ایک دن دکھی بھائیوں کیلئے

اسرار بخاری ۔۔۔
کوئی امیر یا غریب، کوئی محل میں رہتا ہو یا جھونپڑی میں، اپنے گھر میں ہر کوئی عزت دار ہوتا ہے۔ گھر کی چار دیواری جانی و مالی حفاظت ہی نہیں، عزت نفس کے تحفظ کا احساس بھی دلاتی ہے۔ بالخصوص نچلے متوسط طبقے کے لوگ جن کی زندگی بھر جدوجہد ہی بھرم قائم رکھنے میں گزرتی ہے مگر قدرتی آفات سے جب گھروندے ٹوٹتے ہیں تو بھرم بھی ٹوٹ جاتے ہیں اور عزت نفس کی کرچیاں بکھر جاتی ہیں۔ چشم فلک نے دیکھا 2005ء کے زلزلے نے ایسے لوگوں کو ایک وقت کی روٹی کے لئے قطاروں میں کھڑا کر دیا تھا خود جن کے در سے ضرورتمندوں کو روٹی ملا کرتی تھی، قیمتی پوشاکیں پہننے والے اترن پہننے پر مجبور ہو گئے تھے۔ قدرت خداوندی کے مظاہر ہیں انسان عبرت حاصل کرے یا غفلت میں پڑا رہے 2006ء میں زلزلہ زدگان کی پہلی عید آئی تو میری اہلیہ نے تجویز کیا عید کے دن ہسپتالوں میں زیرعلاج متاثرہ افراد سے ملنے جانا چاہئے۔ پھر سوچا گیا کہ میو، گنگا رام، جناح، جنرل سروسز ہسپتال تو شہری آبادی میں بہت لوگ آ سکتے ہیں اس لئے واہگہ بارڈر کے نزدیک گھرکی ہسپتال جانا چاہئے۔ چنانچہ نماز عید کے بعد اہلیہ، دونوں بیٹیوں اور بیٹے کے ساتھ گھرکی ہسپتال پہنچ گئے۔ نماز مغرب تک میری اہلیہ اور بیٹیوں نے زیرعلاج اور ان کے ساتھ آنے والی خواتین اور لڑکیوں سے گپ شپ کی جبکہ میں اور بیٹا خرم مردوں سے ان کے دکھوں کی داستانیں سنتے رہے۔ گھرکی ہسپتال آنے کا فیصلہ یوں درست ثابت ہوا کہ ہمارے سوا کوئی اور ان سے ملنے نہیں آیا۔ البتہ بیگم تہمینہ گھرکی نے ہسپتال کا دورہ کیا اور ہر متاثرہ فرد کو دو، دو ہزار روپے عیدی دی۔ ہماری موجودگی سے متاثرین نے جتنی خوشی کا اظہار کیا اس سے کہیں زیادہ مسرت ہمیں ان کے ساتھ وقت گزار کر ہوئی اور اب ارادہ ہے انشااللہ آنے والی عید سیلاب سے متاثرہ افراد کے ساتھ کسی ریلیف کیمپ میں گزاری جائے۔ یہ سب سنانے کا مقصد دراصل ترغیب ہے کہ قارئین کرام میں سے جن کے لئے ممکن ہو وہ عید کا دن اپنے بے خانماں و برباد بھائیوں کی دلجوئی کے لئے وقف کر دیں۔ اپنے بیوی بچوں یا دوستوں کے ہمراہ کسی کیمپ میں گزرے چند گھنٹے زندگی بھر روحانی مسرت کا احساس دلاتے رہیں گے۔ ہمیں اس حقیقت کا تجربہ ہوا کہ دوسروں کو خوشی دینے کا اجر تصور سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔ اور اگر ہو سکے تو اپنے ہی وطن میں بے گھر ہوجانے والی بچیوں کے لئے عید کے موقع پر استعمال ہونے والی چیزیں ہار، بندے، کلپس، چوڑیاں وغیرہ ضرور لے کر جائیں۔ موجودہ بے سروسامانی کی حالت میں یہ بچیاں ایسی چیزیں پا کر جتنا خوش ہوں گی۔ اس کا اندازہ اور مشاہدہ ان کی خوشی دیکھ کر ہو سکے گا۔ جہاں تک لڑکوں کا تعلق ہے انہیں پیسوں کی شکل میں عیدی سے خوشی ملتی ہے۔
میرے کئی صحافی دوستوں عطاءالحق قاسمی اور حسن نثار نے بجا طور پر ڈاکٹر آصف جاہ کو فرشتہ صفت قرار دیا ہے۔ میری ذاتی معلومات کے مطابق ڈاکٹر آصف جاہ نے زلزلہ کے آفٹر شاکس کے دوران کالا پہاڑ اور دیگر دور دراز اور دشوار گزار علاقوں میں متاثرین کو طبی امداد فراہم کی تھی اور اب وہ اسی جذبہ کے ساتھ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں جہاں خارش جسم میں دانوں اور پیٹ کی سنگین بیماریاں وبا کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔ طبی امداد فراہم کر رہے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں حسب ذیل ادویات کی فوری اور اشد ضرورت ہے جنہیں امدادی اشیاء کا لازمی حصہ بنایا جاناچاہئے۔
SYP BRUFEN, CALPOL CALAMINELOTION, TAB PIRITAN/AVIL. SYP & CAP AMOXIL/ AMPIALLINE, TAB BRUFEN, DICLIRAN, ZANTAC, NAPTROL, BUSCOPAN, METODINE, FLAGYL, POLYCROL, SYP AUGMENTINE/ SEPTRAN/ B-COMPLEX/ FLAGYL/ VENTOLM, TAB CAC-1000, TAB DECALC.
ان کے علاوہ کاٹن رول، پائیوڈین، پٹیاں، گلوز، سرنجیں اور ڈرپس، جو حضرات خود امدادی اشیاء لے کر جا رہے ہیں وہ مندرجہ بالا ادویات میں سے جو ممکن ہیں ساتھ لے کر وہاں قائم طبی مراکز کو عطیہ کریں، ڈاکٹر آصف جاہ کا رابطہ نمبر 0333-4242691 ہے۔