تبدیلی اگر ناگزیر ہے

صحافی  |  عطاء الرحمن

الطاف حسین نے مارشل کی دہائی دی ہے تو کئی سیاسی یتیموں کے سوکھے دھانوں پر بھی پانی پڑ گیا ہے۔ انہیں بھی ”اچھے“ دنوں کی یاد نے ستانا شروع کر دیا ہے۔ پاکستان میں لسانی سیاست کے بادشاہ کی ہاں میں ہاں ملائی ہے۔ وہ بادشاہ جو گزشتہ بیس برس سے ملک سے باہر بیٹھا ہے سویلین حکومت ہو تو کراچی جسے وہ اپنی جاگیر سمجھتا ہے فسادات کی نذر ہو جاتا ہے۔ کراچی سول وار کا نقشہ پیش کرتا ہے۔ قطع نظر اس سے کہ بادشاہ کی جماعت حکومت میں شامل ہے یا نہیں، اس نے کسی جمہوری سیٹ اپ کو چلنے نہیں دینا۔ حکومت نالائق ہے یا لائق یہ بعد کی بات ہے۔ فوج کی حکمرانی ہو تو اس کی خفیہ اور کھلم کھلا تائید شامل حال ہوتی ہے۔ تب جاگیردار نظر آتے ہیں نہ بے کس و بے مددگار عوام پر ہونے والا ظلم و ستم نیندیں حرام کرتا ہے۔ اگر اتفاق سے پرویز مشرف جیسا ہم زبان و ہم بیان جرنیل حکومت پر غاصبانہ قبضہ کر لے تو وارے نیارے ہیں۔ بادشاہ کی اس سے وفاداری غیر مشروط ہوتی ہے، تب گرتا ہوا ووٹ بنک بھی سنبھل جاتا ہے۔ مخالفین کا قلع قمع کر کے رکھ دینے کی ایسی کھلی چھٹی ملتی ہے کہ 2006 میں عید میلادالنبی کے موقع پر نشتر باغ کراچی میں ہونے والے تیزی سے ابھرتی ہوئی مذہبی تنظیم کے اجتماع کو لالہ زار بنا کے رکھ دیا جاتا ہے۔ زوردار بم دھماکہ تیر بہدف بن کر جلسے میں موجود مذہبی جماعت کی پوری کی پوری قیادت کو راہی ملک عدم کر دیتا ہے۔ ایک بڑا چیلنج پوری طرح سر اٹھانے سے پہلے دم توڑ دیتا ہے اور اے قارئین آپ کو معلوم ہے 12 مئی 2007ءکو بڑے صاحب کے ایما پر چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو ہوائی اڈے سے نکل کر کراچی شہر میں داخل ہونے سے روکنے کی خاطر بادشاہ کی تلوار نیام سے اس طرح نکلی تھی کہ دو دن میں ساٹھ بے گناہ افراد کی گردنیں کاٹ کر دم لیا تھا۔ پرویز مشرف چیف جسٹس کے خلاف خون کی ندیاں باقی ملک میں بھی بہانا چاہتا تھا خاص طور پر 5 اور 6 مئی 2007ءکو اسلام آباد سے لاہور تک جی ٹی روڈ کے سفر کے دوران، لیکن اس کی خواہش کی تکمیل صرف پاکستان کے سب سے بڑے صنعتی و تجارتی مرکز میں ہو سکی۔
الطاف بھائی نے کسی محب وطن جرنیل کو پکارا ہے وہ اٹھے اور عنان حکومت ہاتھ میں لے کر جاگیر داروں کا تسلط ختم کر کے رکھ دے۔ پہلی بات تو یہ ہے کوئی محب وطن جرنیل آئین توڑنے، اسے کالعدم قرار دینے یا وقتی طور پر اس سے انحراف کرنے کا سوچ نہیں سکتا۔ یہ ملک سے غداری کے مترادف ہے۔ بغاوت کے زمرے میں آتا ہے۔ جس کے دل میں بھی وطن کے لئے شمّہ برابر محبت ہے یہ اقدام نہیں کرے گا۔ پھر کسے نہیں معلوم جس بھی کسی طالع آزما نے آئین و جمہوریت پر وار کیا قعر مذلت میں جا گرا۔ ہر مارشل لاءنے ہمیں پہلے سے زیادہ امریکہ کا غلام بنا دیا۔ حاکمیت اعلیٰ بری طرح مجروح ہوئی۔ جہاں تک جاگیر داری کے خاتمے کا تعلق ہے تو ہماری تاریخ گواہ ہے ہر فوجی حکومت نے آتے ہی انقلاب عظیم کا نعرہ لگایا، تبدیلی کا جھانسہ دیا، اس کے ساتھ بڑے بڑے جاگیرداروں کو اپنا اتحادی بنا لیا، بیورو کریسی کو مطیع کیا، دونوں کی مدد سے ملک کو ہوس اقتدار کی کھیتی بنایا۔ اس کے برعکس ہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں جمہوریت کا تسلسل کبھی نہیں ٹوٹا، آئین ہر حالت میں بالادست رہا، جاگیر داری مدت ہوئی وہاں سے رخصت ہو چکی ہے۔ وہاں بھی کوئی ”محب وطن“ قسم کا جرنیل اگر حکومت پر قابض ہو جاتا تو بھارت پاکستان کے مقابلے میں جلد ٹوٹ جاتا اور جاگیرداروں کا غلبہ بھی برقرار رہتا۔ اے لوگو گواہ رہنا اور ہماری 63 سالہ قومی زندگی بھی اس پر شاہد ہے جاگیردار ہمیشہ جرنیلی حکمرانوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے، دونوں ایک دوسرے کے خلاف نہیں ہو سکتے۔ اگر جمہوریت اور عوامی حکومتوں کا دریا بہتا رہے، کوئی رکاوٹ نہ آئے تو جاگیر داری حقیقی عوامی حکمرانی کی تاب نہ لا سکے گی اسی کے اندر ڈوب مرے گی۔ مارشل لاءوالے تو جاگیردار سیاستدانوں کے کندھوں پر سوار ہو کر مطلق العنانی کے مزے لوٹتے ہیں وہ انہیں کیوں زک پہنچائیں گے۔ الطاف حسین جاگیرداری کے اگر واقعی دشمن ہوتے تو زرداری حکومت کے اتحادی نہ بنتے۔
ان سطور کے آغاز میں سیاسی یتیموں کا ذکر چھڑا تھا جن کے چہروں پر مسکراہٹیں لوٹ آئی ہیں کہ لندن میں پناہ گزین بلبل نغمہ زن ہو کر آمد بہار کی خبر دے رہی ہے۔ مارشل لا پھر آیا چاہتا ہے۔ وزارتیں ملیں گی، اقتدار کی بندر بانٹ میں حصہ وصول کریں گے۔ آزادانہ انتخابات میں کامیابی محال ہے، جمہوریت کبھی راس نہیں آئی۔ ان میں کئی پیشہ ور تو ایسے ہیں کونسلر کا انتخاب نہیں جیت سکتے، ایجنسیوں کی مدد سے سیاسی جماعتوں میں عہدے پاتے ہیں۔ جرنیلوں کی اشیرباد سے وزیر بن جاتے ہیں۔ ضرورت پڑے تو سنیٹر ”منتخب“ کر لئے جاتے ہیں۔ یوں مشاہدوں اور درانیوں کی چاندی ہوتی ہے۔ کچھ وہ ہیں جن کا سیاسی شجرہ نسب انگریزوں کی سرپرستی میں قائم ہونے والی یونینسٹ پارٹی سے شروع ہوتا ہے۔ اسکندر مرزا کی ری پبلکن پارٹی اور ایوب خان کی کنونشن لیگ سے ہوتا ہوا جنرل مشرف کی ق لیگ تک آن پہنچتا ہے۔ یہ چودھری، یہ وڈیرے مارشل لاءکا خیرمقدم نہ کریں تو کدھر جائیں۔ کوئی تو والی وارث ہونا چاہیے۔ حضرت پیر پگاڑا کا میں نام نہیں لوں گا۔ جاگیردار بھی بہت بڑے ہیں اور اپنی زبان حقیقت ترجمان سے ”جی ایچ کیو“ سے وابستگی کا اعلان کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے جو الطاف حسین کی تائید میں آواز بلند کی ہے تو تعجب کی بات نہیں۔ عمران خان کو کیا ہو گیا۔ اس باب میں بھی پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، کرکٹ کے ہیرو اور شوکت خانم ہسپتال کی شاندار خدمت سرانجام دینے والے شہسوار نے سیاست کے میدان میں ہمیشہ ٹھوکریں کھائی ہیں یوں پہلی مرتبہ نہیں ہوا۔ جنرل مشرف کے غیر آئینی اور جعلی ریفرنڈم میں ووٹ ڈالنے میں سب سے آگے کھڑے تھے۔ سرکاری ٹیلی ویژن پر فخر کے ساتھ فوٹو کھنچوائی، غلطی کا اعتراف اس وقت کیا جب پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ گیا تھا۔ آگے چل کر بھی کانوں کو ہاتھ لگائیں گے۔ لیکن گیا وقت واپس نہیں آتا۔ تبدیلی اگر ناگزیر ہے اور واقعی ناگزیر ہے تو سیدھا سادا اور تسلیم شدہ آئینی و جمہوری راستہ اپنا ئیے۔ وسط مدتی انتخابات کا مطالبہ کیجئے۔ آزادانہ اور شفاف چناو کا اہتمام کیجئے۔ جرنیلوں کی بجائے عوام کے پاس جائیے۔ کس نے روکا ہے آپ کو! خدا بھلا کرے چیف جسٹس آف پاکستان جناب افتخار احمد چودھری کا جنہوں نے اس تمنا کا اظہار کر کے طالع آزماوں کے راستے بند کر دیئے ہیں کہ 12 اکتوبر اور 3 نومبر والے حالات پھر کبھی نہ پیدا ہوں۔ اس کا مطلب یہ ہے اس مرتبہ اگر آئین سے انحراف کیا گیا تو عدالت عظمیٰ اس پر خط تنسیخ پھیر دے گی۔ زندہ باد!