کے پاس پہنچ جانے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا اور شہباز شریف یہ سب کچھ ربّ کو راضی کرنے کیلئے نہیں بلکہ اپنی سیاسی دکانداری کی خاطر کر رہے ہیں مگر کیوں کیا ان کی حکومت کو کوئی خطرہ ہے؟
جبکہ ہمارا یہ خیال ہے کہ مسلسل کئی ہفتوں سے رات دن لگاتار پِکنِک ایسے تو نہیں منائی جاتی اور وہ بھی مرے ہوئے انسانوں، گرے ہوئے گھروں، زمین بوس ہو گئی ہوئی عمارتوں اور ہلاک شدہ جانوروں کے درمیان، اگر انسان کا دل حساس ہو اور اسے اپنے اسلاف کی روایات کا پاس ہو تو وہ تو دشمن کے جنازے اور قبرستان میں جا کر بھی رنجیدہ اور سنجیدہ ہو جاتا ہے۔ سیلاب زدگان کے پاس ان کے دور دراز کے علاقوں میں بے دریغ اور سکیورٹی کے بغیر پہنچ جانا، نہایت قابل تعریف ہے اس حوالے سے میاں نواز شریف کا خیبر پی کے کا دورہ کرنا کیا ان کے مخالفین کے منہ بند کر دینے کےلئے کافی نہیں ہے۔ پچھلے دنوں ایک جریدے میں چھوٹی سی خبر تھی کہ جسٹس (ر) میاں نذیر اختر جو کہ پنجاب زکوٰة و بیت المال کے سربراہ ہیں۔ ان کی زیر صدارت ان کے محکمے کا خصوصی اجلاس ہوا۔ جس نے متفقہ فیصلہ کیا کہ محکمے کے پاس موجود چالیس کروڑ کی خطیر رقم سیلاب زدگان کی خدمت کےلئے قائم کردہ وزیراعلیٰ کے فنڈ میں فوری طور پر جمع کرا دی جائے کیونکہ سیلاب زدگان سے زیادہ اس وقت نہ تو کوئی اس رقم کا مستحق ہے اور نہ ہی حقدار۔ اس وقت پنجاب کے مصیبت زدہ علاقوں میں غریب لوگ اپنی مجبوریوں کے باعث ایک لاکھ مالیت کی بھینس، تین تین ہزار میں فروخت کرنے پہ مجبور ہیں بلکہ
ایک شخص نے تو ایک صاحب استطاعت ڈیری فارم والے سے کہا کہ میری چار بھینس رکھ لو۔ زندگی باقی رہی تو دوتم رکھ لینا اور دو مجھے واپس کر دینا۔ ان دکھ بھری داستانوں میں ان کی مدد کیلئے پنجاب بیت المال کے سربراہ کا یہ فیصلہ انتہائی مستحسن ہے۔ اسی طرح دیگر اداروں کے سربراہوں کو بھی وزیراعلیٰ شہباز شریف کے ہاتھ مضبوط کرنا چاہیں۔ جس سے ان کا ضمیر بھی مطمئن ہو گا اور رب بھی راضی ہو گا ہر وقت صرف اپنا ”رانجھا“ راضی نہیں کرنا چاہئے۔ اپنی گرتی ساکھ بحال کرنے کی خاطر کالا باغ ڈیم کے حق میں بھی تو آپ وزیراعلیٰ کے ہم خیال ہیں ذرہ اس کا بھی خیال کریں!!!