الطاف کا بیان۔۔۔ملکی و بین الاقوامی پس منظرمیں

کالم نگار  |  مطلوب احمد وڑائچ

وطن عزیز نے بدقسمتی کی صورت ا س وقت دیکھی جب بانی پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناح انتقال کر گئے۔ اس کے تھوڑے عرصے کے بعد پاکستان کے پہلے وزیراعظم قائد ملت لیاقت علی خان شہید کر دیئے گئے۔ اس طرح پاکستان اپنے قیام کے ابتدائی ایام میں ہی اعلیٰ قیادت سے محروم ہو گیا۔ اقتدار کی کھینچا تانی میں پہلے دس سال مکمل ہوئے تو اقتدار سکندر مرزا کی جھولی میں آ گرا۔ مرزا صاحب سے اقتدار کے گھوڑے پر کنٹرول نہ رہا تو اس نے اپنے ہی جرنیل ایوب خان کو ملک پر پہلا مارشل لاءلگانے کی دعوت دی۔ مارشل لاﺅں کی ایسی ابتداءہوئی جو ختم ہونے میں نہ آئی۔ بعدازاں ایوب خان نے جاتے جاتے اقتدار ایک جرنیل یحییٰ خان کے حوالے کر دیا۔ اس طرح پہلے دو مارشل لاﺅں کا نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ ہم آدھا پاکستان گنوا بیٹھے۔ پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے باقی ماندہ پاکستان کی ڈوبتی نیّا کو پار لگانے کا بیڑا اٹھایا تو چند سال بعد ہی وہ ملک کو پستی سے نکال کر عروج پر لے گئے لیکن اپنے ہی منتخب کردہ آرمی چیف جنرل ضیاءالحق کے مارشل لاءکا شکار ہو کر پھانسی کے پھندے تک جا پہنچے۔ یہ مجموعی طور پر پاکستان میں لگایا جانے والا تیسرا مارشل لاءتھا جس کے بارے میں ضیاءالحق کا کہنا تھا کہ یہ پی این اے یعنی قومی اتحاد اور عوام کی اپیل پر لگایا گیا ہے۔ پی این اے اور عوام کی مبینہ اپیل کا نتیجہ یہ نکلا کہ عوام کی قسمت میں ضیاءالحق کی منافقت ،کوڑے، پھانسیاں اور تشدد آئے۔ مارشل لاءکے ثمرات سے عوام تو ”محظوظ“ ہوئے ہی اس کے ساتھ ساتھ دیگر تحائف میں ہیروئن، کلاشنکوف کلچر ،45لاکھ افغان مہاجرین اور ایم کیو ایم شامل تھے۔ ساڑھے 11سال تک عوام وطن عزیز میں نازل ہونے والے اس تیسرے مارشل لاءکے عذاب سے باہر نکلے تو صرف 11سال کے اندر چار جمہوری حکومتوں کو سول و ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے چلتا کیا۔ 12اکتوبر1999ءکو جب ملک پر چوتھا مارشل لاءمسلط کیا گیا تو کہا گیا کہ فوج نے عوامی مفاد اور عوامی حلقوں کی ڈیمانڈ پر ٹیک اوور کیا ہے۔ پونے9سال دندنانے والے فوجی دور میں نہ صرف سیاسی روایات کو پامال کیا گیا بلکہ ایک نیا سیاسی کلچر متعارف کرایا اور تسکین طبع کے لیے کئی نئے سیاسی تجربات کیے گئے جس کی بھینٹ قوم کو چڑھایا گیا۔ اس دوران کیا کھویا کیا پایا یہ قوم کو بتانا ضروری اس لیے نہیں کہ نئی نسل کے ذہن میں یہ واقعات ابھی تازہ ہیں۔ بہرحال قوم نے عظیم رہنما محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کو کھودیا۔ قائداعظم اور لیاقت علی خان کے وصال کے بعد وطن عزیز لمبا عرصہ تک قیادت کے بحران میں مبتلا رہا۔ یہ خلا ذوالفقار علی بھٹو نے پُر کیا ۔ اس کے بعد پھر 11سال تک قیادت کا فقدان رہا جو محترمہ بے نظیر بھٹو نے پورا کیا۔محترمہ کی شہادت سے پاکستان ایک مرتبہ پھر قیادت کے بحران میں مبتلا ہو گیا۔ آج ہم یہاں متحدہ قومی موومنٹ کے قائدالطاف حسین کے تازہ ترین بیان جو انہوں نے امریکی ایلچی برائن ڈی ہنٹ سے ملاقات سے صرف دو دن بعد دے کر ملک و قوم کو ایک سیاسی بحران کی طرف دھکیل دیا ہے۔ ہم اس بیان کا مختلف پہلوﺅں سے جائزہ لیں تو بے شمار حقائق سامنے آتے ہیں۔(جاری ہے)